ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 37

وَ ہُمۡ یَصۡطَرِخُوۡنَ فِیۡہَا ۚ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ اَوَ لَمۡ نُعَمِّرۡکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ النَّذِیۡرُ ؕ فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ نَّصِیۡرٍ ﴿٪۳۷﴾
اور وہ اس میں چلائیں گے، اے ہمارے رب! ہمیں نکال لے، ہم نیک عمل کریں گے، اس کے خلاف جو ہم کیا کرتے تھے۔ اور کیا ہم نے تمھیں اتنی عمر نہیں دی کہ اس میں جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا حاصل کر لیتا اور تمھارے پاس خاص ڈرانے والا بھی آیا۔ پس چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ En
وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے۔ نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔ تو اب مزے چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
En
اور وه لوگ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم کو نکال لے ہم اچھے کام کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے، (اللہ کہے گا) کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ جس کو سمجھنا ہوتا وه سمجھ سکتا اور تمہارے پاس ڈرانے واﻻ بھی پہنچا تھا، سو مزه چکھو کہ (ایسے) ﻇالموں کا کوئی مددگار نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37) ➊ {وَ هُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا …: يَصْطَرِخُوْنَ صَرَخَ يَصْرُخُ صُرَاخًا} (ن) (سخت چیخنا) سے باب افتعال ہے، جس میں مزید مبالغہ ہے، اصل میں {يَصْتَرِخُوْنَ} تھا، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا، یعنی بہت چیخیں چلائیں گے۔ جہنمیوں کی تمنا کہ انھیں ایک دفعہ جہنم سے نکال کر دنیا میں بھیج دیا جائے اور وہ پہلے کے برعکس نیک عمل کریں گے، قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر ہوئی ہے، مگر ان کی یہ تمنا پوری نہیں کی جائے گی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۵۳)، سجدہ (۱۲)، مؤمن (۱۱) اور سورۂ شوریٰ (۴۴) ایک مقام پر فرمایا کہ اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو دوبارہ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۸)۔
➋ {اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ …:} اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَعْذَرَ اللّٰهُ إِلَی امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتّٰی بَلَّغَهُ سِتِّيْنَ سَنَةً] [بخاري، الرقاق، باب من بلغ ستین سنۃ…: ۶۴۱۹]اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کا عذر ختم کر دیا جس کی موت میں اتنی دیر کی کہ وہ ساٹھ برس ہی کو پہنچ گیا۔ مگر اس حدیث سے مراد یہ نہیں کہ اس سے کم عمر والے کو یہ بات نہیں کہی جائے گی، بلکہ مراد یہ ہے کہ سب سے زیادہ ڈانٹ اس عمر کے لوگوں کو پڑے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ہر اس شخص کو کہی جائے گی جو بلوغت کی عمر کو پہنچا، اللہ تعالیٰ نے اسے اچھے برے کی تمیز عطا فرمائی، اگر وہ چاہتا تو ایمان لا سکتا تھا، مگر وہ جان بوجھ کر کفر پر اڑا رہا۔ کیونکہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ ساٹھ سال سے کم عمر والے کفار کو اس عذر کی وجہ سے جہنم سے چھٹکارا نہیں ملے گا کہ انھیں ساٹھ برس کی عمر نہیں ملی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کتنے ہی کافر جہنم واصل ہوئے، جن کی عمریں ساٹھ سال سے کم تھیں۔
➌ {وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ:} اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد ہر وہ شخص ہے جس کے ذریعے سے کسی کو حق کا پیغام پہنچے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قاعدہ ہے: «وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۱۵] اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ { النَّذِيْرُ } کا لفظ عام ہے، جس میں رسول اور اس کے نائب کے علاوہ وقتاً فوقتاً پیش آنے والے حوادث بھی شامل ہیں، جن سے بندہ عبرت حاصل کر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَوَ لَا يَرَوْنَ اَنَّهُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ يَذَّكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۱۲۶] اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ نصیحت پکڑتے ہیں۔ بعض سلف نے سفید بالوں کو بھی { النَّذِيْرُ } میں شامل کیا ہے، کیونکہ وہ زندگی کی مہلت ختم ہونے سے خبردار کرتے ہیں۔
➍ {فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ:} یہاں ظالموں سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ جہنم میں ہمیشہ وہی رہیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 یعنی غیروں کی بجائے تیری عبادت اور معصیت کی بجائے اطاعت کریں گے۔ 37۔ 2 اس سے مراد کتنی عمر ہے؟ مفسرین نے مختلف عمریں بیان کی ہیں بعض نے احادیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ 60 سال کی عمر مراد ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں عمر کی تعیین صحیح نہیں اس لیے کہ عمریں مختلف ہوتی ہیں کوئی جوانی میں کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے پھر یہ ادوار بھی لمحہ گزراں کی طرح مختصر نہیں ہوتے، مثلا ہر دور خاصا لمبا ہوتا ہے مثلا جوانی کا دور، بلوغت سے کہولت تک اور کہولت کا دور شیخوخت بڑھاپے تک اور بڑھاپے کا دور موت تک رہتا ہے۔ اور سب سے یہ سوال کرنا صحیح ہوگا کہ ہم نے تجھے اتنی عمر دی تھی کہ اگر تو حق کو سمجھنا چاہتا تو سمجھ سکتا تھا پھر تو نے حق کو سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ 37۔ 3 اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی یاد دہانی اور نصیحت کے لئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے منبر و محراب کے وارث علماء تیرے پاس آئے، لیکن تو نے اپنی عقل فہم سے کام لیا نہ داعیان حق کی باتوں کی طرف دھیان کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ وہاں وہ چیخ چیخ کر کہیں گے: ”ہمارے پروردگار! ہمیں (اس سے) نکال کہ ہم نیک عمل کریں۔ ویسے نہیں جیسے پہلے کیا کرتے تھے۔ (اللہ تعالیٰ جواب میں فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں [41] دی تھی جس میں اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہتا تو کر سکتا تھا؟ حالانکہ تمہارے پاس ڈرانے والا (بھی) آیا تھا اب (عذاب کا) مزا چکھو یہاں ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
[41] جہنمیوں کی فریاد کے مختلف جوابات:۔
اہل دوزخ کی اس فریاد کا ذکر بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے اور اس کے مختلف جواب بھی۔ مثلاً ایک مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ اگر ہم انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیں تو وہ پھر دل کی دلفریبیوں پر مفتون ہو جائیں گے اور پھر ویسے ہی کام کریں گے جیسے پہلے کر کے آئے ہیں۔ دوسرے مقام پر یہ جواب دیا گیا کہ ان کی یہ آرزو بالکل لغو ہو گی۔ کیونکہ ایمان لانے سے مراد غیب پر ایمان لانا ہے اور اعمال صالحہ کا نمبر اس کے بعد آتا ہے اور یہاں روز آخرت میں جب سب کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو پھر یہ تو ایمان بالشہادت ہو گیا۔ اور شہادت یا دیکھی ہوئی چیز پر تو ہر کوئی یقین کر لیتا ہے۔ پھر ان کی آزمائش کیا رہی جبکہ ہر انسان کو قوت ارادہ و اختیار اور عقل و فہم اس لئے دیا گیا تھا کہ اس کی آزمائش ہو گی اور تیسرا جواب یہاں دیا گیا ہے کہ کیا تمہیں اتنی عمر دنیا میں نہیں دی گئی تھی کہ اگر غور و فکر کر کے تم ایمان لانا چاہتے تو اس میں کوئی بات مانع نہ تھی اس کے علاوہ تمہارے پاس نبی بھی آئے تھے جنہوں نے تمہیں تمہارے اس برے انجام سے پوری طرح آگاہ کر دیا تھا۔ اس بات کا ان مجرموں کے پاس کوئی جواب نہ ہو گا۔ ’اتنی عمر‘ سے مراد سن شعور ہے۔ بلوغت کے بعد انسان میں عقل و شعور آجاتا ہے وہ اپنا نفع و نقصان سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے اسی لئے اس عمر میں وہ شرعاً مکلف سمجھا جاتا ہے۔ اس عمر سے پہلے اگر کوئی شخص مر جائے تو اس کا عذر قابل قبول ہو سکتا ہے۔ اور جس شخص کو چالیس یا پچاس یا ساٹھ برس عمر مل جائے تو اس پر تو مکمل طور پر حجت تمام ہو جاتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

برے لوگوں کا روح فرسا حال ٭٭
نیک لوگوں کا حال بیان فرما کر اب برے لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ دوزخ کی آگ میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ انہیں وہاں موت بھی نہیں آئے گی جو مر جائیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏ثُمَّ لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي» ۱؎ [87-الأعلى:13]‏‏‏‏ نہ وہاں انہیں موت آئے گی نہ کوئی اچھی زندگی ہو گی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ جوابدی جہنمی ہیں انہیں وہاں موت نہیں آئے گی اور نہ اچھائی کی زندگی ملے گی۔ ۱؎[صحیح مسلم:185]‏‏‏‏ وَنادَوا يا مالِكُ لِيَقضِ عَلَينا رَبُّكَ قالَ إِنَّكُم ماكِثونَ وہ تو کہیں گے کہ اے داروغہ جہنم تم ہی اللہ سے دعا کرو کہ اللہ ہمیں موت دیدے لیکن جواب ملے گا کہ تم تو یہیں پڑے رہو گے۔۱؎ [43-الزخرف:77]‏‏‏‏ پس وہ موت کو اپنے لیے رحمت سمجھیں گے لیکن وہ آئے گی ہی نہیں۔ نہ مریں نہ عذابوں میں کمی دیکھیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ۔ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:-7574]‏‏‏‏ یعنی کفار دائماً عذاب جہنم میں رہیں گے جو عذاب کبھی بھی نہ ہٹیں گے نہ کم ہوں گے۔ یہ تمام بھلائی سے محض مایوس ہوں گے اور جگہ فرمان ہے «كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» [17-الإسراء:79]‏‏‏‏۱؎ آگ جہنم ہمیشہ تیز ہوتی رہے گی۔ فرماتا ہے «‏‏‏‏فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا» ۱؎ [78-النبأ:30]‏‏‏‏ لو اب مزے چکھو، عذاب ہی عذاب تمہارے لیے بڑھتے رہیں گے۔ کافروں کا یہی بدلہ ہے، وہ چیخ و پکار کریں گے ہائے وائے کریں گے دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں گے اقرار کریں گے کہ ہم گناہ نہیں کریں گے نیکیاں کریں گے۔ لیکن رب العالمین خوب جانتا ہے کہ اگر یہ واپس بھی جائیں گے تو وہی سرکشی کریں گے اسی لیے ان کا یہ ارمان پورا نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرمایا کہ انہیں ان کے اس سوال پر جواب ملے گا کہ تم تو وہی ہو کہ جب اللہ کی وحدانیت کا بیان ہوتا تھا تو تم کفر کرنے لگتے تھے وہاں اس کے ساتھ شرک کرنے میں تمہیں مزہ آتا تھا۔ پس اب بھی اگر تمہیں لوٹا دیا گیا تو وہی کرو گے جس سے ممانعت کئے جاتے ہو۔ پس فرمایا انہیں کہا جائے گا کہ دنیا میں تو تم بہت جئے، تم اس لمبی مدت میں بہت کچھ کر سکتے تھے مثلاً سترہ سال جئے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبی عمر میں بھی اللہ کی طرف سے حجت پوری کرنا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہیئے کہ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ہی انسان برائیوں میں بڑھتا چلا جائے دیکھو تو یہ آیت جب اتری ہے اس وقت بعض لوگ صرف اٹھارہ سال کی عمر کے ہی تھے۔ وہب بن منبہ فرماتے ہیں مراد بیس سال کی عمر ہے۔ حسن فرماتے ہیں چالیس سال۔ مسروق فرماتے ہیں چالیس سال کی عمر میں انسان کو ہوشیار ہو جانا چاہیئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس عمر تک پہنچنا اللہ کی طرف سے عذر بندی ہو جاتا ہے۔ آپ ہی سے ساٹھ سال بھی مروی ہیں اور یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ جیسے ایک حدیث میں بھی ہے گو امام ابن جریر رحمہ اللہ اس کی سند میں کلام کرتے ہیں لیکن وہ کلام ٹھیک نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے بھی ساٹھ سال ہی مروی ہیں۔ سید ناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی یہ بھی ہو گی کہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے والے کہاں ہیں؟ لیکن اس کی سند ٹھیک نہیں۔ مسند میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ساٹھ سال یا سترسال کی عمر کو پہنچا دیا اس کا کوئی عذر پھر اللہ کے ہاں نہیں چلنے کا۔ ۱؎ [مسند احمد: 275/6:صحیح]‏‏‏‏ صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے اس شخص کا عذر اللہ نے کاٹ دیا جسے ساٹھ سال تک دنیا میں رکھا۔۱؎ [صحیح بخاری:6419]‏‏‏‏ اس حدیث کی اور سندیں بھی ہیں لیکن اگر نہ بھی ہوتیں تو بھی صرف امام بخاری رحمہ اللہ کا اسے اپنی صحیح میں وارد کرنا ہی اس کی صحت کا ثبوت تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ اس کی سند کی جانچ کی ضرورت ہے امام بخاری رحمہ اللہ کے صحیح کہنے کے مقابلے میں ایک جو کی بھی قیمت نہیں رکھتا۔ واللہ اعلم، بعض لوگ کہتے ہیں اطباء کے نزدیک طبعی عمر ایک سو بیس برس کی ہے ساٹھ سال تک تو انسان بڑھوتری میں رہتا ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ پس آیت میں بھی اسی عمر کو مراد لینا اچھا ہے اور یہی اس امت کی غالب عمر ہے۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر سال تک ہیں اور اس سے تجاوز کرنے والے کم ہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3550،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏ [ترمذی وغیرہ]‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ تو اس حدیث کی نسبت فرماتے ہیں اس کی اور کوئی سند نہیں لیکن تعجب ہے کہ امام صاحب نے یہ کیسے فرما دیا؟ اس کی ایک دوسری سند ابن ابی الدنیا میں موجود ہے۔ خود ترمذی میں بھی یہی حدیث دوسری سند سے کتاب الزہد میں مروی ہے۔ ایک اور ضعیف حدیث میں ہے میری امت میں ستر سال کی عمر والے بھی کم ہوں گے ۱؎[مسند ابویعلی:6544:ضعیف]‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی امت کی عمر کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا پچاس سے ساٹھ سال تک کی عمر ہے پوچھا گیا ستر سال کی عمر والے؟ فرمایا بہت کم اللہ ان پر اور اسی سال والوں پر اپنا رحم فرمائے۔ ۱؎ [مسند بزار:3586:ضعیف]‏‏‏‏ [بزار]‏‏‏‏ اس حدیث کا ایک راوی عثمان بن مطر قوی نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال کی تھی ۱؎[صحیح بخاری:3536]‏‏‏‏ ایک قول ہے کہ ساٹھ سال کی تھی۱؎ [صحیح بخاری5900:]‏‏‏‏ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پینسٹھ برس کی تھی۔ [صحیح مسلم:2352]‏‏‏‏ واللہ اعلم۔ [تطبیق یہ ہے کہ ساٹھ سال کہنے والے راوی دہائیوں کو لگاتے ہیں اکائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں پینسٹھ سال والے سال تولد اور سال وفات کو بھی گنتے ہیں اور تریسٹھ والے ان دونوں برسوں کو نہیں لگاتے۔ پس کوئی اختلاف نہیں فالحمداللہ۔ مترجم]‏‏‏‏ اور تمہارے پاس ڈرانے والے آ گئے یعنی سفید بال۔ یا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ زیادہ صحیح قول دوسرا ہی ہے جیسے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» ‏‏‏‏ [۱؎ [53-النجم:56]‏‏‏‏ یہ پیغمبر نذیر ہیں۔ پس عمر دے کر، رسول بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی۔ چنانچہ قیامت کے دن بھی جب دوزخی تمنائے موت کریں گے تو یہی جواب ملے گا کہ تمہارے پاس حق آ چکا تھا یعنی رسولوں کی زبانی ہم پیغام حق تمہیں پہنچا چکے تھے لیکن تم نہ مانے اور آیت میں ہے «وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:15]‏‏‏‏ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں کرتے۔
سورۃ تبارک الذی۱؎ میں فرمان جب جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے وہاں کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے؟ یہ جواب دیں گے کہ ہاں آئے تھے لیکن ہم نے انہیں نہ مانا، انہیں جھوٹا جانا اور کہہ دیا کہ اللہ نے تو کوئی کتاب وغیرہ نازل نہیں فرمائی۔ [67-الملك:-98]‏‏‏‏ تم یونہی بک رہے ہو، پس آج قیامت کے دن ان سے کہہ دیا جائے گا کہ نبیوں کی مخالفت کا مزہ چکھو مدت العمر انہیں جھٹلاتے رہے اب آج اپنے اعمال کے بدلے اٹھاؤ اور سن لو کوئی نہ کھڑا ہو گا جو تمہارے کام آ سکے تمہاری کچھ مدد کر سکے اور عذابوں سے بچا سکے یا چھڑا سکے۔