ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 114

وَ لَقَدۡ مَنَنَّا عَلٰی مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ
اور بلا شبہ یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا۔ En
اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی احسان کئے
En
یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) پر بڑا احسان کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 114) {وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ:} یعنی انھیں نبوت عطا کی اور دوسرے بے شمار احسانات فرمائے، جن میں سے بعض احسانات کا ذکر آگے فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

114۔ 1 یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

114۔ نیز ہم نے موسیٰ اور ہارون پر بھی بڑا احسان [68] کیا۔
[68] یعنی انہیں نبوت عطا فرمائی۔ معجزات بھی دیئے اور اپنی مدد کا وعدہ دے کر انہیں فرعون کے پاس بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کو فرعون کی غلامی اور طرح طرح کی تکلیفوں سے نجات دلائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

موسیٰ علیہ السلام پر انعامات الٰہی ٭٭
اللہ تعالیٰ موسیٰ اور ہارون علیہم السلام پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ ’ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بے حیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کر دیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے ‘۔