ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 116

وَ نَصَرۡنٰہُمۡ فَکَانُوۡا ہُمُ الۡغٰلِبِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ۚ
اور ہم نے ان کی مدد کی تو وہی غالب ہوئے۔ En
اور ان کی مدد کی تو وہ غالب ہوگئے
En
اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 116) {وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ: هُمْ} ضمیر جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ فرعون سے نجات اور اس پر اور اس کی آل یعنی قبطیوں پر فتح و نصرت صرف موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کو نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

116۔ اور ان کی مدد کی تو بالآخر وہی [69] غالب ہوئے
[69] مصر میں بنی اسرائیل کی حالت زار:۔
مصر میں بنی اسرائیل کی حالت ہندوستان کے شودروں سے بھی بد تر تھی۔ وہ صرف ایک محکوم قوم ہی نہ تھے۔ بلکہ ذلیل اور رسوا بھی سمجھے جاتے تھے۔ آل فرعون ان سے طرح طرح کی بیگار بھی لیتے تھے۔ پھر ان کی نسل کو ختم ہی کر دینے کے درپے ہو گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی مدد صرف یہی نہیں کی کہ ان کے پنجے سے انہیں نجات دلائی بلکہ ان کے سامنے اس ظالم کو سمندر میں غرق کر کے نیست و نابود بھی کر دیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔