اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ تَشۡہَدُ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۶۵﴾
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
En
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤں (اس کی) گواہی دیں گے
En
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے تھے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 65) ➊ {اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ …:} مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ یہ ہو گی کہ بعض مجرم قیامت کے دن اپنے جرم کا اقرار کرنے سے انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، وہ گواہوں کو جھٹلا دیں گے اور نامہ اعمال کو بھی درست نہیں مانیں گے، بلکہ اپنے بے گناہ ہونے کی قسمیں کھائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [الأنعام: ۲۳] ”پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہو گا کہ کہیں گے، اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اور قسمیں کھا کر دل میں سمجھیں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹ چل جاتا تھا، اب بھی چل جائے گا، فرمایا: «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَيْءٍ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [المجادلۃ: ۱۸] ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں۔“ اس وقت ان سے یہ معاملہ ہو گا جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ اچانک ہنس دیے اور فرمایا: ”جانتے ہو میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ يَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَيَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِيْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاهِدًا مِنِّيْ، قَالَ فَيَقُوْلُ كَفٰی بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيْدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِيْنَ شُهُوْدًا قَالَ فَيُخْتَمُ عَلٰی فِيْهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِيْ قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ قَالَ ثُمَّ يُخَلّٰی بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ قَالَ فَيَقُوْلُ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ] [مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر: ۲۹۶۹] ”میں بندے کی اپنے رب سے گفتگو پر ہنسا ہوں (جو وہ قیامت کے دن کرے گا)، وہ کہے گا: ”اے میرے رب! کیا تو مجھے ظلم سے پناہ نہیں دے چکا؟“ وہ فرمائے گا: ”کیوں نہیں؟“ کہے گا: ”میں اپنے سوا کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا (میرا بدن میرا اپنا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں)۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آج تیری ذات ہی تیرے خلاف بطور گواہ کافی ہے اور کراماً کاتبین گواہ کافی ہیں۔“ چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے جسم کے اعضا سے کہا جائے گا: ”بولو!“ تو وہ اس کے سارے اعمال بول کر بتائیں گے، پھر اسے بولنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا: ”تمھارا ستیاناس ہو اور تم (مجھ سے) دور ہو جاؤ، میں تو تمھارا ہی دفاع کر رہا تھا۔“
➋ اس آیت میں ہاتھوں اور پاؤں کے بولنے اور شہادت دینے کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر جسم کے دوسرے اعضا کے بولنے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۲۰] ”یہاں تک کہ جوں ہی اس (آگ) کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [النور: ۲۴] ”جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس آیت پر ایک سوال ہے کہ مونہوں پر مہر کے باوجود زبانیں کیسے شہادت دیں گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مہر سے مراد یہ ہے کہ اس کی زبان پر سے اس کا اختیار ختم کر دیا جائے گا اور زبان کو اپنی مرضی سے صحیح بات کہنے کا اختیار ہو گا۔
➋ اس آیت میں ہاتھوں اور پاؤں کے بولنے اور شہادت دینے کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر جسم کے دوسرے اعضا کے بولنے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [حٰمٓ السجدۃ: ۲۰] ”یہاں تک کہ جوں ہی اس (آگ) کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [النور: ۲۴] ”جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس آیت پر ایک سوال ہے کہ مونہوں پر مہر کے باوجود زبانیں کیسے شہادت دیں گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مہر سے مراد یہ ہے کہ اس کی زبان پر سے اس کا اختیار ختم کر دیا جائے گا اور زبان کو اپنی مرضی سے صحیح بات کہنے کا اختیار ہو گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 یہ مہر لگانے کی ضرورت اس لئے پیش آئیگی کہ ابتداءً مشرکین قیامت والے دن بھی جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) 6۔ الانعام:23) اللہ کی قسم، جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، جس سے وہ خود تو بولنے کی طاقت سے محروم ہوجائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرما دے گا، ہاتھ بولیں گے کہ ہم سے اس نے فلاں فلاں کام کیا تھا اور پاؤں اس پر گواہی دیں گے۔ یوں گویا اقرار اور شہادت، دونوں مرحلے طے ہوجائیں گے۔ علاوہ ازیں ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا بول کر گواہی دینا، حجت واستدلال میں زیادہ بلیغ ہے کہ اس میں ایک اعجازی شان پائی جاتی ہے۔ (فتح القدیر) اس مضموں کو احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو صحیح مسلم، کتاب الزھد۔)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ آج ہم ان کے منہ بند [58] کر دیں گے اور ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
[58] کٹر قسم کے مجرم جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو اپنے جرائم کا اعتراف کرنے کی بجائے وہاں بھی حسب عادت جھوٹ بولنا شروع کر دیں گے اور اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ پھر ان پر شہادتیں قائم کی جائیں گی تو ان شہادتوں اور گواہوں کو بھی جھٹلا دیں گے اور یہی کچھ انہوں نے اس دنیا میں سیکھا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ ان کا یہ علاج کریں گے کہ ان کی زبانوں سے قوت گویائی سلب کر لیں گے۔ اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو قوت گویائی عطا کر دی جائے گی تو ان کے یہ اعضا جن سے انہوں نے گناہ کے کام سرزد کئے ہوں گے ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور سورۃ حم السجدہ کی آیت نمبر 20 کے مطابق ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ جب ان کے اپنے اعضاء کی گواہیوں کے مطابق ان کے جرم ثابت ہو جائیں گے تو وہ اپنے ان گواہی دینے والے اعضاء کو مخاطب کر کے کہیں گے کہ ظالمو! ہم نے تمہیں بچانے کے لئے ہی تو جھوٹ بولا تھا۔ پھر تم نے یہ کیا ظلم ڈھا دیا؟ تو اعضاء انہیں جواب دیں گے کہ ”ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی بخشی تھی جس نے ہر چیز کو بخشی ہے“ [41: 21] پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم صحیح صحیح گواہی نہ دیتے؟ اعضاء و جوارح کی گواہی کیسے ہو گی؟
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کے اعضاء سے ان کے خلاف زبردستی گواہی نہیں لیں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے مگر یہ بات اس کی صفت عدل کے خلاف ہے کہ اگر وہ زبردستی ان کے خلاف شہادت چاہتا تو خود ان سے اور ان کی زبانوں سے بھی لے سکتا تھا۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان سے جو اقوال، اعمال اور افعال سرزد ہوتے ہیں تو اس کے اثرات (جسے سورۃ یٰسین میں ﴿اٰثَارَهُم﴾ کہا گیا ہے) فضا میں مرتسم ہوتے جاتے ہیں اور خود انسان کے اعضا پر بھی مرتسم ہوتے ہیں جدید تحقیق کے مطابق بنی آدم سے لے کر آج تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے اقوال اور آوازیں بدستور فضا میں موجود ہیں۔ مگر وہ آپس میں ملی جلی اور گڈ مڈ ہیں اور انسان تا حال اس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی خاص شخص کے مثلاً کسی نبی کے تمام تر اقوال الگ کر کے سن سکے۔ البتہ انسان اس بات پر بھی قادر ہو چکا ہے کہ تین چار گھنٹے کے اندر اندر کسی مجرم کے اعضاء کا خورد بینی مطالعہ کر کے یہ معلوم کر سکے کہ اس شخص نے واقعی یہ جرم کیا ہے یا نہیں؟ اور اللہ تعالیٰ تو خود ہر چیز کا خالق اور ہر چیز کی فطرت اور حقیقت کو سب سے بڑھ کر جاننے والا ہے۔ لہٰذا جب مجرم لوگوں کے ان اعضاء کو قوت گویائی دی جائے گی تو وہی حقیقت وہ بیان کریں گے جو ان پر گناہ کے دوران ثبت ہوئی تھی وہ برملا بول اٹھیں گے کہ اس شخص نے ہم سے فلاں اور فلاں گناہ کا کام کیا تھا اور فلاں فلاں وقت کیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔