ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 25

اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
بے شک میں تمھارے رب پر ایمان لایا ہوں، سو مجھ سے سنو۔ En
میں تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں سو میری بات سن رکھو
En
میری سنو! میں تو (سچے دل سے) تم سب کے رب پر ایمان ﻻ چکا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25){ اِنِّيْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِ:} پھر اس مرد ناصح نے لوگوں کو اور اس بستی کی طرف بھیجے گئے پیغمبروں کو، سب کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایمان لانے کا اور اس پر اپنی استقامت کا اعلان کیا، یعنی میں اس رب پر ایمان لایا ہوں جو میرا ہی نہیں تمھارا بھی رب ہے، سو تم پر لازم ہے کہ میری بات غور سے سنو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 اس کی دعوت توحید اور اقرار توحید کے جواب میں قوم نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے پیغمبروں سے خطاب کر کے یہ کہا مقصد اپنے ایمان پر ان پیغمبروں کو گواہ بنایا تھا۔ یا اپنی قوم سے خطاب کر کے کہا جس سے مقصود دین حق پر اپنی صلاحیت اور استقامت کا اظہار تھا کہ تم جو چاہو کرلو، لیکن اچھی طرح سن لو کہ میرا ایمان اسی رب پر ہے، جو تمہارا بھی رب ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو مار ڈالا اور کسی نے ان کو اس سے نہیں روکا۔ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ میں تو بلا شبہ تمہارے [27] پروردگار پر ایمان لا چکا، تم میری بات توجہ سے سنو (اور مان لو)
[27] اپنے ایمان کا برملا اعلان:۔
یہ باتیں سمجھانے کے بعد اس نے کافروں کے بھرے مجمع میں پوری جرأت کے ساتھ اپنے ایمان کا اعلان کر دیا اور اعلان بھی اس انداز میں کیا کہ ”میں تمہارے پروردگار پر ایمان لا چکا“ یہ نہیں کہا کہ میں اپنے پروردگار پر ایمان لا چکا۔ یعنی جیسے وہ میرا پروردگار ہے ویسے ہی تمہارا بھی ہے۔ اور میں اس پر ایمان لا کر غلطی نہیں کر رہا بلکہ تم ایمان نہ لا کر غلطی کر رہے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔