ترجمہ و تفسیر — سورۃ فاطر (35) — آیت 22

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾
اور نہ زندے برابر ہیں اور نہ مردے۔ بے شک اللہ سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تو ہرگز اسے سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہے۔ En
اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے۔ اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے
En
اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22) ➊ { وَ مَا يَسْتَوِي الْاَحْيَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ:} یہ ایمان لانے والوں کی اور ایمان نہ لانے والوں کی مثال ہے کہ ایمان لانے والے زندوں کی طرح ہیں اور ایمان نہ لانے والے مُردوں کی طرح۔ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، جس طرح یہ باہم متضاد اور مختلف چیزیں برابر نہیں ہیں کہ اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان بہت سا فرق اور بُعد ہے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں اور سایہ اور لُو برابر نہیں، اسی طرح زندہ اور مُردے برابر نہیں۔ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بیان فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کافروں کے لیے کہ وہ مردہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا يَّمْشِيْ بِهٖ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِي الظُّلُمٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۱۲۲] اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لیے ایسی روشنی بنا دی جس کی مدد سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے، اس شخص کی طرح ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں ہے، ان سے کسی صورت نکلنے والا نہیں۔ اور فرمایا: «مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِيْرِ وَ السَّمِيْعِ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا» ‏‏‏‏ [ھود: ۲۴] دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟ چنانچہ مومن سننے اور دیکھنے والا ہے، دنیا اور آخرت کے اندر روشنی میں صراطِ مستقیم پر چلتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے سایوں اور چشموں والی جنتوں کے ٹھکانے میں پہنچا دیتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہے، اندھیروں میں چلتا ہے، ان سے کسی طرح نہیں نکلتا۔ دنیا اور آخرت میں اپنی سرکشی اور گمراہی میں بھٹکتا پھرتا ہے، یہاں تک کہ یہ سفر اسے جہنم کی لُو اور گرم پانی تک پہنچا دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ ظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ (43) لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِيْمٍ» ‏‏‏‏ [الواقعۃ: ۴۳، ۴۴] اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ باعزت۔
➋ { اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَآءُ:} سنانے کا مطلب سوچنے، سمجھنے اور قبول کرنے کی توفیق کے ساتھ سنانا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور چاہنے کی تو بات ہی دوسری ہے، وہ جسے چاہے سنا دے، چاہے تو بے جان پتھروں کو سنا دے، کسی اور میں یہ قدرت نہیں، نہ یہ رسول کے بس کا کام ہے کہ جن لوگوں کے دل مردہ ہو چکے ہوں ان کے دلوں میں اپنی بات اُتار سکے اور جو بات سننا ہی نہ چاہتے ہوں ان کے بہرے کانوں کو حق کی آواز سنا سکے، وہ تو انھی کو سنا سکتا ہے جو معقول بات سننے اور اس پر غور کے لیے آمادہ ہوں۔
➌ { وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ:} یہ مشرکین کی مثال ہے کہ وہ مُردوں کی طرح ہیں جو سنتے نہیں، یعنی جس طرح تیرے بس میں یہ بات نہیں کہ تو قبروں میں دفن مُردوں کو اپنی بات سنا سکے اسی طرح جن لوگوں کے دل مُردہ ہو چکے ہیں تو انھیں بھی اللہ کی آیات نہیں سنا سکتا، نہ انھیں راہ راست پر لا سکتا ہے۔
➍ یہ آیت مُردوں کے نہ سننے کی بھی واضح دلیل ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۸۰، ۸۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

22۔ 1 احیاء سے مومن اور اموات سے کافر یا علماء اور جاہل یا عقلمند اور غیر عقلمند مراد ہیں۔ 22۔ 2 یعنی جسے اللہ ہدایت سے نواز نے والا ہوتا ہے اور جنت اس کی مقدر ہوتی ہے، اسے حجت یا دلیل سننے اور پھر اسے قبول کرنے کی تو فیق دے دیتا ہے۔ 22۔ 3 یعنی جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کی کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی اسی طرح جن لوگوں کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کیا اے پیغمبر تو انہیں حق کی بات نہیں سنا سکتا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرنے اور قبر میں دفن ہونے کے بعد مردہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح کافر و مشرک جن کی قسمت میں بدبختی لکھی ہے دعوت و تبلیغ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور نہ ہی زندے اور مردے [28] یکساں ہوتے ہیں۔ اللہ تو جسے چاہے سنا سکتا ہے لیکن آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں [29] میں پڑے ہیں
[28] یہاں زندہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے دل اور ضمیر زندہ ہیں۔ جو بدی کو بدی ہی سمجھتے ہیں اور نیکی کی راہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پھر اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ اور مردہ سے مردہ دل لوگ یا کافر ہیں۔ ان کے ضمیر اور ان کے دل اس قدر مر چکے ہیں کہ ہدایت کی بات ان کے دل تک پہنچتی ہی نہیں۔ نہ وہ اسے سننا گوارا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آپ کا ایسے لوگوں کو نصیحت کرنا بے سود ہے۔
[29] سماع موتیٰ کا رد:۔
ربط مضمون کے لحاظ سے یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ قبروں میں پڑے لوگوں سے مراد یہی مردہ دل کافر لوگ ہیں مگر الفاظ کے ظاہری معنوں کا اعتبار کرنا زیادہ صحیح ہو گا۔ یعنی جو لوگ قبروں میں جا چکے ہیں انہیں اللہ تو سنا سکتا ہے آپ نہیں سنا سکتے۔ کیونکہ قبروں میں پڑے ہوئے لوگ عالم برزخ میں جا پہنچے ہیں۔ عالم دنیا میں نہیں ہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک سویا ہوا شخص اپنے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کی گفتگو نہیں سن سکتا۔ اس لیے عالم خواب الگ عالم ہے۔ اور عالم بیداری الگ عالم ہے۔ حالانکہ یہ دونوں عالم، عالم دنیا سے ہی متعلق ہیں مگر عالم برزخ دنیا سے متعلق نہیں بالکل الگ عالم ہے۔ لہٰذا قبروں میں پڑے ہوئے لوگ بدرجہ اولیٰ دنیا والوں کی بات سن نہیں سکتے۔ یہ آیت سماع موتی کا کلیتاً رد ثابت کرتی ہے۔ رہا قلیب بدر کا واقعہ جو احادیث صحیحہ میں مذکور ہے۔ کہ جنگ بدر میں ستر مقتول کافروں کی لاشیں بدر کے کنوئیں میں پھینک دی گئیں۔ تو تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہو کر فرمایا: ”تمہارے مالک نے جو سچا وعدہ تم سے کیا تھا وہ تم نے پا لیا؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مردوں کو سناتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سنتے، البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قتل ابی جھل۔۔ بخاری کتاب الجنائز۔ باب ماجاء فی عذاب القبر]
اور سیدنا قتادہ نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا کہ اللہ نے اس وقت ان مردوں کو جلا دیا تھا ان کی زجز و توبیخ، ذلیل کرنے، بدلہ لینے اور شرمندہ کرنے کے لیے۔ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب قتل ابي جهل]
گویا یہ ایک معجزہ تھا اور فی الحقیقت سنانے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا۔ اور یہ اس آیت کا مفہوم ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔