ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 40

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۴۰﴾
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟ En
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے
En
اور ان سب کو اللہ اس دن جمع کرکے فرشتوں سے دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ {وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ…:} اس کا عطف{ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ } پر ہے۔ پہلے مستکبرین کے مستضعفین سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کی بری حالت کا نقشہ کھینچا ہے، اب فرشتوں کے ان سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کے ذلیل وخوار اور بے یار و مددگار ہونے کا ذکر فرمایا۔
➋ مفسر عبدالرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے دور کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں، یا ان قبروں کو پوجتے ہیں، بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والے پہلے سورج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں، پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسّمہ بناتے ہیں، پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسّمے کے ساتھ سورج کی روح کا ہر وقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسّمے کو پوجتے ہیں تو دراصل یہ اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے، پھر یہ مجسّمے مظاہر قدرت ہی کے نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ، پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسّمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور لات، منات اور عزیٰ کے مجسّمے بنا کر ان کی عبادت کرتے، تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسّموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں، بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لیے ہیں، جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔ ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں، لہٰذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انھیں حسرت دلانے کے لیے انھی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کرتے تھے؟ کیا تم نے انھیں ایسا کہا تھا کہ تمھاری عبادت کیا کریں، یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی؟ اور یہ سوال اگرچہ فرشتوں سے ہو گا مگر مقصد ان کی پوجا کرنے والوں کو رسوا اور لاجواب کرنا ہو گا۔
➌ قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہو گا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورۂ فرقان میں ہے: «‏‏‏‏وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ‏‏‏‏ [الفرقان: ۱۷] اور جس دن وہ انھیں اور جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے، اکٹھا کرے گا، پھر کہے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا، یا وہ خود راستے سے بھٹک گئے تھے؟ اور سورۂ مائدہ میں ہے: «‏‏‏‏وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ» [المائدۃ: ۱۱۶] اور جب اللہ فرمائے گا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 یہ مشرکوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ' کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا؟ ' (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) 5۔ المائدہ:116) حضرت عیسیٰ ؑ فرمائیں گے ' یا اللہ تو پاک ہے، جس کا مجھے حق نہیں تھا، وہ بات میں کیوں کر کہہ سکتا تھا؟ ' اسی طرح اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بھی پوچھے گا جیساہ سورة الفرقان (وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ) 25۔ الفرقان:17) میں بھی گزرا۔ کہ کیا یہ تمہارے کہنے پر تمہاری عبادت کرتے تھے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اور جس دن اللہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں [62] سے پوچھے گا: ”کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟“
[62] بت پرستی اور قبر پرستی میں قدر مشترک :۔
مشرکین خواہ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوں یا اس سے پہلے ادوار کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں یا ان قبروں کو پوجتے ہیں۔ بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والا پہلے سورج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسمہ بناتے ہیں۔ پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسمہ کے ساتھ سورج کی روح کا بروقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسمہ کو پوجتے ہیں تو یہ دراصل اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین نے اس طرح کے کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے۔ پھر یہ مجسمے مظاہر قدرت کے ہی نہیں بلکہ بعض صفات کے بھی ہوتے تھے۔ اور ان صفات کو بھی سیاروں سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ مثلاً فلاں علم کی دیوی، فلاں دولت کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر کچھ مشرک فرشتوں کے خیالی مجسمے بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔ مشرکین عرب کی ایک کثیر تعداد ایسی ہی تھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اور لات و منات اور عزیٰ کے مجسمے بنا کر ان کی عبادت کرتے تو سمجھتے یہی تھے کہ ہم ان بتوں کی نہیں بلکہ ان فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی ارواح ان مجسموں یا بتوں سے وابستہ رہتی ہیں۔ اسی طرح قبر پرست بھی یہ سمجھتے تھے کہ ہم اس قبر کے پرستار نہیں بلکہ ہماری سب نیاز مندیاں اور نذریں نیازیں تو صاحب قبر کے لئے ہیں۔ جس کی روح اس کی قبر کے ساتھ وابستہ رہتی ہے۔
فرشتوں سے الوہیت کے متعلق سوال:۔
ان تمام معبودوں سے چونکہ فرشتے ہی برتر مخلوق ہیں۔ لہٰذا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو شرمندہ کرنے اور انہیں حسرت دلانے کے لئے انہی سے سوال کرے گا کہ یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے؟ کیا تم نے انہیں ایسا کہا تھا کہ تمہاری عبادت کیا کریں؟ یا کچھ اس قسم کی آرزو تم نے کی تھی؟ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں کے علاوہ دوسرے معبودوں سے بھی ایسا سوال کرے گا اور حضرت عیسیٰؑ سے متعلق ایسا سوال تو بالتفصیل اور بالصراحت قرآن میں مذکور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مشرکین سے سوال ٭٭
مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کے لئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہو گا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہو گا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا؟
جیسے سورۃ الفرقان میں ہے «ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ» ۱؎ [25-الفرقان:17]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے؟ ‘
عیسیٰ علیہ السلام سے یہی سوال ہو گا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ! تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزاوار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برأت ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے کہ تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے اور ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لیے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کر دیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔
جیسے فرمان باری ہے «اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا۔ لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا» ۱؎ [4-النساء:117-118]‏‏‏‏ یعنی ’ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ ‘
پس جن جن سے تم مشرکو! لو لگائے ہوئے تھے ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہو جائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔