ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 67

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰہُمۡ عَلٰی مَکَانَتِہِمۡ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِیًّا وَّ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۶۷﴾
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں بدل دیں، پھر نہ وہ (آگے) چل سکیں اور نہ واپس آئیں۔ En
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں
En
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسﺦ کر دیتے پھر نہ وه چل پھر سکتے اور نہ لوٹ سکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) {وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ …:} مسخ کا معنی ہے انسان کی شکل اس کے علاوہ کسی اور شکل میں بدل دینا، مثلاً اسے بندر یا خنزیر یا پتھر بنا دینا۔ {مَكَانَةٌ مَكَانٌ} (جگہ) کی مؤنث ہے ({بُقْعَةٌ} کی تاویل کے ساتھ)، یعنی اور اگر ہم چاہیں تو (جب وہ کفر و شرک کا ارتکاب کریں) انھیں زمین کے عین اسی ٹکڑے پر مسخ کر دیں، پھر نہ وہ آگے جا سکیں اور نہ گھر واپس جا سکیں (مگر ہم نے یہ نہیں چاہا …)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 یعنی نہ آگے جاسکتے، نہ پیچھے لوٹ سکتے، بلکہ پتھر کی طرح ایک جگہ پڑے رہتے۔ مسخہ کے معنی پیدائش میں تبدیلی کے ہیں، یعنی انسان سے پتھر یا جانور کی شکل میں تبدیل کردینا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ہی انہیں مسخ کر دیں۔ پھر نہ یہ آگے چل سکیں اور نہ ہی پیچھے لوٹ سکیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔