(آیت 38){ وَالَّذِيْنَيَسْعَوْنَفِيْۤاٰيٰتِنَا …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حج (۵۱) اور سورۂ سبا (۵) {”مُحْضَرُوْنَ“} یعنی کبھی تھوڑی دیر کے لیے بھی اس سے غائب نہیں ہو سکیں گے، ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
38۔ جو لوگ ہماری آیات کو نیچا [58] دکھانے میں زور صرف کر رہے ہیں۔ انہیں عذاب میں حاضر کیا جائے گا۔
[58] نیچا دکھانے سے مراد ان کا مذاق اڑانا، انہیں تسلیم نہ کرنا، اللہ کے راستے میں روڑے اٹکانا، ایمانداروں کو ایذائیں دینا، اور ایسی تدبیریں اور سازشیں تیار کرنا جن سے وہ اسلام کو کمزور یا نیست و نابود کر سکیں۔ سب باتیں شامل ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا «اُنْظُرْكَيْفَفَضَّلْنَابَعْضَهُمْعَلٰيبَعْضٍوَلَلْاٰخِرَةُاَكْبَرُدَرَجٰتٍوَّاَكْبَرُتَفْضِيْلًا»۱؎[17-الإسراء:21] ’ تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ ‘ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند و بالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں۔ { دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ } ۱؎[صحیح مسلم:1054]
اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر۔ دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ } ۱؎[صحیح بخاری:1442] { بلال رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ } ۱؎[طبرانی:1020:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے والا ہو گا۔ مال ہو گا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہو جائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت میں «وَمَآاَنْفَقْتُمْمِّنْنَّفَقَةٍاَوْنَذَرْتُمْمِّنْنَّذْرٍفَاِنَّاللّٰهَيَعْلَمُهٗوَمَاللظّٰلِمِيْنَمِنْاَنْصَارٍ» الخ، کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎[المیزان:6983:ضعیف] اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بے بس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (ابو یعلیٰ موصلی) یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔