ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 72

وَ ذَلَّلۡنٰہَا لَہُمۡ فَمِنۡہَا رَکُوۡبُہُمۡ وَ مِنۡہَا یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔ En
اور ان کو ان کے قابو میں کردیا تو کوئی تو ان میں سے ان کی سواری ہے اور کسی کو یہ کھاتے ہیں
En
اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کا تابع فرمان بنا دیا ہے جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 72) {وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ …:} یعنی ان چوپاؤں کو ہم نے ان کے تابع کر رکھا ہے، اگر ہم دوسرے جنگلی جانوروں کی طرح ان کی طبیعت میں بھی وحشت رکھ دیتے تو وہ کبھی ان کے قابو میں نہ آتے، کجا یہ کہ ان کے مالک بنتے۔ ہمارے تابع کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے تو اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ چل پڑتا ہے اور اگر اس کے ساتھ سو اونٹوں کی قطار ہو تو وہ بھی ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھی چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ ان پر سوار ہو کر لمبے لمبے سفر آسانی سے طے کرتے ہیں۔ خود سوار ہوتے ہیں، سامان لادتے ہیں اور بوجھ ڈھونے کا کام لیتے ہیں، حتیٰ کہ بعض کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

72۔ 1 یعنی ان جانوروں سے وہ جس طرح کا بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ انکار نہیں کرتے، حتٰی کہ وہ انہیں ذبح بھی کردیتے ہیں اور چھوٹے بچے انہیں کھینچے پھرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

72۔ اور ہم نے ان مویشیوں کو ان کا مطیع [65] بنا دیا ہے کہ ان میں کسی پر تو سوار ہوتے ہیں اور کسی کا گوشت کھاتے ہیں
[65] مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد:۔
انسان کی سرشت اللہ تعالیٰ نے یہ بنائی کہ اپنی عقل سے کام لے کر ہر قسم کے جانوروں کو اپنے قابو میں لائے اور چوپایوں کی سرشت یہ بنا دی کہ انسان کے مطیع فرمان بن جائیں ورنہ ان چوپایوں میں اکثر ایسے ہیں جو انسان سے بہت زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک گھوڑا انسان کو دولتی مار کر اسے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ ایک اونٹ انسان کی کھوپڑی میں اپنے دانت گاڑ کر اور ایک ہاتھی اسے اپنے پاؤں تلے مسل کر انسان کو فنا کر کے اس سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ مگر انسان پر اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی ہے کہ اونٹوں کی ایک لمبی قطار کو ایک کم عمر بچہ نکیل پکڑ کر جدھر چاہے لے جا سکتا ہے۔ پھر وہ بے جان چیزوں کی طرح اپنے سے بہت عظیم الجثہ اور طاقتور جانداروں کو بھی مطیع بنا کر ان سے کئی طرح کے فوائد حاصل کرتا ہے۔ یہ چوپائے انسان کی سواری کے کام بھی آتے ہیں اور اس کی خوراک بھی بنتے ہیں۔ ان کے بالوں سے وہ لباس بھی تیار کرتا ہے۔ ان سے دودھ بھی حاصل کرتا ہے۔ جس سے دہی، مکھن، بالائی، گھی وغیرہ بنتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان چوپایوں کے مرنے یا ذبح ہونے کے بعد بھی ان کی کھالوں، ہڈیوں اور دانتوں کو اپنے کام میں لاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

چوپائیوں کے فوائد ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔
اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں؟ صرف اسی کی عبادت کریں؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔