جَنّٰتُ عَدۡنٍ یَّدۡخُلُوۡنَہَا یُحَلَّوۡنَ فِیۡہَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَہَبٍ وَّ لُؤۡلُؤًا ۚ وَ لِبَاسُہُمۡ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿۳۳﴾
ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ان میں ریشم ہوگا۔
En
(ان لوگوں کے لئے) بہشتِ جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی
En
وه باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جاویں گے۔ اور پوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہوگی
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 33) ➊ { جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا:} یعنی یہ تینوں گروہ آخر کار جنات عدن میں داخل ہو جائیں گے۔ طبری اور بیہقی نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے: [هُمْ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، وَرَّثَهُمُ اللّٰهُ كُلَّ كِتَابٍ أَنْزَلَهُ، فَظَالِمُهُمْ يُغْفَرُ لَهُ، وَ مُقْتَصِدُهُمْ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا، وَ سَابِقُهُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ] [طبري: ۲۹۲۳۶۔ البعث والنشور للبیھقي: 68/1، ح: ۶۴] ”یہ (کتاب کے وارث) امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نازل کردہ تمام کتابوں کا وارث بنایا۔ ان میں سے ظالم کو بخش دیا جائے گا، ان کے میانہ رو کا آسان حساب ہو گا اور ان کے سبقت لے جانے والے جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۔“ یعنی امت مسلمہ میں سے اپنی جان پر ظلم کرنے والے لوگ اگر جہنم میں گئے بھی تو ہمیشہ وہاں نہیں رہیں گے، بلکہ ایمان کی برکت سے انھیں شفاعت کے ذریعے سے یا ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کے نتیجے میں جہنم سے نکال لیا جائے گا اور وہ جنات عدن میں داخل ہو جائیں گے اور یہ بہت ہی بڑا فضل ہے جو ان لوگوں کو کبھی حاصل نہیں ہو گا جو امت مسلمہ میں داخل ہو کر کتاب اللہ کے وارث نہیں بنے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جنت کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے حرام کر دی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِيْنَ» [الأعراف: ۵۰] ”اللہ تعالیٰ نے جنت کا پانی اور اس کا رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے۔“
➋ بعض مفسرین نے ان تینوں گروہوں میں سے {” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ “} کفار کو قرار دیا ہے اور تینوں گروہوں کی تفصیل ان تین گروہوں کے مطابق کی ہے جن کا ذکر سورۂ واقعہ میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین قسمیں ہو جائیں گی، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون۔ ان میں سے سابقون اور اصحاب الیمین جنتی ہوں گے اور اصحاب الشمال جہنمی ہوں گے۔ مگر پہلی تفسیر راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تینوں گروہوں کا ذکر کرکے تینوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امت مسلمہ کا ہر فرد ہی جنت میں داخل ہو گا تو ایمان لانے کے بعد جہنم سے ڈرانے اور ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا، بلکہ اگر کوئی شخص جہنم میں مدتوں رہنے کے بعد آخر کار جنت میں داخل ہو جائے تو یہ بھی فضل کبیر ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگ جنت میں جائیں گے تو کافر اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش! وہ کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے تو ہمیشہ جہنم میں نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» [الحجر: ۲] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“ مزید سورۂ حجر کی آیت (۲) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ …:} اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۲۳)۔
➋ بعض مفسرین نے ان تینوں گروہوں میں سے {” ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ “} کفار کو قرار دیا ہے اور تینوں گروہوں کی تفصیل ان تین گروہوں کے مطابق کی ہے جن کا ذکر سورۂ واقعہ میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین قسمیں ہو جائیں گی، اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون۔ ان میں سے سابقون اور اصحاب الیمین جنتی ہوں گے اور اصحاب الشمال جہنمی ہوں گے۔ مگر پہلی تفسیر راجح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تینوں گروہوں کا ذکر کرکے تینوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنات عدن میں داخل ہوں گے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب امت مسلمہ کا ہر فرد ہی جنت میں داخل ہو گا تو ایمان لانے کے بعد جہنم سے ڈرانے اور ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ ان میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا، بلکہ اگر کوئی شخص جہنم میں مدتوں رہنے کے بعد آخر کار جنت میں داخل ہو جائے تو یہ بھی فضل کبیر ہے۔ کیونکہ جب ایسے لوگ جنت میں جائیں گے تو کافر اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش! وہ کسی درجے کے بھی مسلمان ہوتے تو ہمیشہ جہنم میں نہ رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ» [الحجر: ۲] ”بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“ مزید سورۂ حجر کی آیت (۲) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➌ { يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ …:} اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۲۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جنت میں صرف سابقون جائیں گے لیکن یہ صحیح نہیں قرآن کا سیاق اس امر کا مقتاضی ہے کہ تینوں قسمیں جنتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ سابقین بغیر حساب کتاب کے اور مقصدین آسان حساب کے بعد اور ظالمین شفاعت سے یا سزا بھگتنے کے بعد جنت میں جائیں گے۔ جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔ 33۔ 2 حدیث میں آتا ہے کہ ' ریشم کا لباس دنیا میں مت پہنو، اس لئے کہ جو اسے دنیا میں پہنے گا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا (صحیح بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ وہ ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل ہوں گے۔ وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں [38] سے آراستہ کیا جائے گا اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہو گا۔
[38] نوابوں اور راجوں اور مہاراجوں میں یہ دستور تھا کہ وہ سونے کے کنگن پہنتے جن میں ہیرے اور جواہرات وغیرہ جڑے ہوتے تھے۔ نیز وہ ریشم کا نرم و نازک لباس پہنتے تھے یہی عیش و عشرت کی وہ انتہا تھی جو اس دنیا میں سمجھی جا سکتی تھی۔ اس لئے ان چیزوں کا نام لیا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ جنت والوں کا لباس اور عیش و عشرت اس دنیا کے بادشاہوں اور راجوں مہاراجوں سے کم نہ ہو گا۔ سونا اور ریشم اس دنیا میں امت مسلمہ کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے۔ جس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں سب سے بڑی اور عام فہم بات ہے کہ جو لوگ ایسی عیاشیوں میں پڑ کر اپنی ذات پر ہی اس طرح خرچ کرنا شروع کر دیں تو وہ غریبوں کا کیا خیال رکھ سکیں گے۔ یہی باتیں طبقاتی تقسیم اور اس سے آگے بہت بڑے فتنہ و فساد کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ مگر جنت میں چونکہ ایسی خرابیوں کا احتمال ہی نہ ہو گا۔ لہٰذا وہاں یہ چیزیں جائز ہوں گی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عظمت قرآن کریم اور ملت بیضا ٭٭
جس کتاب کا اوپر ذکر ہوا تھا اس بزرگ کتاب یعنی قرآن کریم کو ہم نے اپنے چیدہ بندوں کے ہاتھوں میں دیا ہے یعنی اس امت کے ہاتھوں۔ پھر حرمت والے کام بھی اس سے سرزد ہو گئے۔ بعض درمیانہ درجے کے رہے جنہوں نے محرمات سے تو اجتناب کیا واجبات بجا لاتے رہے لیکن کبھی کبھی کوئی مستحب کام ان سے چھوٹ بھی گیا اور کبھی کوئی ہلکی پھلکی نافرمانی بھی سرزد ہو گئی۔ بعض درجوں میں بہت ہی آگے نکل گئے۔ واجبات چھوڑ کر مستحباب کو بھی انہوں نے نہ چھوڑا اور محرمات چھوڑ کر مکروہات سے بھی یکسر الگ رہے۔ بلکہ بعض مرتبہ مباح چیزوں کو بھی ڈر کر چھوڑ دیا۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پسندیدہ بندوں سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اللہ کی ہر کتاب کی وارث بنائی گئی ہے۔ ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں انہیں بخشا جائے گا اور ان میں جو درمیانہ لوگ ہیں ان سے آسانی سے حساب لیا جائے گا اور ان میں جو نیکیوں میں بڑھ جانے والے ہیں انہیں بیحساب جنت میں پہنچایا جائے گا۔ طبرانی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ والوں کے لیے ہے۔ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سابق لوگ تو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے اور میانہ رو رحمت رب سے داخل جنت ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے اور اصحاب اعراف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے جنت میں آئیں گے۔ الغرض اس امت کے ہلکے پھلکے گنہگار بھی اللہ کے پسندیدہ بندوں میں داخل ہیں۱؎ [طبرانی کبیر:11454:موضوع] «فالحمدللہ»
گو اکثر سلف کا قول یہی ہے۔ لیکن بعض سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ لوگ نہ تو اس امت میں داخل ہیں نہ چیدہ اور پسندیدہ ہیں نہ وارثین کتاب ہیں۔ بلکہ مراد اس سے کافر منافق اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جانے والے ہیں پس یہ تین قسمیں وہی ہیں جن کا بیان سورۃ الواقعہ کے اول و آخر میں ہے۔ لیکن صحیح قول یہی ہے کہ یہ اسی امت میں ہیں۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ احادیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ یہ تینوں گویا ایک ہیں اور تینوں ہی جنتی ہیں۔۱؎ [مسند احمد::78/3صحیح]
یہ حدیث غریب ہے اور اس کے راویوں میں ایک راوی ہیں جن کا نام مذکور نہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ہونے کے اعتبار سے اور اس اعتبار سے کہ وہ جنتی ہیں گویا ایک ہی ہیں۔ ہاں مرتبوں میں فرق ہونا لازمی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا سابقین تو بیحساب جنت میں جائیں گے اور درمیانہ لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے طول محشر میں روکے جائیں گے۔ پھر اللہ کی رحمتوں سے تلافی ہو جائے گی اور یہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا ہمارا رب بڑا ہی غفور و شکور ہے۔ جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے رہائش کی ایسی جگہ عطا فرمائی جہاں ہمیں کوئی درد دکھ نہیں۔۱؎ [مسند احمد: 198/5:ضعیف]
ابن ابی حاتم کی اس روایت میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی ہے۔ ابن جریر نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ ابوثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے ہیں اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ! میری وحشت کا انیس میرے لیے مہیا کر دے اور میری غربت پر رحم کر اور مجھے کوئی اچھا رفیق عطا فرما۔ یہ سن کر صحابی ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں میں تیرا ساتھی ہوں سن میں آج تجھے وہ حدیث رسول سناتا ہوں جو میں نے آج تک کسی کو نہیں سنائی پھر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا «سابق بالخیرات» تو جنت میں بیحساب جائیں گے اور مقتصد لوگوں سے آسانی کے ساتھ حساب لیا جائے گا اور «ظالم لنفسہ» کو اس مکان میں غم و رنج پہنچے گا۔ جس سے نجات پا کر وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم و رنج دور کر دیا۔۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
تیسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کی نسبت فرمایا کہ یہ سب اسی امت میں سے ہیں۔۱؎ [طبرانی کبیر:410:ضعیف] چوتھی حدیث:میری امت کے تین حصے ہیں ایک بیحساب و بےعذاب جنت میں جانے والا۔ دوسرا آسانی سے حساب لیا جانے والا اور پھر بہشت نشیں ہونے والا۔ تیسری وہ جماعت ہو گی جن سے تفتیش و تلاش ہو گی لیکن پھرفرشتے حاضر ہو کر کہیں گے کہ ہم نے انہیں «لا الہٰ الا اللہ وحدہ» کہتے ہوئے پایا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا سچ ہے میرے سوا کوئی معبود نہیں اچھا انہیں میں نے ان کے اس قول کی وجہ سے چھوڑا جاؤ انہیں جنت میں لے جاؤ اور ان کی خطائیں دوزخیوں پر لاد دو اسی کا ذکر آیت «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] میں ہے یعنی وہ ان کے بوجھ اپنے بوجھ کے ساتھ اٹھائیں گے اس کی تصدیق اس میں ہے جس میں فرشتوں کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے جنہیں وارثین کتاب بنایا ہے ان کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تین قسمیں بتائی ہیں پس ان میں جو اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں وہ بازپرس کئے جائیں گے۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:79/18:ضعیف] [ابن ابی حاتم]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس امت کی قیات کے دن تین جماعتیں ہوں گی۔ ایک بیحساب جنت میں جانے والی ایک آسانی سے حساب لیے جانے والی ایک گنہگار جن کی نسبت اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ کون ہیں؟ فرشتے کہیں گے اللہ ان کے پاس بڑے بڑے گناہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی بھی تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا۔ رب عزوجل فرمائے گا انہیں میری وسیع رحمت میں داخل کر دو پھر عبداللہ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ [ابن جریر]
دوسرا اثر۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتی ہیں بیٹا یہ سب جنتی لوگ ہیں سابق بالخیرات تو وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے جنہیں خود آپ نے جنت کی بشارت دی۔ مقتصد وہ ہیں جنہوں نے آپ کے نقش قدم کی پیروی کی یہاں تک کہ ان سے مل گئے۔ اور ظالم لنفسہ مجھ تجھ جیسے ہیں [ابوداؤد طیالسی] خیال فرمایئے کہ صدیقہ رضی اللہ عنہا باوجودیکہ سابق بالخیرات میں سے بلکہ ان میں سے بھی بہترین درجے والوں میں سے ہیں لیکن کس طرح اپنے تئیں متواضع بناتی ہیں حالانکہ حدیث میں آ چکا ہے کہ تمام عورتوں پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہی فضیلت ہے جو فضیلت ثرید کو ہر قسم کے طعام پر ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم لنفسہ تو ہمارے بدوی لوگ ہیں اور مقتصد ہمارے شہری لوگ ہیں اور سابق ہمارے مجاہد ہیں۔ [ابن ابی حاتم] ۱؎ [صحیح بخاری:3770]
کعب احبار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تینوں قسم کے لوگ اسی امت میں سے ہیں اور سب جنتی ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں قسم کے لوگوں کے ذکر کے بعد جنت کا ذکر کر کے پھر فرمایا «وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَـفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [35-فاطر:36] پس یہ لوگ دوزخی ہیں۔ [ابن جریررحمہ اللہ] سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعب سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کعب کے اللہ کی قسم یہ سب ایک ہی زمرے میں ہیں ہاں اعمال کے مطابق ان کے درجات کم و بیش ہیں۔ ابواسحاق سیعی بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ یہ تینوں جماعتیں ناجی ہیں۔ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ امت مرحومہ ہے۔ ان کے گنہگاروں کو بخش دیا جائے گا اور ان کے مقصد اللہ کے پاس جنت میں ہوں گے۔ اور ان کے سابق بلند درجوں میں ہوں گے۔ محمد بن علی باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جن لوگوں کو ظالم لنفسہ کہا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گناہ بھی کئے تھے اور نیکیاں بھی۔ ان احادیث اور آثار کو سامنے رکھ کر یہ تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں عموم ہے اور اس امت کی ان تینوں قسموں کو یہ شامل ہے۔ پس علماء کرام اس نعمت کے ساتھ سب سے زیادہ رشک کے قابل ہیں اور اس رحمت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ جیسے کہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص مدینے سے دمشق میں ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا ہے اور آپ سے ملاقات کرتا ہے تو آپ دریافت فرماتے ہیں کہ پیارے بھائی یہاں کیسے آنا ہوا؟ وہ کہتے ہیں اس حدیث کے سننے کے لیے آیا ہوں جو آپ بیان کرتے ہیں۔ پوچھا کیا کسی تجارت کی غرض سے نہیں آئے؟ جواب دیا نہیں۔ پوچھا پھر کوئی اور مطلب بھی ہو گا؟ فرمایا کوئی مقصد نہیں۔ پوچھا پھر کیا صرف حدیث کی طلب کے لیے یہ سفر کیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص علم کی تلاشی میں کسی راستے کو قطع کرے اللہ اسے جنت کے راستوں میں چلائے گا۔ اللہ کی رحمت کے فرشتے طالب علموں کے لیے پر بچھا دیتے ہیں کیونکہ وہ ان سے بہت خوش ہیں اور ان کی خوشی کے خواہاں ہیں۔ عالم کے لیے آسمان و زمین کی ہرچیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ عابد و عالم کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسی چاند کی فضیلت ستاروں پر، علماء نبیوں کے وارث ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نے اپنے ورثے میں درہم و دینار نہیں چھوڑے ان کا ورثہ علم دین ہے۔ جس نے اسے لیا اس نے بڑی دولت حاصل کر لی۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3641،قال الشيخ ا لألباني:صحیح][ابوداؤد، ترمذی وغیرہ] اس حدیث کے تمام طریق اور الفاظ اور شرح میں نے صحیح بخاری کتاب العلم کی شرح میں مفصلاً بیان کر دی ہے فالحمداللہ۔ سورۃ طہٰ کے شروع میں وہ حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا۔ میں نے اپنا علم و حکمت تمہیں اس لیے ہی دیا تھا کہ تمہیں بخش دوں گو تم کیسے ہی ہو مجھے اس کی کچھ پرواہ ہی نہیں۔۱؎ [طبرانی کبیر:1381:ضعیف]