(آیت 24){ اِنِّيْۤاِذًالَّفِيْضَلٰلٍمُّبِيْنٍ:} یعنی اگر میں ایسا کروں گا تو اس وقت میں یقینا کھلی گمراہی میں ہوں گا۔ اس بستی والوں میں عقیدے اور عمل کی جو خرابیاں تھیں وہ سب اہلِ مکہ میں بھی پائی جاتی تھیں۔ اس بستی والوں کی مثال کے ساتھ مقصود اہلِ مکہ کو سمجھانا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 یعنی اگر میں بھی تمہاری طرح اللہ کو چھوڑ کر ایسے بےاختیار اور بےبس معبودوں کی عبادت شروع کر دوں، تو میں بھی کھلی گمراہی میں جا گروں گا۔ یا ضلال یہاں حسران کے معنی میں ہے، یعنی یہ تو نہایت واضح خسارے کا سودا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ تب تو میں یقیناً صریح گمراہی میں جا پڑا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔