(آیت 46) {وَمَاتَاْتِيْهِمْمِّنْاٰيَةٍ …:} یعنی صرف اس نصیحت ہی سے نہیں، ان کے پاس ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں، خواہ وہ ان کی ذات یا پوری کائنات میں پھیلی ہوئی آیات اور نشانیاں ہوں اور خواہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات ہوں۔ چنانچہ وہ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں اور نہ اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 یعنی توحید اور صداقت رسول کی نشانی بھی ان کے سامنے آتی، اس میں یہ غور ہی نہیں کرتے کہ جس سے ان کو فائدہ ہو، ہر نشانی سے اعراض ان کا شیوہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی [45] آتی ہے تو وہ اس سے اعراض ہی کر جاتے ہیں
[45] نشانی سے مراد خرق عادت یا معجزہ بھی ہو سکتا ہے اور قرآن کی آیات بھی کہ قرآن کی ہر آیت بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اور آفاق و انفس کی آیات بھی یعنی جب بھی کوئی نشانی ان کے سامنے آتی یا لائی جاتی ہے تو اس میں غور و فکر کرنا بلکہ اسے توجہ سے سننا یا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار کا تکبر ٭٭
کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کر چکے ان پر نادم ہو جاؤ ان سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لیے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہونا تو درکنار ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا؟ ان کی تو عادت ہو گئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اس کی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ»
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔