ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 5

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۵﴾
اے لوگو! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے تو کہیں دنیا کی زندگی تمھیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور کہیں وہ دھوکے باز تمھیں اللہ کے بارے میں دھوکا نہ دے جائے۔ En
لوگو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے
En
لوگو! اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے تمہیں زندگانیٴ دنیا دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں غفلت میں ڈالے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ { يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ:} وعدے سے مراد آخرت کا وعدہ ہے، جس کا پچھلی آیت کے آخری جملے میں ذکر ہے کہ تمام معاملات اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔
➋ { فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا:} یعنی اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے کہ تمھیں اس کے حضور پیش ہونا ہے تو کہیں دنیا کی زندگی اپنی لذتوں اور دل فریبیوں کے ساتھ تمھیں اس دھوکے میں نہ ڈال دے کہ بس یہی زندگی ہے، کیونکہ اس دنیا نے بہت سے لوگوں کو اس دھوکے میں رکھ کر برباد کر دیا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۹)، مؤمنون (۳۷) اور سورۂ جاثیہ (۲۴) { الدُّنْيَا اَلْأَدْنٰي} کی مؤنث ہے، قریب کی زندگی جو آخرت کے مقابلے میں قریب ہے، یا کمینی اور حقیر زندگی، جیسا کہ {دَنِئٌ} بمعنی حقیر ہے۔ مقصود دنیا کی زندگی کی حقارت کی طرف توجہ دلا کر اس سے ہوشیار ہونے کی تاکید ہے۔
➌ { وَ لَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ: الْغَرُوْرُ } غین کے ضمّہ کے ساتھ {غَرَّ يَغُرُّ} (ن) کا مصدر ہے، دھوکا دینا اور غین کے فتحہ کے ساتھ صفت مشبہ ہے، جس میں مبالغے کا معنی بھی ہے، یعنی بہت دھوکا دینے والا۔ الف لام اس میں عہد کا ہے، وہ دھوکا دینے والا جسے تم بھی جانتے ہو، یعنی شیطان، جس کی صراحت اگلی آیت میں آرہی ہے، جیسا کہ {شُكُوْرٌ} (شین کے ضمّہ کے ساتھ) شکر کرنا اور {شَكُوْرٌ} (شین کے فتحہ کے ساتھ) بہت شکر کرنے والا۔
➍ شیطان اللہ تعالیٰ کے بارے میں کئی طرح سے فریب دیتا ہے، کسی کو یہ فریب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا سرے سے وجود ہی نہیں، یہ کائنات خود بخود چل رہی ہے۔ کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرتا ہے کہ اللہ کے سوا اور بھی معبود ہیں جو نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں۔ کسی کو یہ حکم دیتا ہے کہ گناہ کر لو پھر توبہ کر لینا، کسی کو اللہ کی رحمت کے نام پر دھوکا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور و رحیم ہے، جتنے چاہو گناہ کر لو، وہ بخش دے گا اور اکثر کو تسویف کے ساتھ دھوکا دیتا ہے، تسویف کا معنی ہے {سَوْفَ أَفْعَلُ} کہ میں نیک عمل کر ہی لوں گا، ایسی بھی کیا جلدی ہے، ابھی بہت وقت باقی ہے، وہ آدمی کو اسی دھوکے میں رکھتا ہے، حتیٰ کہ عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 کہ قیامت برپا ہوگی اور نیک و بد کو ان کے عملوں کی جزا و سزا دی جائے گی۔ 5۔ 2 یعنی آخرت کی ان نعمتوں سے غافل نہ کردے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور رسولوں کے پیروکاروں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔ پس اس دنیا کی عارضی لذتوں میں کھو کر آخرت کی دائمی راحتوں کو نظر انداز نہ کرو

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ [8] میں نہ ڈال دے اور نہ ہی اللہ کے بارے میں وہ دھوکہ باز [9] (شیطان) تمہیں دھوکہ دینے پائے۔
[8] یعنی دنیا کے مال و دولت، اس کے عیش و آرام، اس کی دلکشیوں اور دلفریبیوں میں محو اور مستغرق ہو کر اپنے انجام کو بھول نہ جانا۔ اللہ کے ہاں ہر نعمت سے متعلق باز پرس ہونے والی ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا تھا یا ناشکری کی تھی۔ نیز اس دنیا میں کوئی بھی چیز بے کار پیدا نہیں کی گئی۔ ہر عمل اپنا ایک نتیجہ رکھتا ہے۔ اور اس کے محاسبہ سے تم بچ نہیں سکتے۔ لہٰذا اس دھوکہ میں نہ رہنا کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ تمہارے تمام تر اعمال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج تمہیں دوسری زندگی میں بھگتنا ہوں گے۔ اللہ کا یہ وعدہ ہے اور یہی اس کا قانون مکافات ہے جس کا خلاف کبھی نہیں ہو سکتا۔
[9] شیطان کا اللہ کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینا:۔
غرور بمعنی بہت بڑا دھوکا باز اور یہ شیطان ہے۔ جو اللہ ہی کے بارے میں انسان کو دھوکا میں ڈالے رکھتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ اللہ کی ہستی کے بارے میں لوگوں کو دھوکا دیتا ہے اور وہ اس کے دھوکہ میں آکر اللہ کی ہستی کے ہی منکر بن جاتے ہیں اور جو لوگ شیطان کے اس فریب سے بچ نکلتے ہیں تو وہ اللہ کی صفات میں بہت سی دوسری ہستیوں کو شریک بنانے کی راہیں سجھاتا ہے اور ہر دور میں نئی نئی راہیں سجھاتا ہے کچھ لوگ مظاہر کائنات کے پجاری ہیں کچھ فرشتوں، کچھ جنوں، کچھ اولیاء اللہ اور ان کی قبروں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ہر دور میں شیطان انہیں شرک کے جواز پر نئی سے نئی دلیلیں سجھاتا رہتا ہے۔ پھر جو لوگ اس فریب سے بھی بچ نکلتے ہیں انہیں یہ پٹی پڑھاتا رہتا ہے کہ اگر تم سے یہ گناہ سرزد ہو بھی گیا تو اللہ بڑا غفور رحیم ہے یا ابھی بہت زندگی پڑی ہے۔ بعد میں توبہ تائب کر لیں گے۔ اس طرح شیطان لوگوں کو اللہ اور اس کے عذاب سے نڈر اور گناہوں پر جری بنا دیتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مایوسی کی ممانعت ٭٭
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کے زمانے کے کفار آپ کی مخالفت کریں اور آپ کی بتائی ہوئی توحید اور خود آپ کی سچی رسالت کو جھٹلائیں۔ تو آپ شکستہ دل نہ ہو جایا کریں۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا۔ سب کاموں کا مرجع اللہ کی طرف ہے۔ وہ سب کو ان کے تمام کاموں کے بدلا دے گا اور سزا جزا سب کچھ ہو گی، لوگو قیامت کا دن حق ہے وہ یقیناً آنے والا ہے وہ وعدہ اٹل ہے۔ وہاں کی نعمتوں کے بدلے یہاں کے فانی عیش پر الجھ نہ جاؤ۔ دنیا کی ظاہری عیش کہیں تمہیں وہاں کی حقیقی خوشی سے محروم نہ کر دے۔ اسی طرح شیطان مکار سے بھی ہوشیار رہنا۔ اس کے چلتے پھرتے جادو میں نہ پھنس جانا۔ اس کی جھوٹی اور چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اللہ رسول کے حق کلام کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ سورۃ لقمان کے آخر میں بھی یہی فرمایا ہے۔ پس غرور یعنی دھوکے باز یہاں شیطان کو کہا گیا ہے۔ جب مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان قیامت کے دن دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں دروازہ ہو گا۔ جس کے اندرونی حصے میں رحمت ہو گی اور ظاہری حصے میں عذاب ہو گا اس وقت منافقین مومنین سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہ تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں ساتھ تو تھے لیکن تم نے تو اپنے تئیں فتنے میں ڈال دیا تھا اور سوچتے ہی رہے شک شبہ دور ہی نہ کیا خواہشوں کو پورا کرنے میں ڈوبے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچا اور دھوکے باز شیطان نے تمہیں بہلا وے میں ہی رکھا۔ اس آیت میں بھی شیطان کو غرور کہا گیا ہے، پھر شیطانی دشمنی کو بیان کیا کہ وہ تو تمہیں مطلع کر کے تمہاری دشمنی اور بربادی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ پھر تم کیوں اس کی باتوں میں آ جاتے ہو؟ اور اس کے دھوکے میں پھنس جاتے ہو؟ اس کی اور اس کی فوج کی تو عین تمنا ہے کہ وہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر جہنم میں لے جائے۔ اللہ تعالیٰ قوی و عزیز سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں شیطان کا دشمن ہی رکھے اور اس کے مکر سے ہمیں محفوظ رکھے اور اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنتوں کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے اور دعاؤں کا قبول فرمانے والا ہے۔ جسطرح اس آیت میں شیطان کی دشمنی کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ الکہف کی آیت «وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗوَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۭ بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» ۱؎،[18-الكهف:50]‏‏‏‏ میں بھی اس کی دشمنی کا ذکر ہے۔