ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 66

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی آنکھیں مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کیسے دیکھیں گے؟ En
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھوں کو مٹا کر (اندھا کر) دیں۔ پھر یہ رستے کو دوڑیں تو کہاں دیکھ سکیں گے
En
اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66) ➊ {وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْيُنِهِمْ …:} پچھلی دو آیتوں کے ساتھ ان دو آیات کا تعلق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن شرک سے انکار کے بعد اس کے اعتراف پر مجبور ہو جائیں گے، تو اس سے دل میں خیال گزرتا ہے کہ کاش! دنیا میں بھی انھیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کی تصدیق پر مجبور کر دیا جاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر ہمارا ارادہ یہ ہوتا تو ہم ایسا کر دیتے اور کفرو شرک کرنے والوں کو فوراً پکڑ لیتے، تاکہ وہ اپنے کفرو شرک سے باز آ جائیں، مگر ہم نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور ہر ایک کو عمل کی مہلت دی ہے۔ (ابن عاشور)
➋ {طَمَسَ يَطْمِسُ} (ض) کا معنی مٹانا ہے، لفظ { عَلٰۤى } کے بغیر بھی اس کا معنی یہی ہے، { عَلٰۤى } کے لفظ سے مراد مٹانے میں مبالغہ ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں سرے ہی سے مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو اسے کس طرح دیکھیں گے۔ { لَوْ } کا لفظ شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے جزا کے نہ ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ لیکن ہم نے یہ نہیں چاہا تو ایسا نہیں ہوا، بلکہ ہم نے انھیں ان کی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود ایک وقت تک مہلت دی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

66۔ 1 یعنی بینائی سے محرومی کے بعد انہیں راستہ کس طرح دکھائی دیتا؟ لیکن یہ ہمارا حلم و کرم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

66۔ اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر وہ راہ کی طرف آگے بڑھیں تو کیونکر [59] دیکھ سکیں گے
[59] فوراً سزا دینا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے:۔
ایسے کٹر مجرموں کو اگر ہم چاہیں تو اس دنیا میں بھی سزا دے سکتے ہیں۔ ان کی بینائی سلب کر سکتے ہیں کہ وہ چاہیں بھی تو گناہوں کے کاموں کی طرف آگے بڑھ ہی نہ سکیں اور انہیں کچھ بھی سجھائی نہ دے۔ اسی طرح اگر چاہیں تو ان پر فالج گرا کر ان کو اپاہج بنا سکتے ہیں کہ اپنی جگہ سے حرکت کر ہی نہ سکیں، نہ آگے بڑھ سکیں نہ پیچھے جا سکیں۔ بس اپنے بستر پر ہی ہاتھ پاؤں رگڑتے رہیں۔ یا ان کا حلیہ ہی بگاڑ سکتے ہیں کہ ان کی دوسری بھی کئی قوتیں ختم ہو جائیں۔ مگر مجرموں کو فوری طور پر پکڑنا ہماری مشیئت کے خلاف ہے اور یہ لوگ اس مہلت کا بڑا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔