ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 38

وَ الشَّمۡسُ تَجۡرِیۡ لِمُسۡتَقَرٍّ لَّہَا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾
اور سورج اپنے ایک ٹھکانے کے لیے چل رہا ہے، یہ اس سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے کا اندازہ ہے۔ En
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
En
اور سورج کے لئے جو مقرره راه ہے وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے مقرر کرده غالب، باعلم اللہ تعالیٰ کا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38) ➊ {وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا …: مُسْتَقَرٌّ} باب استفعال سے اسم ظرف ہے، قرار کی جگہ یا وقت۔ یہ دوسری دلیل ہے، یعنی سورج کا روزانہ غروب ہونے کے بعد طلوع ہونا موت کے بعد زندگی کی دلیل ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں معنی ایک وقت میں مراد ہو سکتے ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ ایک معنی یہ کہ سورج اپنی اس جگہ چل رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرما دی ہے اور وہ عرش کے نیچے ہے۔ اس صورت میں { لِمُسْتَقَرٍّ } میں لام {عَلٰي} یا {فِيْ} کے معنی میں ہو گا، جیسا کہ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے ترجمہ کیا ہے: اور سورج چلا جاتا ہے اپنے ٹھہرے ہوئے راستے پر۔ اس معنی کی دلیل ابوذر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس قول { وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا } کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ] [بخاري، التفسیر، سورۃ یٰسٓ، باب قولہ: «‏‏‏‏و الشمس تجري…» ‏‏‏‏: ۴۸۰۳] اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔
دوسرا معنی یہ کہ سورج اپنی اس جگہ یا وقت کی طرف چلا جا رہا ہے جو اس کے ٹھہرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے، جہاں پہنچنے کے بعد اسے آگے چلنے کے بجائے واپس چلنے کا حکم دیا جائے گا اور وہ مشرق سے طلوع ہونے کے بجائے مغرب سے طلوع ہو گا۔ اس کے چلنے کا یہ راستہ اور ٹھہر جانے کی وہ جگہ اور وہ وقت اس ہستی کا مقرر کردہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والی ہے۔ یہ معنی بھی حدیث سے ثابت ہے، جیسا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ سورج غروب ہوتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: [أَ تَدْرِيْ أَيْنَ تَذْهَبُ؟] کیا تم جانتے ہو یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: [اَللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ أَعْلَمُ] اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتّٰی تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهَا، وَيُوْشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلاَ يُقْبَلَ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنَ فَلاَ يُؤْذَنَ لَهَا، فَيُقَالُ لَهَا ارْجِعِيْ مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِهَا، فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰی: «وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ] [بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر: ۳۱۹۹] یہ سورج چلتا جاتا ہے، حتیٰ کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے اور قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے تو اس کا سجدہ قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ دی جائے، پھر وہ اپنے مغرب سے طلوع ہو گا، یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان: «‏‏‏‏وَ الشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» ‏‏‏‏
➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سورج چل رہا ہے۔ سائنس دان اس کی دو حرکتیں بیان کرتے ہیں، ایک اس کی اپنے مدار کے گرد حرکت اور دوسری اس حرکت کے ساتھ ساتھ کسی عظیم کہکشاں کے گرد حرکت۔ (واللہ اعلم)
➌ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حقیقت تو سب کو معلوم ہے کہ سورج ہر وقت چلتا رہتا ہے، اگر کہیں غروب ہوتا ہے تو اس سے اگلی جگہ طلوع ہو رہا ہوتا ہے، تو غروب ہوتے وقت اس کے عرش کے نیچے سجدہ کرنے اور چلنے کی اجازت طلب کرنے کا مطلب کیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ سورج عرش کے نیچے چل رہا ہے اور ہر وقت اور ہر لمحے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہے اور ہر لمحے اس کا آگے چلنا اللہ تعالیٰ کی اجازت پر موقوف ہے، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت نہیں ملے گی، وہ ٹھہر جائے گا اور اللہ کے حکم کے مطابق مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو گا۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے: «اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَ كَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَ مَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ» ‏‏‏‏ [الحج: ۱۸] کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اسی کے لیے سجدہ کرتے ہیں جو کوئی آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چوپائے اور بہت سے لوگ۔ اور بہت سے وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا اور جسے اللہ ذلیل کر دے پھر اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔ بے شک اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
➍ سورج کا روزانہ غروب کے بعد دوبارہ طلوع ہونا موت کے بعد زندگی کی واضح دلیل ہے۔
➎ سورج اور چاند کی عظیم مخلوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو جلال و کمال والی صفات عزيز اور عليم کا یہاں بھی ذکر فرمایا ہے اور سورۂ انعام (۹۶) اور سورۂ حٰم السجدہ (۱۲) میں بھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) یعنی اپنے اس مدار (فلک) پر چلتا رہتا ہے، جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے، اسی سے اپنی سیر کا آغاز کرتا ہے اور وہیں پر ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے ذرا ادھر ادھر نہیں ہوتا، کہ کسی دوسرے سیارے سے ٹکرا جائے۔ دوسرے معنی ہیں، اپنے ٹھہرنے کی جگہ تک، اور اس کا یہ مقام قرار عرش کے نیچے ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ سورج روزانہ غروب کے بعد عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور پھر وہاں سے طلوع ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے (صحیح بخاری، تفسیر سورة یسین) دونوں مفہوم کے اعتبار سے لمستقر میں لام، علت کے لئے ہے۔ ای۔ لأجل مستقرلھا بعض کہتے ہیں کہ لام، الی کے معنی میں ہے، پھر مستقر یوم قیامت ہوگا۔ یعنی سورج کا یہ چلنا قیامت کے دن تک ہے، قیامت والے دن اس کی حرکت ختم ہوجائے گی۔ یہ تینوں مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اور سورج اپنی مقررہ گزر گاہ پر چل [36] رہا ہے۔ یہی زبردست علیم ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔
[36] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح فضا میں دوسرے تمام سیارے اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں اسی طرح سورج بھی اپنے مدار یا اپنی مقر رہ گزر گاہ پر چل رہا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ جو ہر چیز پر غالب اور اپنی مخلوقات کے تمام تر حالات سے واقف ہے، چاہے گا یہ سورج اسی طرح اپنی مقر رہ گزر گار پر چلتا رہے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
سورج کا عرش الٰہی کے نیچے سجدہ ریز ہونا:۔
ایک دفعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذرؓ سے پوچھا: ”جانتے ہو کہ سورج غروب ہونے کے بعد کہاں جاتا ہے؟“ سیدنا ابو ذرؓ کہنے لگے: ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج غروب ہونے پر اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوتا ہے اور دوسرے دن طلوع ہونے کا اذن مانگتا ہے تو اسے اذن دے دیا جاتا ہے پھر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس سے کہا جائے گا کہ جدھر سے آیا ہے ادھر ہی لوٹ جا۔ پھر وہ مغرب سے طلوع ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی“ [بخاری۔ کتاب التوحید۔ باب وکان عرشہ علی الماء]
اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ سورج اور اسی طرح دوسرے سیاروں کی گردش محض کشش ثقل اور مرکز گریز قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجرام فلکی اور ان کے نظام پر اللہ حکیم و خبیر کا زبردست کنٹرول ہے کہ ان میں نہ تو تصادم و تزاحم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی مقر رہ گردش میں کمی بیشی ہوتی ہے اور یہ سب اجرام اللہ کے حکم کے تحت گردش کر رہے ہیں دوسرے یہ کہ قیامت سے پہلے ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اس کے بعد نظام کائنات بگڑ جائے گا۔ آج کا مغرب زدہ طالب علم سورج کے طلوع و غروب ہونے اور عرش کے نیچے جا کر دوبارہ طلوع ہونے کی اجازت مانگنے کا مذاق اڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ سورج تو اپنی جگہ پر قائم ہے اور ہمیں جو طلوع و غروب ہوتا نظر آتا ہے تو یہ محض زمین کی محوری گردش کی وجہ سے ہے حالانکہ اللہ کا عرش اتنا بڑا ہے کہ ایک سورج کی کیا بات ہے کائنات کی ایک ایک چیز اس کے عرش کے تلے ہے اور جن و انس کے سوا ہر چیز اس کے ہاں سجدہ ریز یا اللہ کی طرف سے سپرد کردہ خدمت سرانجام دینے پر لگی ہوئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گردش شمس و قمر ٭٭
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا «يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا» [7- الاعراف: 54]‏‏‏‏ رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آ گئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آ جائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954]‏‏‏‏
ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت «ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّـهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ» [22-الحج: 61]‏‏‏‏ کے ہے یعنی اللہ تعالٰی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے۔
حضرت امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ «ایلاج» ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ «مستقر» سے مراد یا تو «مستقر مکانی» یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لیے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہٰ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آ جاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہو جاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔
صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [36-یس: 38]‏‏‏‏، تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:3199]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، [صحیح بخاری:4803]‏‏‏‏
مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ [صحیح بخاری:3199]‏‏‏‏
ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہو گا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ [صحیح بخاری:3199]‏‏‏‏
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہو جا۔ یہی قیامت کا دن ہو گا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہو گا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لیے جو اس سے پہلے ایماندار اور نیکوکار نہ تھے بے کار ہو گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔
دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہو جائے گی یہ بے نور ہو جائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہو جائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، سیدنا ابن مسعود اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لیے سکون و قرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا «وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاىِٕـبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ» [14- ابراھیم: 33]‏‏‏‏ یعنی اس نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کر سکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے۔
جیسے فرمایا «فَالِقُ الْاِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ» [6- الانعام: 96]‏‏‏‏، صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔
حم سجدہ کی آیت «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [41-فصلت: 12]‏‏‏‏ کو بھی اسی طرح ختم کیا۔
پھر فرماتا ہے «هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ» [10-یونس: 5]‏‏‏‏ چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہو جائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہو جاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [2-البقرة: 189]‏‏‏‏ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لیے ہے۔
اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کر لو۔ ایک آیت میں ہے «وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا» [17-الإسراء: 12]‏‏‏‏ ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کر سکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو ہم نے ہرچیز کو خوب تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔
مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہو جاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہو جاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھٹتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہو جاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔
پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لیے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لیے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لیے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لیے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لیے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو «شاۃ درعاء» کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لیے کہ اس میں چاند ختم ہو جاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہو جائے یا آگے پیچھے ہو جائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابوصالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کر سکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آ سکتی بلکہ درمیان میں دن آ جائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بے نظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔