(آیت 27) ➊ { قُلْاَرُوْنِيَالَّذِيْنَاَلْحَقْتُمْبِهٖشُرَكَآءَ:} یعنی اس سے پہلے کہ آخرت میں پہنچ کر ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ ہو، تم مجھے یہیں بتاؤ کہ تمھارے ان معبودوں میں کون سی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے تم انھیں اللہ کا شریک یا اپنا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کی حمایت پر بھروسا کر کے اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو رہے ہو۔ ➋ { كَلَّابَلْهُوَاللّٰهُالْعَزِيْزُالْحَكِيْمُ:} نہیں، یہ ہرگز اس کے شریک نہیں ہو سکتے، بلکہ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے، جو سب پر غالب اور کمال حکمت والا ہے، جب کہ یہ بے چارے نہ عزیز ہیں نہ حکیم، ان کے پاس بندگی و بے چارگی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی اس کا کوئی نظیر ہے نہ ہم سر، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے ہر کام اور قول میں حکمت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ آپ ان سے کہئے: مجھے وہ ہستیاں دکھاؤ تو سہی جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا کر اس سے ملا دیا ہے۔ وہ ہرگز نہ بتا سکیں گے۔ بلکہ اللہ ہی سب [42] پر غالب اور حکمت والا ہے۔
[42] یہ کفار مکہ سے دوسرا سوال ہے۔ پہلا سوال اللہ کی رزاقیت سے متعلق تھا۔ دوسرا اس کی خالقیت سے متعلق ہے کہ اللہ نے تو اس تمام کائنات کو اور ہمیں بھی اور تمہیں بھی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا مخلوق کا یہی حق ہے کہ اپنے خالق کی عبادت کرے اور حمد و ثنا بیان کرے۔ اب یا تو یہ نشان دہی کرو کہ تمہارے ان معبودوں نے بھی اس کائنات کی فلاں یا فلاں چیز بنائی ہے اور ہمیں عدم سے وجود میں لانے والے تمہارے یہ معبود ہیں۔ آخر کچھ تو ان کا تخلیقی کارنامہ دکھلاؤ۔ اور اگر تم ان کا کوئی تخلیقی کارنامہ نہیں دکھلا سکتے تو پھر آخر تم نے کس دلیل کی بنا پر کس خوشی میں ان معبودوں کو اللہ کا شریک بنا دیا ہے۔ علاوہ ازیں جب یہ واضح ہو گیا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر غالب بھی ہوا جس نے حکمتوں سے لبریز یہ نظام کائنات تخلیق کیا ہے۔ لہٰذا تمہارے معبود مخلوق بھی ہیں، مملوک بھی ہیں اور مقہور بھی۔ پھر یہ عبادت کے لائق کیسے بن گئے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔