ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 106

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾
بے شک یہی تو یقینا کھلی آزمائش ہے۔ En
بلاشبہ یہ صریح آزمائش تھی
En
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 106){ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِيْنُ:} یعنی بوڑھے باپ کو اکلوتا بیٹا ذبح کرنے کا حکم، جو کام کاج میں اس کا مددگار بننے کی عمر کو پہنچ چکا ہے، یقینا یہ باپ بیٹے دونوں کے لیے کھلی آزمائش اور بہت سخت امتحان ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس پر میں تو سرخرو رہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

106۔ بلا شبہ یہ ایک صریح [63] آزمائش تھی۔
[63] بھلا جس آزمائش کے متعلق اللہ تعالیٰ خود فرمائیں کہ وہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی اس کے بڑی آزمائش ہونے میں کیا شک کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کا تصور یوں کیا جا سکتا ہے ایک بوڑھا باپ ہو جس کا ایک ہی نوجوان بچہ ہو۔ وہی اس کا سہارا ہو اور اسے بھی اس نے اللہ سے دعائیں کر کر کے لیا ہو۔ پھر اسے اضطراری موت نہ آئے بلکہ اس باپ سے کہا جائے کہ میری راہ میں قربان کر دو تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔