فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾
سو ان سے پوچھ کیا یہ پیدا کرنے کے اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں، یا جنھیں ہم پیدا کر چکے؟ بے شک ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔
En
تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے؟ انہیں ہم نے چپکتے گارے سے بنایا ہے
En
ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 11) {فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا …:} کفار آخرت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے جواب میں دو دلیلیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ اس سے پہلے ہم جو کچھ پیدا کر چکے ہیں، جن کا اس سورت میں ذکر ہے، یعنی آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق، صافات، زاجرات، تالیات، فرشتے، شیاطین اور ستارے وغیرہ، انھیں پیدا کرنا مشکل ہے یا ان لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنا؟ ظاہر ہے اتنی عظیم مخلوقات کے مقابلے میں انسان بے چارے کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ زندہ نہ کر سکے، جیسا کہ فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [المؤمن: ۵۷] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یٰس (۸۱)۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے (جو مٹی اور پانی کے ملنے سے بنتا ہے) اور یہ مر کر پھر مٹی ہو جائیں گے۔ تو جب پہلی دفعہ ہم نے انھیں مٹی سے پیدا کر لیا تو اسی مٹی سے ہم انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کر سکتے، جب کہ اس سے پہلے ہم ایک مرتبہ انھیں پیدا کر بھی چکے ہیں!؟ (دیکھیے حج: ۵) اور ہر عقل مند جانتا ہے کہ دوسری مرتبہ بنانا پہلی مرتبہ سے آسان ہوتا ہے، یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے سورۂ روم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [الروم: ۲۷] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“
دوسری دلیل یہ ہے کہ ہم نے انھیں ایک چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے (جو مٹی اور پانی کے ملنے سے بنتا ہے) اور یہ مر کر پھر مٹی ہو جائیں گے۔ تو جب پہلی دفعہ ہم نے انھیں مٹی سے پیدا کر لیا تو اسی مٹی سے ہم انھیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کر سکتے، جب کہ اس سے پہلے ہم ایک مرتبہ انھیں پیدا کر بھی چکے ہیں!؟ (دیکھیے حج: ۵) اور ہر عقل مند جانتا ہے کہ دوسری مرتبہ بنانا پہلی مرتبہ سے آسان ہوتا ہے، یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے سورۂ روم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» [الروم: ۲۷] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھراسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی ہم نے جو زمین ملائکہ اور آسمان جیسی چیزیں بنائی ہیں جو اپنے حجم اور وسعت کے لحاظ سے نہایت انوکھی ہیں۔ کیا ان لوگوں کی پیدائش اور دوبارہ زندہ کرنا، ان چیزوں کی تخلیق سے زیادہ سخت اور مشکل ہے؟ یقینا نہیں۔ 11۔ 2 یعنی ان کے باپ آدم ؑ کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ انسان آخرت کی زندگی کو اتنا بعید کیوں سمجھتے ہیں درآں حالیکہ ان کی پیدائش ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور چیز سے ہوئی ہے۔ جبکہ خلقت میں ان سے زیادہ قوی، عظیم اور کامل و اتم چیزوں کی پیدائش کا ان کو انکار نہیں۔ (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ (اے نبی!) آپ ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا جو کچھ ہم پیدا کر چکے ہیں۔ ہم نے انہیں لیس دار [7] گارے سے پیدا کیا ہے۔
[7] مٹی کی مختلف حالتیں جن سے آدم کا پتلا بنایا گیا، ڈارون کے نظریہ کا ابطال:۔
مٹی کو جن سات مختلف حالتوں سے گزار کر انسان کو پیدا کیا گیا ان کی تفصیل یہ ہے۔
(1) ﴿تراب﴾ بمعنی خشک مٹی۔ [40: 67]
(2) ﴿ارض﴾ بمعنی عام مٹی یا زمین۔ [71: 17]
(3) ﴿طين﴾ بمعنی گیلی مٹی یا گارا۔ [6: 2]
(4) ﴿طين لازب﴾ معنی لیسدار یا چپکدار مٹی۔ [37: 11]
(5) ﴿حماٍ مسنون﴾ بمعنی بدبو دار کیچڑ۔ [15: 26]
(6) ﴿صلصال﴾ بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی۔ [15: 26]
(7) ﴿صلصال كالفخار﴾ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری۔ [55: 14]
یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔ کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کر دیا گیا۔ قرآن نے مختلف مقامات پر ان مختلف حالتوں میں سے کسی بھی ایک یا دو حالتوں کا ذکر کر دیا ہے۔ اور جس حالت کا بھی نام لیا جائے وہ سب درست ہے۔ اس بیان سے ڈارون کا نظریہ ارتقاء کا رد ہو جاتا ہے جس کی رو سے انسان نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزر کر وجود میں آیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو سات مختلف حالتیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب جمادات یا مٹی میں ہی پوری ہو جاتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مزید باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو عظیم الجثہ اور محیر العقول مخلوقات پیدا کر چکا ہے اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے لئے کچھ مشکل ہو اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی کی سات مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ پھر وہ مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائے گا۔ تو کیا جس نے مٹی کی اتنی حالتوں سے گزار کر انسان کو پہلے پیدا کیا تھا اب دوبارہ مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا نہ کر سکے گا؟ [ڈارون كے نظريه ارتقاء كي تفصيل كے لئے ديكهئے 15: 29، حاشيه 19]
(1) ﴿تراب﴾ بمعنی خشک مٹی۔ [40: 67]
(2) ﴿ارض﴾ بمعنی عام مٹی یا زمین۔ [71: 17]
(3) ﴿طين﴾ بمعنی گیلی مٹی یا گارا۔ [6: 2]
(4) ﴿طين لازب﴾ معنی لیسدار یا چپکدار مٹی۔ [37: 11]
(5) ﴿حماٍ مسنون﴾ بمعنی بدبو دار کیچڑ۔ [15: 26]
(6) ﴿صلصال﴾ بمعنی ٹھیکرا یعنی حرارت سے پکائی ہوئی مٹی۔ [15: 26]
(7) ﴿صلصال كالفخار﴾ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری۔ [55: 14]
یہ مٹی یا زمین کی مختلف شکلیں ہیں۔ کسی وقت مٹی میں پانی کی آمیزش کی گئی تو بعد میں حرارت کے ذریعہ پانی کو خشک کر دیا گیا۔ قرآن نے مختلف مقامات پر ان مختلف حالتوں میں سے کسی بھی ایک یا دو حالتوں کا ذکر کر دیا ہے۔ اور جس حالت کا بھی نام لیا جائے وہ سب درست ہے۔ اس بیان سے ڈارون کا نظریہ ارتقاء کا رد ہو جاتا ہے جس کی رو سے انسان نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزر کر وجود میں آیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو سات مختلف حالتیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب جمادات یا مٹی میں ہی پوری ہو جاتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو مزید باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ جو عظیم الجثہ اور محیر العقول مخلوقات پیدا کر چکا ہے اس کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے لئے کچھ مشکل ہو اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی ہی کی سات مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا کیا ہے۔ پھر وہ مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائے گا۔ تو کیا جس نے مٹی کی اتنی حالتوں سے گزار کر انسان کو پہلے پیدا کیا تھا اب دوبارہ مختلف حالتوں سے گزار کر پیدا نہ کر سکے گا؟ [ڈارون كے نظريه ارتقاء كي تفصيل كے لئے ديكهئے 15: 29، حاشيه 19]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے لیئے دوبارہ پیدا کرنا دشوار نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «أَمْ مَنْ عَدَدنَا» ہے مطلب یہ ہے کہ ’ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں؟ ‘
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ‘۔
پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آ جاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آ جائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقیناً دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز،اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ‘۔
فرماتا ہے «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ۱؎ [27-النمل:87] ’ ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ‘۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ احوالِ قیامت کو دیکھنے لگے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ‘۔
پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آ جاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آ جائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقیناً دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز،اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ‘۔
فرماتا ہے «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ۱؎ [27-النمل:87] ’ ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ’ میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ‘۔
پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ احوالِ قیامت کو دیکھنے لگے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»