ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 32

وَ اِنۡ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾
اور نہیں ہیں وہ سب مگر اکٹھے ہمارے پاس حاضر کیے جانے والے ہیں۔ En
اور سب کے سب ہمارے روبرو حاضر کيے جائیں گے
En
اور نہیں ہے کوئی جماعت مگر یہ کہ وه جمع ہو کر ہمارے سامنے حاضر کی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32){ وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِيْعٌ …:} یہ { اِنْ } نافیہ ہے اور { لَمَّا } بمعنی {إِلَّا} ہے۔ یعنی جو لوگ پہلے گزر چکے یا موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے، وہ سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔ { مُحْضَرُوْنَ } اسم مفعول ہے، یعنی وہ چاہیں یا نہ چاہیں، اپنے خیال میں جتنے بڑے ہوں، ہر حال میں سب ہمارے پاس اکٹھے حاضر کیے جانے والے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 مطلب یہ ہے کہ تمام لوگ گذشتہ بھی اور آئندہ آنے والے بھی، سب اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونگیں جہاں ان کا حساب کتاب ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ اور یہ سب لوگ (ایک دن) ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔