اے لوگو! اللہ کی نعمت یاد کرو جو تم پر ہے، کیا اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے، جو تمھیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تم کہاں بہکائے جاتے ہو؟
En
لوگو خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو۔ کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رازق ہے) جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو؟
لوگو! تم پر جو انعام اللہ تعالیٰ نے کئے ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا اور کوئی بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے روزی پہنچائے؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تم کہاں الٹے جاتے ہو
En
(آیت 3) ➊ {يٰۤاَيُّهَاالنَّاسُاذْكُرُوْانِعْمَتَاللّٰهِعَلَيْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں فراموش نہ کرو اور نمک حرام نہ بنو، بھلا بتاؤ اللہ کے سوا تمھارا کوئی خالق ہے جو تمھیں رزق دے رہا ہو؟ ظاہر ہے کوئی نہیں۔ استفہام انکاری ہے۔ ➋ {فَاَنّٰىتُؤْفَكُوْنَ:} یعنی پھر تمھیں یہ دھوکا کہاں سے لگ گیا کہ خالق و رازق تو اللہ تعالیٰ ہو، مگر بندگی اور فرماں برداری دوسروں کی کی جائے۔ مثل مشہور ہے ”جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی اس بیان اور وضاحت کے بعد بھی تم غیر اللہ کی عبات کرتے ہو؟۔ مطلب ہے کہ تمہارے اندر توحید اور آخرت کا انکار کہاں سے آگیا، جب کہ تم مانتے ہو کہ تمہارا خالق اور رازق اللہ ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ لوگو! اپنے آپ پر اللہ کے احسان کو یاد رکھو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دے (یاد رکھو) اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر تم کہاں [6] سے دھوکہ کھا جاتے ہو
[6] بارش سب جانداروں کے رزق کا ذریعہ ہے:۔
آسمانوں سے جو بارش نازل ہوتی ہے۔ وہ زمین میں جذب ہو کر سب جانوروں کی روزی اور ان کی زندگی کی بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب اگر اس بارش برسنے کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل و عناصر ہیں جنہیں اللہ نے اس خدمت پر مامور کر رکھا ہے۔ تب جا کر بارش برستی ہے اور یہ سب عناصر و عوامل خالصتاً اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اور ان میں مشرکوں کے معبودوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جس سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی ہستی عبادت کا استحقاق نہیں رکھتی۔ پھر یہ کس قدر نا قدر شناسی اور نمک حرامی کی بات ہے کہ روزی تو اللہ کی دی ہوئی کھائیں اور عبادت کریں اللہ کے سوا دوسروں کی۔ یا دوسروں کو بھی اس عبادت میں شریک بنا لیں؟ لہٰذا اے مشرکین مکہ! کچھ بتاؤ تو سہی کہ تمہاری عقلوں کو یہ پھیر کہاں سے لگ جاتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ٭٭
اس بات کی دلیل یہاں ہو رہی ہے کہ عبادتوں کے لائق صرف اللہ ہی کی ذات ہے کیونکہ خالق و رازق وہی ہے۔ پھر اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرنا فاش غلطی ہے۔ دراصل اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں۔ پھر تم اس واضح دلیل اور ظاہر برہان کے بعد کیسے بہک رہے ہو؟ اور دوسروں کی عبادت کی طرف جھکے جاتے ہو؟ «واللہ اعلم»
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں