(آیت 32){ وَاِنْكُلٌّلَّمَّاجَمِيْعٌ …:} یہ {”اِنْ“} نافیہ ہے اور {”لَمَّا“} بمعنی {”إِلَّا“} ہے۔ یعنی جو لوگ پہلے گزر چکے یا موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے، وہ سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ {”مُحْضَرُوْنَ“} اسم مفعول ہے، یعنی وہ چاہیں یا نہ چاہیں، اپنے خیال میں جتنے بڑے ہوں، ہر حال میں سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
32۔ 1 مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گذشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگیں جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
32۔ اور یہ سب لوگ (ایک دن) ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔