ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 127

فَکَذَّبُوۡہُ فَاِنَّہُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾ۙ
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، سو یقینا وہ ضرور حاضر کیے جانے والے ہیں۔ En
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جائیں گے
En
لیکن قوم نے انہیں جھٹلایا، پس وه ضرور (عذاب میں) حاضر رکھے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 127) {فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَ:} یعنی وہ جھٹلانے کی پاداش میں جہنم میں حاضر کیے جانے والے ہیں، جہاں انھیں جھٹلانے کی سزا مل کر رہے گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

127۔ 1 یعنی توحید و ایمان سے انکار کی پاداش میں جہنم کی سزا بھگتیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

127۔ مگر ان لوگوں نے انہیں جھٹلا دیا لہذا وہ سب (عذاب کے لئے) حاضر کئے جائیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔