ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 26

قُلۡ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفۡتَحُ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ ہُوَ الۡفَتَّاحُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۶﴾
کہہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے گا۔ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے
En
انہیں خبر دے دیجیئے کہ ہم سب کو ہمارا رب جمع کرکے پھر ہم میں سچے فیصلے کردے گا۔ وه فیصلے چکانے واﻻ ہے اور دانا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 26) {قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ …:} عبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پھر ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمھیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہو گا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہو سکتی ہے دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ وہ تو تمھارے اور ہمارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، لہٰذا اس کے فیصلے پر کسی غلطی یا زیادتی کا امکان نہیں ہو سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 یعنی اس کے مطابق جزا دے گا، نیکوں کو جنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ آپ کہئے کہ اللہ ہم سب کو اکٹھا کر لے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے [41] گا۔ اور وہی فیصلے کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[41] اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر بھی ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں۔ لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آ جائے گی۔ اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہو گا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے۔ اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہو سکتی ہے دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ وہ تو ہمارے اور تمہارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے۔ لہٰذا اس کے فیصلہ پر کسی غلط یا زیادتی کا امکان نہیں ہو سکتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔