(آیت 7) {لَقَدْحَقَّالْقَوْلُعَلٰۤىاَكْثَرِهِمْ …:”حَقَّالْقَوْلُ“} (بات ثابت ہو چکی) سے مراد ان پر عذاب کا فیصلہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَلَوْشِئْنَالَاٰتَيْنَاكُلَّنَفْسٍهُدٰىهَاوَلٰكِنْحَقَّالْقَوْلُمِنِّيْلَاَمْلَـَٔنَّجَهَنَّمَمِنَالْجِنَّةِوَالنَّاسِاَجْمَعِيْنَ» [السجدۃ: ۱۳]”اور اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہو چکی کہ یقینا میں جہنم کو جنّوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔“ یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو پیغمبر کی آمد اور حق واضح ہونے کے بعد بھی اپنے کفر پر اڑے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو ازل ہی میں ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ اپنے عناد اور سرکشی کی وجہ سے ایمان نہیں لائیں گے اور اس نے اپنے اس علم کی بنا پر لکھ دیا تھا کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبراً انھیں ایمان سے محروم رکھا، کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔ یہ بات کہ ان کی گمراہی کا باعث خود ان کی ضد اور ان کا عناد ہے، کئی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷)، زخرف (۳۶، ۳۷)، صف (۵)، انعام (۱۱۰)، حم السجدہ (۲۵) اور احقاف (۱۷، ۱۸) اس آیت کی ہم معنی یہ آیت ہے: «اِنَّالَّذِيْنَحَقَّتْعَلَيْهِمْكَلِمَتُرَبِّكَلَايُؤْمِنُوْنَ (96) وَلَوْجَآءَتْهُمْكُلُّاٰيَةٍحَتّٰىيَرَوُاالْعَذَابَالْاَلِيْمَ» [یونس: ۹۶، ۹۷]”بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ خواہ ان کے پاس ہر نشانی آ جائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 جیسے ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ' میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا ' (وَلَوْشِئْنَالَاٰتَيْنَاكُلَّنَفْسٍهُدٰىهَاوَلٰكِنْحَقَّالْقَوْلُمِنِّيْلَاَمْلَئَنَّجَهَنَّمَمِنَالْجِنَّةِوَالنَّاسِاَجْمَعِيْنَ) 32۔ السجدہ:13) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ' میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دونگا۔ یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے جبرا ان کو ایمان سے محروم رکھا کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق قرار نہ پاتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ ان میں سے اکثر پر (اللہ کا یہ) قول ثابت [6] ہو چکا کہ وہ ایمان نہیں [7] لائیں گے
[6] قرآن کریم نے جہاں بھی حق القول کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کے مخاطب عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو یا تو آخرت پر ایمان ہی نہ رکھتے ہوں۔ جیسے کفار مکہ یا ان جیسی دوسری قومیں جو پہلے گزر چکیں یا بعد میں آنے والی ہیں۔ یا پھر وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کو مانتے تو ہیں مگر ساتھ ہی انہوں نے کچھ ایسے سستی نجات کے عقیدے گھڑ رکھے ہوتے ہیں کہ آخرت پر ایمان لانے کے اصل مقصد کو فوت کر دیتے ہیں۔ جیسے یہود کا یہ عقیدہ کہ انہیں چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ چھوئے گی ہی نہیں۔ یا جیسے یہود و نصاریٰ کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ اللہ انہیں کیوں عذاب کرے گا؟ یا مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ سید قوم کی پشت ہی پاک ہوتی ہے۔ وہ جو کام بھی کرتے رہیں وہ پاک ہی رہتی ہے۔ یا یہ عقیدہ کہ فلاں حضرت صاحب کی بیعت کر لی جائے یا دامن پکڑ لیا جائے تو وہ اپنے ساتھ ہی انہیں جنت میں لے جائیں گے۔ پیچھے نہیں رہنے دیں گے یا یہ کہ وہ اللہ سے سفارش کر کے انہیں بخشوا کے چھوڑیں گے وغیرذلک ایسے تمام تر عقیدے فی الحقیقت آخرت کے عقیدہ کی نفی کر دیتے ہیں۔ [7] اس جملہ کی تکمیل یوں ہوتی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہاں ایمان سے مراد ایمان بالآخرت ہے۔ ورنہ اللہ کی ہستی کو تو کفار مکہ بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور اسی وجہ سے آپ کی رسالت کا بھی انکار کر دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔