وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ بِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذِ الظّٰلِمُوۡنَ مَوۡقُوۡفُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚۖ یَرۡجِعُ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضِۣ الۡقَوۡلَ ۚ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اَنۡتُمۡ لَکُنَّا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے، اور کاش! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا، جو لوگ کمزور سمجھے گئے تھے ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے ہوتے۔
En
اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
En
اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 31) ➊ { وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کفارِ مکہ سے توحید، رسالت اور آخرت پر بات کرتے ہوئے کبھی اپنی وحی کی تائید کے طور پر تورات و انجیل کا ذکر فرماتے کہ قرآن کی طرح ان میں بھی توحید اور آخرت کا ذکر ہے، تو کفارِ مکہ کبر و عناد میں آکر کہتے کہ نہ ہم اس قرآن کو مانیں گے، نہ اس سے پہلی کسی کتاب کو۔ قرآن مجید نے ان کی اس بات کے جواب یا اس کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، کیونکہ انھوں نے بات ہی ایسی کی جس کا نتیجہ پہلے تمام پیغمبروں کا انکار تھا، جو واضح طور پر غلط تھا اور انھوں نے یہ بات محض ضد میں آکر کہی تھی، ورنہ وہ پہلے پیغمبروں اور ان کی کتابوں کو جانتے تھے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے موسیٰ علیہ السلام جیسے معجزے لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورۂ قصص میں ہے: «لَوْ لَاۤ اُوْتِيَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى» [القصص: ۴۸]”اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں؟“ کبھی تورات کی طرح لکھی ہوئی کتاب لانے کا مطالبہ کیا، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے: «وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ» [بني إسرائیل: ۹۳] ”اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔“ اگر پہلے کسی نبی یا اس کی شریعت یا کتاب کو مانتے ہی نہ تھے تو ان مطالبوں کا کیا مطلب؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی تردید کے بجائے قیامت کے دن ان کے ہونے والے برے حال کا ذکر فرمایا، جس قیامت کا وہ شدت سے انکار کرتے اور مذاق اڑاتے تھے۔
➋ { وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ …: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} (ض) لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، لوٹنا اور لوٹانا۔ یہاں لوٹانا مراد ہے۔ {” الظّٰلِمُوْنَ “} ظالم سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے، الف لام کی وجہ سے ”یہ ظالم“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہو گا، جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جہنم میں داخلے سے پہلے ہو گا، تاہم جہنم میں داخلے کے بعد بھی ان کا یہ جھگڑا جاری رہے گا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، قصص (۶۳)، احزاب (۶۶ تا ۶۸)، مومن (۴۷، ۴۸)، ص (۵۵ تا ۶۱)، بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷) اور حمٰ السجدہ (۲۹)۔
➋ { وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ …: ”رَجَعَ يَرْجِعُ“} (ض) لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، لوٹنا اور لوٹانا۔ یہاں لوٹانا مراد ہے۔ {” الظّٰلِمُوْنَ “} ظالم سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے، الف لام کی وجہ سے ”یہ ظالم“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ یعنی ان میں سے ہر ایک اپنی گمراہی کا الزام دوسروں پر دھر رہا ہو گا، جیسا کہ عموماً ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے۔ یہ مکالمہ جہنم میں داخلے سے پہلے ہو گا، تاہم جہنم میں داخلے کے بعد بھی ان کا یہ جھگڑا جاری رہے گا۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، قصص (۶۳)، احزاب (۶۶ تا ۶۸)، مومن (۴۷، ۴۸)، ص (۵۵ تا ۶۱)، بقرہ (۱۶۵ تا ۱۶۷) اور حمٰ السجدہ (۲۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 جیسے تورات، زبور اور انجیل وغیرہ۔ 31۔ 2 یعنی دنیا میں یہ کفر و شرک ایک دوسرے کے ساتھی اور اس ناطے سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے، لیکن آخرت میں یہ ایک دوسرے کے دشمن اور ایک دوسرے کو مورد الزام بنائیں گے۔ 31۔ 3 یعنی دنیا میں یہ لوگ، جو سوچے سمجھے بغیر، روش عام پر چلنے والے ہوتے ہیں اپنے ان لیڈروں سے کہیں گے جن کے وہ دنیا میں پیروکار بنے رہے تھے۔ 31۔ 4 یعنی تم ہی نے ہمیں پیغمبروں کے پیچھے چلنے سے روکا تھا، اگر تم اس طرح نہ کرتے تو ہم یقینا ایمان والے ہوتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس کتاب پر جو اس سے پہلے موجود [46] ہے۔ کاش آپ ان ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے [47] کی بات کا جواب دیں گے۔ جو لوگ (دنیا میں) کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوں [48] سے کہیں گے کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے“
[46] یعنی مشرکین مکہ صرف قرآن کے ہی منکر نہ تھے۔ بلکہ پہلی آسمانی کتابوں مثلاً تورات، انجیل وغیرہ کے بھی منکر تھے اور ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کتابوں کے مرکزی اور بنیادی مضامین ملتے جلتے تھے۔ سب کتابوں میں توحید کی دعوت دی گئی تھی اور شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی سب الہامی کتابیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی تھیں۔ اور یہی دو باتیں تھیں جن پر محاذ آرائی شروع ہو چکی تھی۔ اور مشرکین مکہ انھیں کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ لہٰذا سب الہامی کتابوں کا انکار کر دیتے تھے۔ [47] قرآن کریم میں ان دو فریقوں کا مکالمہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ ایک فریق مطیع ہے یعنی کمزور قسم کے لوگ جو اپنے بڑوں کی اطاعت کرتے رہے۔ اور دوسرا فریق مطاع ہے یعنی بڑے لوگ جن کی اطاعت کی جاتی رہی۔ پھر ان بڑے لوگوں میں حکمران بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ سیاسی لیڈر، چودھری بھی، مولوی بھی، پروفیسر بھی یعنی ہر وہ شخص جو دینی یا دنیوی لحاظ سے عام لوگوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ اور اس کی بات تسلیم کی جاتی رہی ہو اور یہ مکالمہ جہنم میں داخلہ سے پیشتر ہو گا۔ تاہم اس وقت تک سب لوگوں کو اپنا انجام معلوم ہو چکا ہو گا۔
[48] مطیع اور مطاع لوگوں کا مکالمہ :۔
کمزور لوگ یا اطاعت کرنے والے اپنے بڑے بزرگوں سے کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا باعث تو تم ہی لوگ تھے۔ اگر تم لوگ ہمیں انبیاء کے خلاف استعمال نہ کرتے تو ہم یقیناً ان پر ایمان لے آتے اور اس برے انجام سے ہمیں دو چار نہ ہونا پڑتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کافروں کی سرکشی ٭٭
کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ گو قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے کھڑے چھوٹے بڑوں کو بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے۔
دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
دوسری جانب سے دلیلوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی۔ تم خود شہوت پرست تھے۔ تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گزرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو؟
اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے پرانے دین کے نہ بدلنے باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکوسلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برأت بھی کریں گے لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہو گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف] (ابن ابی حاتم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک ہی شعلے کی لپٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آ پڑے گا۔ } ۱؎ [میزان:327/2:ضعیف] (ابن ابی حاتم)
حسن بن یحییٰ خشنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید، پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب سلیمان درانی رحمہ اللہ کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہو گا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہو جائیں؟۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ «اللھم سلم اللھم سلم»