ترجمہ و تفسیر — سورۃ يس (36) — آیت 1

یٰسٓ ۚ﴿۱﴾
یس۔ En
یٰسٓ
En
یٰس En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

قرآن مجید کی ہر سورت کے فضائل میں یہ بات ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا پوری کائنات جمع ہو کر بھی کسی ایک سورت جیسی سورت پیش نہیں کر سکتی۔ بعض سورتوں کی کوئی خاص فضیلت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، جیسا کہ سورۂ فاتحہ کے فضائل پیچھے گزر چکے ہیں۔ سورۂ یٰس کے فضائل میں کئی روایات مشہور ہیں، قریب الموت شخص کے پاس اسے پڑھنے کی روایت تو اتنی مشہور ہے کہ اقبال نے موجودہ مسلمانوں کے قرآن کے ساتھ تعلق کے بارے میں کہا ہے:
بآیاتش ترا کارے جزایں نیست
کہ از یاسین او آساں بمیری
یعنی اس کی آیات کے ساتھ تجھے اس کے سوا کوئی غرض نہیں کہ اس کی سورۂ یٰس کے ساتھ تیری موت آسانی سے واقع ہو جائے۔
مگر خاص طور پر اس سورت کی فضیلت میں آنے والی کوئی روایت صحیح نہیں، کچھ روایات موضوع ہیں اور کچھ ضعیف ہیں۔ یہاں تفسیر ابن کثیر میں مذکور چند روایات اور ان کا ضعف بیان کیا جاتا ہے:
(1) انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ قَلْبًا وَ قَلْبُ الْقُرْآنِ يٰسٓ مَنْ قَرَأَ يٰسٓ كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ بِقِرَاءَتِهَا قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ عَشْرَ مَرَّاتٍ] [ترمذي، فضائل القرآن، باب ما جاء في فضل یٰس: ۲۸۸۷] ہر چیز کا ایک دل ہے اور قرآن کا دل سورۂ یٰس ہے اور جو سورۂ یٰس پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے کے ساتھ اس کے لیے دس مرتبہ قرآن کی تلاوت لکھ دیتا ہے۔
امام ترمذی نے یہ روایت بیان کرکے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے حمید بن عبد الرحمان کی روایت کے علاوہ نہیں جانتے اور (اس کا ایک راوی) ہارون ابو محمد شیخ مجہول ہے۔ ابن ابی حاتم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے، انھوں نے فرمایا: [حَدِيْثٌ بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ] [العلل: 56/2] یہ باطل حدیث ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ محدث علامہ البانی نے اسے موضوع کہا ہے۔ (دیکھیے ضعیف سنن ترمذی)
(2) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ قَرَأَ يٰسٓ فِيْ لَيْلَةٍ أَصْبَحَ مَغْفُوْرًا لَّهُ] [مسند أبي یعلٰی: ۶۲۲۴] جو شخص کسی رات سورۂ یٰس پڑھے، وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اسے بخش دیا گیا ہوتا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی سند کو جید کہا ہے، مگر مسند ابویعلٰی کے محقق نے اس کے ایک راوی ہشام بن زیاد کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور حافظ ابنِ حجر نے تقریب میں اس راوی کے متعلق فرمایا: { مَتْرُوْكٌ } یعنی اسے محدثین نے ترک کر دیا ہے۔
(3) جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ قَرَأَ يٰسٓ فِيْ لَيْلَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللّٰهِ غُفِرَ لَهُ] [ابن حبان: ۲۵۷۴] جو شخص کسی رات اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے سورۂ یٰس پڑھے، اسے بخش دیا جاتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ حسن نے جندب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا۔
(4) معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يٰسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ لَا يَقْرَأُهَا رَجُلٌ يُرِيْدُ اللّٰهَ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ وَاقْرَؤُوْهَا عَلٰی مَوْتَاكُمْ] [مسند أحمد:26/5، ح: ۲۰۳۰۰] سورۂ یٰس قرآن کا دل ہے، جو آدمی بھی اسے اللہ اور دار آخرت کے ارادے سے پڑھے، اسے بخش دیا جاتا ہے اور تم اسے اپنے مرنے والوں پر پڑھو۔ تفسیر ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ اس کی سند {عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيْهِ} دو آدمیوں کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
(5) ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَوَدِدْتُّ أَنَّهَا فِيْ قَلْبِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِيْ يَعْنِيْ يٰسٓ] [مسند بزار: ۲۳۰۵] میری خواہش ہے کہ یہ یعنی سورۂ یٰس میری امت کے ہر انسان کے دل میں موجود ہو۔ محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کا ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ضعیف ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں مذکور روایات کے علاوہ ایک مشہور روایت یہ ہے کہ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ قَرَأَ يٰسٓ فِيْ صَدْرِ النَّهَارِ قُضِيَتْ حَوَائِجُهُ] [سنن الدارمي: 549/2، ح: ۳۴۱۸] جو شخص دن کے شروع حصے میں سورۂ یٰس پڑھے، اس کی ضرورتیں پوری کر دی جاتی ہیں۔ دارمی کے محقق حسین سلیم اسد نے فرمایا: اس کی سند ضعیف و مرسل ہے۔ یعنی عطاء بن ابی رباح تابعی ہیں، انھوں نے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور نہ اپنی خبر کا ذریعہ بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں ابراہیم بن حکم راوی ضعیف ہے۔ ان روایات کے علاوہ روایات کا حال ان سے بھی ابتر ہے۔
(آیت 1){ يٰسٓ:} یہ حروف مقطعات ہیں، ان کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی پہلی آیت۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

یٰسِین (1)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

یٰس [1، 2]
[1] فضائل سورۃ یس:۔
سورہ یٰسین میں قرآن مجید کی دعوت کو بڑے پر زور دلائل کے ساتھ اور نہایت موثر پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ بندہ مومن کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور عالم آخرت کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ترجمہ بھی ذہن میں رکھا جائے اور جو لوگ ترجمہ نہیں جانتے وہ ساتھ ساتھ اردو ترجمہ پڑھتے جائیں تاکہ اس سورت کی برکات سے مستفید ہوا جائے۔ یہ جو عام طور پر جامع ترمذی نہیں جانتے وہ ساتھ ساتھ اردو ترجمہ پڑھتے جائیں تاکہ اس سورت کی برکات سے مستفید ہوا جائے۔ یہ جو عام طور پر ترمذی کی روایت مشہور ہے کہ سورہ یٰسین قرآن کا دل ہے جس نے سورۃ یٰسین پڑھی اس کے عوض دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ بیہقی کی روایت کے مطابق اپنے مرنے والوں پر سورۃ یٰسین پڑھا کرو جس نے جمعہ کے روز سورہ یٰسین پڑھی اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ یہ روایات ضعیف ہیں۔ یاد رہے کہ سورۃ یٰسین کی فضیلت میں جتنی احادیث ملتی ہیں ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے وہ سب کی سب ضعیف یا موضوع ہیں۔
[2] اگرچہ یہ لفظ بھی دو حروف مقطعات کا مجموعہ ہے۔ تاہم اس کے پہلے لفظ یا سے جو حرف ندا ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ندا اور منادیٰ سے مل کر ایک جملہ بن رہا ہے۔ اسی لئے اکثر مفسرین نے اس کا ترجمہ اے شخص، اے مرد یا اے انسان سے کیا ہے۔ اور اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صراط مستقیم کی وضاحت ٭٭
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں ہوتے ہیں جیسے یہاں یاسین ہے ان کا پورا بیان ہم سورۃ البقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں لہٰذا اب یہاں اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یٰسین سے مراد اے انسان ہے۔ بعض کہتے ہیں حبشی زبان میں اے انسان کے معنی میں یہ لفظ ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ اللہ کا نام ہے، پھر فرماتا ہے قسم ہے محکم اور مضبوط قرآن کی جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا، کہ بالیقین اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، سچے اچھے مضبوط اور عمدہ سیدھے اور صاف دین پر آپ ہیں، یہ راہ اللہ رحمن و رحیم صراط مستقیم کی ہے،
اسی کا اترا ہوا یہ دین ہے جو عزت والا اور مومنوں پر خاص مہربانی کرنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّكَ لَـــتَهْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ» [42- الشورى: 52]‏‏‏‏، تو یقیناً راہ راست کی رہبری کرتا ہے جو اس اللہ کی سیدھی راہ ہے جو آسمان و زمین کا مالک ہے اور جس کی طرف تمام امور کا انجام ہے، تاکہ تو عربوں کو ڈرا دے جن کے بزرگ بھی آگاہی سے محروم تھے جو محض غافل ہیں۔ ان کا تنہا ذکر کرنا اس لیے نہیں کیا کہ دوسرے اس تنبیہہ سے الگ ہیں۔ جیسے کہ بعض افراد کے ذکر سے عام کی نفی نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عام تھی ساری دنیا کی طرف تھی اس کے دلائل وضاحت و تفصیل سے آیت «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [7- الاعراف: 158]‏‏‏‏ کی تفسیر میں بیان ہو چکے ہیں، اکثر لوگوں پر اللہ کے عذابوں کا قول ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں تو ایمان نصیب نہیں ہونے کا وہ تو تجھے جھٹلاتے ہی رہیں گے۔