(آیت 5) {وَالَّذِيْنَسَعَوْفِيْۤاٰيٰتِنَامُعٰجِزِيْنَ …: ”رِجْزٍ“} کا معنی ہے {”أَسْوَأُالْعَذَابِ“} (بد ترین عذاب) یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے عاجز کر دیں اور نیچا دکھا دیں، کبھی انھیں جادو کہتے ہیں، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کے افسانے، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، ان کے لیے بدترین قسم کے عذاب کی سزا ہے، جو نہایت المناک ہے۔ مراد جہنم ہے، جس سے زیادہ بری اور درد ناک سزا کوئی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 یعنی ہماری ان آیتوں کے بطلان اور تکذیب کی جو ہم نے پیغمبروں پر نازل کیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم ان کی گرفت سے عاجز ہونگے، کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد ہم مٹی میں مل جائیں گے تو ہم کس طرح دوبارہ زندہ ہو کر کسی کے سامنے اپنے کیے دھرے کی جواب دہی کریں گے؟ ان کا یہ سمجھنا گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مواخذہ کرنے پر قادر ہی نہیں ہوگا، اس لئے قیامت کا خوف ہمیں کیوں ہو؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا [8] دکھانے (تردید کرنے) پر زور لگایا ان کے لئے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔
[8] یعنی ایسی سازشوں اور کوششوں میں اپنی ساری عمر گزار دی کہ کہیں اسلام کو غلبہ اور سربلندی حاصل نہ ہو جائے۔ یا اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے عقیدہ آخرت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور انھیں ان کے ناپاک ارادوں کے عوض عذاب بھی اسی قسم کا دیا جائے گا۔ سابقہ آیات میں ایمانداروں کے لئے رزق کریم اور مغفرت دونوں کا ذکر فرمایا جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصائب و مشکلات اور فقر و فاقہ میں زندگی گزارنے والے مومنوں کو عزت کی روزی بھی ملے گی اور مغفرت بھی ہو گی اور جن ایمانداروں کو ابتلاء کا دور دیکھنا ہی نہیں پڑا ان کی بھی مغفرت ضرور ہو جائے گی۔ اسی طرح جن کافروں کا جرم صرف کفر تک ہی محدود رہا اور انہوں نے مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیوں اور سازشوں میں حصہ نہیں لیا انھیں صرف جہنم کا عذاب ہو گا۔ جو ناپاک قسم کا اور ذلیل و خوار کرنے والا نہ ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔