(آیت 50) {فَلَايَسْتَطِيْعُوْنَ۠تَوْصِيَةً …: ”تَوْصِيَةً“”وَصّٰييُوَصِّيْ“} (تفعیل) کا مصدر ہے، وصیت کرنا۔ یعنی اس چیخ کے بعد انھیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت کر سکیں، یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جا سکیں، بلکہ جو کوئی جہاں موجود ہو گا وہیں دھر لیا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اس وقت وہ نہ تو وصیت کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے گھروں کو واپس [48] جا سکیں گے۔
[48] قیامت آگئی تو پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ وہ کچھ وصیت ہی کر سکیں یا جو باہر ہیں وہ اپنے گھر واپس جا سکیں بلکہ جہاں کہیں بھی کوئی موجود ہو گا وہیں اس کا کام تمام کر دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔