ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 50

فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ تَوۡصِیَۃً وَّ لَاۤ اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾
پھر وہ نہ کسی وصیت کی طاقت رکھیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس آئیں گے۔ En
پھر نہ وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں میں واپس جاسکیں گے
En
اس وقت نہ تو یہ وصیت کر سکیں گے اور نہ اپنے اہل کی طرف لوٹ سکیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) {فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ تَوْصِيَةً …: تَوْصِيَةً وَصّٰي يُوَصِّيْ} (تفعیل) کا مصدر ہے، وصیت کرنا۔ یعنی اس چیخ کے بعد انھیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت کر سکیں، یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جا سکیں، بلکہ جو کوئی جہاں موجود ہو گا وہیں دھر لیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ اس وقت وہ نہ تو وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھروں کو واپس [48] جا سکیں گے۔
[48] قیامت آگئی تو پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت ہی کر سکیں یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جا سکیں بلکہ جہاں کہیں بھی کوئی موجود ہو گا وہیں اس کا کام تمام کر دیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔