ترجمہ و تفسیر — سورۃ الصافات (37) — آیت 10

اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾
مگر جو کوئی اچانک اچک کر لے جائے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ En
ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہتا ہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے
En
مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) {اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ …:} یعنی شیاطین ملأ اعلیٰ کی کسی بات پر کان نہیں لگا سکتے، سوائے اس بات کے جسے کوئی شیطان دفعتاً اچک کر لے جائے، تو ایسی صورت میں ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو وہ شعلہ نیچے کے شیطان کو وہ بات پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد، پھر وہ بات کئی شیاطین سے منتقل ہوتی ہوئی کسی کاہن تک پہنچ جاتی ہے، جو اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ استاذ محمد عبدہٗ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یہ بحث حکماء اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہابِ ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں، یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارا بن جاتا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: انھی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے، جیسے سورج سے اور آتشی شیشے سے۔ (موضح) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۶تا۱۸)، شعراء (۲۱۰ تا ۲۱۲ اور ۲۲۲، ۲۲۳) اور سورۂ جن (۸، ۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ تاہم اگر کوئی شیطان کوئی بات لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب [6] کرتا ہے۔
[6] شہاب ثاقب:۔
اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعتاً ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا: ”دور جاہلیت میں جب ایسا واقعہ ہوتا تو تم کیا کہتے تھے؟“ صحابہ کہنے لگے: ”ہم تو یہی کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مر گیا یا پیدا ہوا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کی زندگی یا موت کے سبب سے نہیں ٹوٹتا بلکہ ہمارا پروردگار کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو حاملان عرش تسبیح کرتے ہیں پھر آسمان والے فرشتے جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان سے قریب والے تسبیح کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ سبحان اللہ کی آواز ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا۔ وہ انہیں خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر دنیا کے آسمان تک پہنچتی ہے اور شیطان اچک کر سننا چاہتے ہیں تو ان کو مار پڑتی ہے اور وہ کچھ بات لا کر اپنے یاروں (کاہنوں وغیرہ) پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ خبر تو سچ ہوتی ہے مگر وہ اسے بدلتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
نیز اس سلسلہ میں سورۃ حجر کی آیت نمبر 18 کا حاشیہ نمبر 9 بھی ملاحظہ فرمائیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔