(آیت 76) ➊ { فَلَايَحْزُنْكَقَوْلُهُمْ:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ جب ہمارے متعلق ان مشرکین کے جہل اور عناد کا یہ حال ہے تو آپ بھی ان کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں۔ ➋ { اِنَّانَعْلَمُمَايُسِرُّوْنَوَمَايُعْلِنُوْنَ:} ({إِنَّ} تعلیل کے لیے ہوتا ہے) کیونکہ آپ غم زدہ تو تب ہوں جب انھیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ہم تو ان کی وہ باتیں بھی جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو ظاہر کرتے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپس میں وہ آپ کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے آپ کو شاعر، ساحر اور کاہن وغیرہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان کی خفیہ سازشوں کا بھی علم ہے اور علانیہ دشمنی کا بھی، آپ فکر نہ کریں، ہم سارا حساب برابر کر دیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ لہٰذا ان کی باتیں آپ کو غمزدہ نہ کریں۔ ہم یقیناً جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے [68] ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔
[68] اگر یہ لوگ اپنے پروردگار اور منعم حقیقی کے معاملہ میں اس قدر نا انصاف اور ظالم واقع ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کے اس معاندانہ رویہ پر غمزدہ نہ ہونا چاہئے۔ یہ لوگ ظاہر تو یہ کرتے ہیں کہ آپ کاہن ہیں، دیوانہ ہیں، جادوگر ہیں، اللہ پر افترا باندھتے ہیں۔ اور دوسرے لوگوں کو یہ باتیں اس لئے کہتے ہیں کہ جیسے بھی بن پڑے اسلام کو اور آپ کو دبا سکیں۔ لیکن یہی لوگ اپنی نجی محفلوں میں اس بات کا اعتراف کرتے تھے اور پوری طرح سمجھتے تھے کہ جو الزامات یہ رسول اللہ صلی اللہ پر لگا رہے ہیں وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان اور غمزدہ نہ ہونا چاہئے۔ حق کے مقابلہ میں ان کا یہ جھوٹا پروپیگنڈہ زیادہ دیر نہ چل سکے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔