ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 31

اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
کیا انھوں نے نہیں دیکھا، ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے کہ وہ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آتے۔ En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اب وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے
En
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان کے پہلے بہت سی قوموں کو ہم نے غارت کر دیا کہ وه ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) {اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ …: اَلَمْ يَرَوْا } سے مراد {أَلَمْ يَعْلَمُوْا} ہے، یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں اور اس کی پاداش میں انھیں ہلاک کر دیا جاتا تھا اور ان کا نام و نشان تک ایسا مٹا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا، پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزا شروع کر دیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے اور آج کفارِ مکہ کا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ (کیلانی) { لَا يَرْجِعُوْنَ } (وہ پلٹ کر نہیں آتے) کے لفظ میں ان لوگوں کا رد ہے جو بعض شخصیتوں کے موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کے قائل ہیں اور ان ہندؤوں کا بھی جو کہتے ہیں کہ تمام مرنے والے دوبارہ دنیا میں کسی دوسری شکل میں آتے ہیں۔ اگر پہلی زندگی میں انھوں نے اچھے کام کیے ہوں تو پہلے سے اچھی صورت میں اور اگر برے کام کیے ہوں تو پہلے سے بری صورت میں اور اس عقیدے کو تناسخ یا او اگون کہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 اس میں اہل مکہ کے لئے تنبیہ ہے کہ تکذیب رسالت کی وجہ سے جس طرح پچھلی قومیں تباہ ہوئیں یہ بھی تباہ ہوسکتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ کتنی ہی قومیں ہم ان سے [31] پہلے ہلاک کر چکے ہیں جو ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئیں گی
[31] یعنی سابقہ اقوام کے انجام کی طرف نہ دیکھتے ہیں نہ اس میں غور و فکر کرتے ہیں وہ قومیں بھی اپنے رسولوں کا مذاق اڑاتی رہیں۔ اور اس کی پاداش میں انہیں ہلاک کر دیا جاتا تھا اور ان کا ایسا نام و نشان تک مٹ گیا کہ ان میں سے کوئی بھی بچ کر ان کے پاس واپس نہیں لوٹا پھر بھی ان کافروں کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی نیا رسول آتا تو اس سے اسی طرح تمسخر اور استہزاء شروع کر دیتے جو پہلے کفار کی عادت تھی اور کچھ سبق حاصل نہیں کرتے تھے۔ اور آج کفار مکہ کا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

منکرین کی ندامت ٭٭
بندوں پر حسرت و افسوس ہے۔ بندے کل اپنے اوپر کیسے نادم ہوں گے۔ باربار کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم نے تو خود اپنا برا کیا۔ بعض قرأتوں میں «یٰحَسرَۃَ العِبَادِ عَلٰی اَنفُسِھَم» بھی ہے مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن عذابوں کو دیکھ کر ہاتھ ملیں گے کہ انہوں نے کیوں رسولوں کو جھٹلایا؟ اور کیوں اللہ کے فرمان کے خلاف کیا؟
دنیا میں تو ان کا یہ حال تھا کہ جب کبھی جو رسول آیا انہوں نے بلا تامل جھٹلایا اور دل کھول کر ان کی بےادبی اور توہین کی۔ وہ اگر یہاں تامل کرتے تو سمجھ لیتے کہ ان سے پہلے جن لوگوں نے پیغمبروں کی نہ مانی تھی وہ غارت و برباد کر دیئے گئے ان کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ایک بھی تو ان میں سے نہ بچ سکا نہ اس دار آخرت سے کوئی واپس پلٹا۔ اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو دہریہ تھے جن کا خیال تھا کہ یونہی دنیا میں مرتے جیتے چلے جائیں گے، لوٹ لوٹ کر اس دنیا میں آئیں گے۔ تمام گزرے ہوئے موجود اور آنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حساب و کتاب کے لیے حاضر کئے جائیں گے اور وہاں ہر ایک بھلائی برائی کا بدلہ پائیں گے۔
جیسے اور آیت میں فرمایا «وَاِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اِنَّهٗ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ» [11-ھود: 111]‏‏‏‏ یعنی ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ تیرا رب عطا فرمائے گا، ایک قرأت میں «لما» ہے تو، «اِنَّ» ، اثبات کے لیے ہو گا، اور «لَمَاّ» پڑھنے کے وقت، «اِنَّ» ، نافیہ ہو گا اور «لَمَاّ» معنی میں الا کے ہو گا تو مطلب آیت کا یہ ہو گا کہ نہیں ہیں سب مگر یہ کہ سب کے سب ہمارے سامنے حاضر شدہ ہیں دوسری قرأت کی صورت میں بھی مطلب یہی رہے گا۔ «واللہ سبحان و تعالیٰ اعلم»