وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلۡقَہٗ ؕ قَالَ مَنۡ یُّحۡیِ الۡعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ ﴿۷۸﴾
اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟
En
اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا۔ کہنے لگا کہ (جب) ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو ان کو کون زندہ کرے گا؟
En
اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 78) {وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ …:} یعنی ہمیں مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جس طرح انسان مُردہ کو زندہ نہیں کر سکتا ہم بھی نہیں کر سکتے اور یہ بھول جاتا ہے کہ خود اسے ہم نے کس چیز سے پیدا کیا۔ کہتا ہے، آخر جب بدن گل سڑ کر ہڈیاں رہ گیا اور وہ بھی پرانی اور بوسیدہ و کھوکھلی تو انھیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ اگر یہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا تو یہ سوال ہر گز نہ کرتا، کیونکہ جو انسان کو ایک حقیر مردہ قطرے سے پیدا کر سکتا ہے، جب اس کا نام و نشان نہیں تھا، اس کے لیے اسے اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفے سے پیدا کرنے کی بات کئی مقامات پر یاد دلائی ہے، سورۂ دہر میں فرمایا: «اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ» [الدھر: ۲] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔“ اور سورۂ مرسلات میں فرمایا: «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ» [المرسلات: ۲۰] ”کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ وہ ہمارے لئے تو مثال بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے کہ: ”ہڈیاں جب بوسیدہ ہو چکی ہوں گی تو انہیں کون زندہ [70] کرے گا؟“
[70] یعنی وہ اپنے پروردگار کو عام مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جب انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کر سکتا تو ہم بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ایک بوسیدہ ہڈی کو دکھا کر اور اپنے ہاتھوں سے اسے مسل کر اور چورا چورا کر کے کہتا ہے کہ بتاؤ یہ زندہ ہو سکتی ہے؟ اس وقت اسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ جس نطفہ سے وہ خود پیدا ہوا ہے وہ بھی بے جان غذاؤں سے بنا تھا۔ اگر وہ اس بات پر غور کرتا تو کبھی ایسا اعتراض نہ کرتا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
موت کے بعد زندگی ٭٭
ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کر دے گا پھر زندہ کر دے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔
اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31/23:ضعیف]
بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کر دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» [77- المرسلات: 20] اور جیسے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا» [76- الإنسان: 2]، وغیرہ۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کر سکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کر دیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کر دیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن]
الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کر دیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31/23:ضعیف]
بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کر دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» [77- المرسلات: 20] اور جیسے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا» [76- الإنسان: 2]، وغیرہ۔
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کر سکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کر دیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کر دیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن]
الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کر دیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔