(آیت 36) {قُلْاِنَّرَبِّيْيَبْسُطُالرِّزْقَلِمَنْيَّشَآءُوَيَقْدِرُ …:} یعنی دنیا کی آسودگی اور خوش حالی اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کی حکمت و مشیّت یعنی بندوں کی آزمائش ہے۔ وہ بعض اوقات ناراض ہونے کے باوجود آزمائش کے لیے اور حجت تمام کرنے کے لیے کافر و فاسق کا رزق فراخ کر دیتا ہے اور کبھی آزمائش کے لیے اور گناہوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے مومن کا رزق تنگ کر دیتا ہے اور کبھی اپنی حکمت و مصلحت کی بنا پر کافر کا رزق تنگ اور مومن کا فراخ کر دیتا ہے، تاکہ آزمائش قائم رہے اور دنیا کی خوش حالی دیکھ کر سب لوگ کفر ہی کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔ (دیکھیے زخرف: ۳۳ تا ۳۵) لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے اور مال و اولاد کی کثرت کو اللہ تعالیٰ کے خوش ہونے کی دلیل سمجھ لیتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
36۔ 1 اس میں کفار کے مذکورہ مغالطے کا ازالہ کیا جا رہا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کی رضا یا عدم کی مظہر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مشیت سے ہے۔ اس لئے وہ مال اس کو بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غنی کرتا ہے، جس کو چاہتا ہے فقیر رکھتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
36۔ آپ ان سے کہئے کہ: رزق تو میرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے کم بھی کر دیتا ہے لیکن اکثر لوگ (یہ بات) جانتے [54] نہیں
[54] مال و دولت کی فراوانی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں:۔
وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ رزق کی کمی بیشی کا معاملہ تو اللہ کی مشیت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی رضا سے تعلق نہیں رکھتا۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے نافرمانوں اور فرمانبرداروں سب کو رزق دے۔ اسی صورت میں اس دنیا میں انسان کی آزمائش ہو سکتی ہے۔ اگر وہ اس دنیا میں نافرمانوں کو رزق نہ دے یا ان پر رزق تنگ کر دے اور اپنے فرمانبرداروں کو ہی رزق دے یا انھیں وافر رزق عطا کرنے لگے۔ تو پھر تو ہر ایک ایمان لے آئے گا اس میں انسانوں کی آزمائش کی کیا گنجائش رہ گئی؟ اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات ظالموں، چوروں، ڈاکوؤں، خائنوں، مکاروں اور فریب کاروں کو وافر رزق عطا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان صفات کو اور ایسی صفات رکھنے والے لوگوں کو کوئی بھی اچھا نہیں سمجھتا۔ پھر بسا اوقات یوں بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ شریف لوگ سچ بولنے والے، عہد کے پابند، کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ پہنچانے والے اور اللہ کے فرمانبردار اور عبادت گزار لوگ فقر و فاقہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان صفات کو اور ایسی صفات رکھنے والے انسانوں کو سب ہی اچھا سمجھتے ہیں۔ پھر قسم اول کے لوگوں کی آسودگی کو اور قسم دوم کے لوگوں کی تنگی کو اللہ کی رضا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ جبکہ زبان خلق بھی اس بات کی تردید کر رہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔