ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 125

اَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّ تَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخَالِقِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾ۙ
کیا تم بعل کو پکارتے ہواور بنانے والوں میں سے سب سے بہتر کو چھوڑ دیتے ہو؟ En
کیا تم بعل کو پکارتے (اور اسے پوجتے) ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو
En
کیا تم بعل (نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھوڑ دیتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 125) ➊ { اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا:} قرآن کے متعدد مقامات پر لفظ { بَعْلًا } شوہر کے معنی میں آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۲۸) اور نساء (۱۲۷) اس کا معنی مالک اور آقا بھی ہے۔ مشرک اقوام اس لفظ کو رب یا معبود کے معنی میں استعمال کرتی ہیں، اس لیے الیاس علیہ السلام کی قوم نے اپنے سب سے بڑے بت کا نام بعل رکھا ہوا تھا۔ الیاس علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ کیا تم بعل نامی بت کو پوجتے ہو؟
➋ { وَ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ:} اور بنانے والوں میں سب سے بہتر یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ دیتے ہو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اور بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب پیدا کرنے والوں سے بہتر فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کو جوڑ کر کوئی چیز بنانے پر بھی {خلق} کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً انسان لوہے وغیرہ سے مشینیں اور موٹریں وغیرہ بنا لیتا ہے، مگر ان سب میں وہ اللہ کے بنائے ہوئے مادے کا محتاج ہے۔ اس لیے اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی اللہ ہی کی (خلق) پیدا کردہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۹۶] حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔ البتہ ابتدا میں کسی چیز کو پیدا کرنا یا چیزیں جوڑ کر ان میں روح ڈال دینا صرف اس پاک پروردگار کا کام ہے۔ (دیکھیے حج: ۷۳) اس لیے اسے { اَحْسَنَ الْخَالِقِيْنَ } فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

125۔ تم بعل [72] کو تو پکارتے ہو اور ﴿احسن الخالقين﴾ [73] کو چھوڑ دیتے ہو؟
[72] سیدنا الیاس کا مرکز تبلیغ اور بعل کی پرستش:۔
سیدنا الیاس علیہ السلام، سیدنا ہارونؑ کی اولاد سے ہیں۔ ان کا زمانہ نبوت نویں صدی قبل مسیح ہے۔ ان کا مرکز تبلیغ بعلبک نامی شہر تھا جو شام میں واقع تھا۔ آپ کی قوم بعل نامی بت کی پرستار تھی اور یہی بعل ہی ان کا دیوتا تھا۔ بعل کا لغوی معنی مالک، آقا، سردار اور خاوند ہے اور قرآن میں بعل کا لفظ متعدد مقامات پر خاوند کے معنوں میں استعمال ہوا ہے مگر قدیم زمانے میں سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنوں میں استعمال کرتی تھیں۔ ان لوگوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل (یعنی دوسرے دیوتاؤں یا معبودوں کا سردار) کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ بابل سے لے کر مصر تک پورے شرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی بنی اسرائیل جب فرعون سے نجات پا کر مصر سے فلسطین آکر آباد ہوئے اور ان لوگوں سے شادی بیاہ ہوئے تو یہ مرض ان میں بھی پھیل گیا۔ بعل کے نام کا ایک مذبح بھی بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ عوام تو درکنار فلسطین کی اسرائیل ریاست بھی بعل پرستی میں مبتلا ہو گئی تھی۔
[73] یعنی اللہ کے علاوہ خالق اور بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً انسان میدہ، گھی اور چینی کی آمیزش اور ترکیب سے کئی قسم کی مٹھائیاں وجود میں لاتا ہے اور مادے کے خواص معلوم کر کے نت نئی قسم کی ایجادات کو وجود میں لاتا ہے۔ اسی طرح ایک مصنف چند کتابیں یا تحریریں سامنے رکھ کر ایک نئی کتاب کو وجود میں لاتا ہے۔ یہ سب تخلیقی کارنامے ہیں۔ مگر یہ سب کارنامے ایسے ہیں جن کا مواد پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق نہ مادہ کی محتاج ہے نہ اس کے اوصاف کی کیونکہ مادہ میں وصف پیدا کرنے والا وہ خود ہے پھر اس کے تخلیقی کارنامے اس لحاظ سے انسان کی بساط سے باہر ہیں کہ وہ روح پھونک کر جیتی جاگتی اور نشو و نما پانے والی اشیاء تیار کرتا ہے۔ پھر اس کے تخلیقی کارنامے ایسے ہیں جنہیں انسان کا بنانا تو درکنار انسان سمجھ بھی نہیں سکتا۔ مثلاً انسان کی اندرونی ساخت اور اس کے اعضاء و جوارح کے وظائف اور وہ قوتیں جو انسان میں رکھ دی گئی ہیں ایک آنکھ کے نور ہی کو لیجئے کہ وہ کیا چیز ہے اور کیسے پیدا ہوتا ہے اور اگر ضائع ہو جائے تو کیا کوئی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اسے بحال کر سکتا ہے؟ اب سب باتوں کا جواب نفی میں ہے۔ لہٰذا ﴿احسن الخالقين﴾ صرف اللہ کی ذات ہی ہو سکتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔