وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
اور شہر کے سب سے دور کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو۔
En
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
En
اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راه پر چلو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 20) ➊ {وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ يَّسْعٰى:} آیات سے ظاہر ہے کہ پیغمبروں کی دعوت اور قوم کا مباحثہ مدت تک جاری رہا، حتیٰ کہ ان کی دعوت ساری بستی میں پھیل گئی اور جب انھوں نے قتل کی دھمکی دی تو یہ خبر بھی ہر طرف پھیل گئی کہ بستی کے لوگ پیغمبروں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ بستی خاصی بڑی تھی، جسے پہلے اللہ تعالیٰ نے {” الْقَرْيَةِ “} فرمایا ہے، اس کے بعد اسے {” الْمَدِيْنَةِ “} یعنی شہر کہا ہے۔ اس شہر کے سب سے دور کنارے میں ایک صالح آدمی رہتا تھا، اسے جب پیغمبروں کی دعوت اور قوم کے انکار کی اور پیغمبروں کو قتل کرنے کی دھمکیوں کی خبر پہنچی تو وہ شہر کے سب سے دور کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہ کہیں وہ جلدی میں پیغمبروں کو قتل ہی نہ کر دیں، اور وہ اپنی قوم کو سمجھانے لگا۔ اس مرد صالح کا یہ عمل ہمارے لیے نمونہ ہے کہ جب اسے معلوم ہو گیا کہ پیغمبر حق پر ہیں تو اس نے اس بات پر اکتفا نہیں کیا کہ اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ اللہ کرتا رہتا، بلکہ حق کی شہادت دینے کے لیے جتنی جلدی ہو سکتا تھا دوڑتا ہوا پہنچا اور اس نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے قوم کو سمجھانے کی پوری کوشش کی اور کہا، اے میری قوم! اللہ کے ان رسولوں کی پیروی اختیار کرو۔ اس مرد صالح کا نام تفاسیر میں حبیب نجار لکھا ہے جو اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ (واللہ اعلم)
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ سورۂ قصص میں موسیٰ علیہ السلام کو ان کے قتل کے مشورے کی خبر دینے والے صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ» [القصص: ۲۰] جب کہ یہاں فرمایا: «وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ» اس میں کیا حکمت ہے؟ اہلِ علم نے فرمایا کہ ہمیشہ پہلے اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے جو موقع کے لحاظ سے زیادہ اہم ہو۔ سورۂ قصص میں موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دینے والے شخص کی مردانگی کا اظہار زیادہ اہم تھا، اس لیے {” رَجُلٌ “} کا ذکر پہلے فرمایا، جب کہ یہاں اس مرد ناصح کا دور سے آ کر سمجھانے کا ذکر زیادہ اہم تھا، اس لیے {” مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ “} کو پہلے ذکر فرمایا۔ (و اللہ اعلم)
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ سورۂ قصص میں موسیٰ علیہ السلام کو ان کے قتل کے مشورے کی خبر دینے والے صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ» [القصص: ۲۰] جب کہ یہاں فرمایا: «وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ رَجُلٌ» اس میں کیا حکمت ہے؟ اہلِ علم نے فرمایا کہ ہمیشہ پہلے اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے جو موقع کے لحاظ سے زیادہ اہم ہو۔ سورۂ قصص میں موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دینے والے شخص کی مردانگی کا اظہار زیادہ اہم تھا، اس لیے {” رَجُلٌ “} کا ذکر پہلے فرمایا، جب کہ یہاں اس مرد ناصح کا دور سے آ کر سمجھانے کا ذکر زیادہ اہم تھا، اس لیے {” مِنْ اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ “} کو پہلے ذکر فرمایا۔ (و اللہ اعلم)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 یہ شخص مسلمان تھا، جب اسے پتہ چلا کہ قوم پیغمبروں کی دعوت کو نہیں اپنا رہی، تو اس نے آکر رسولوں کی حمایت اور ان کے اتباع کی ترغیب دی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ اس وقت شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا [22] ہوا آیا اور کہنے لگا: ”میری قوم کے لوگو! ان رسولوں کی پیروی اختیار کر لو
[22] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان رسولوں اور ان کی قوم میں جو مکالمہ اوپر مذکور ہوا ہے وہ کوئی چند دنوں پر مشتمل نہیں بلکہ کئی سالوں کی مدت پر محیط تھا اور رسولوں کی دعوت اور ان کے انکار اور دھمکیوں کا چرچا اس شہر کے علاوہ ارد گرد کے مضافات میں بھی پھیل چکا تھا۔ چنانچہ انہیں مضافات میں سے ایک صالح مرد جس کا نام حبیب بتایا جاتا ہے نے جب یہ سنا کہ شہر والے اپنے رسولوں کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور مبادا وہ کوئی ایسی حرکت کر نہ بیٹھیں، تو اس سے برداشت نہ ہو سکا۔ وہ خود ایک عبادت گزار انسان تھا۔ اور اپنے ہاتھوں کی حلال کمائی کھاتا تھا۔ اور اچھی شہرت رکھتا تھا، یہ باتیں سنتے ہی دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھائے کہ وہ ان رسولوں کی مخالفت سے باز آجائیں۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مبلغ حق شہید کر دیا ٭٭
مروی ہے کہ اس بستی کے لوگ یہاں تک سرکش ہو گئے کہ انہیں نے پوشیدہ طور پر نبیوں کے قتل کا ارادہ کر لیا۔ ایک مسلمان شخص جو اس بستی کے آخری حصے میں رہتا تھا جس کا نام حبیب تھا اور رسے کا کام کرتا تھا، تھا بھی بیمار، جذام کی بیماری تھی، بہت سخی آدمی تھا۔ جو کماتا تھا اس کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں خیرات کر دیا کرتا تھا۔ دل کا نرم اور فطرت کا اچھا تھا۔ لوگوں سے الگ تھلگ ایک غار میں بیٹھ کر اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نے جب اپنی قوم کے اس بد ارادے کو کسی طرح معلوم کیا تو اس سے صبر نہ ہو سکا دوڑتا بھاگتا آیا۔ بعض کہتے ہیں یہ بڑھئی تھے۔ ایک قول ہے کہ یہ دھوبی تھے۔ حضرت عمر بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جوتی گانٹھنے والے تھے۔ اللہ ان پر رحم کرے۔ انہوں نے آ کر اپنی قوم کو سمجھانا شروع کیا کہ تم ان رسولوں کی تابعداری کرو۔ ان کا کہا مانو۔
ان کی راہ چلو، دیکھو تو یہ اپنا کوئی فائدہ نہیں کر رہے یہ تم سے تبلیغ رسالت پر کوئی بدلہ نہیں مانگتے۔ اپنی خیر خواہی کی کوئی اجرت تم سے طلب نہیں کر رہے۔ درد دل سے تمہیں اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور سیدھے اور سچے راستے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ خود بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ تمہیں ضرور ان کی دعوت پر لبیک کہنا چاہیئے اور ان کی اطاعت کرنی چاہیئے۔ لیکن قوم نے ان کی ایک نہ سنی بلکہ انہیں شہید کر دیا۔ «رضی اللہ عنہا وارضاہ» ۔