(آیت 26) {قُلْيَجْمَعُبَيْنَنَارَبُّنَاثُمَّيَفْتَحُبَيْنَنَابِالْحَقِّ …:} عبد الرحمان کیلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے، پھر ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں، لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمھیں بھی ٹھیک سمجھ آجائے گی اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہو گا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہو سکتی ہے دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ وہ تو تمھارے اور ہمارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، لہٰذا اس کے فیصلے پر کسی غلطی یا زیادتی کا امکان نہیں ہو سکتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یعنی اس کے مطابق جزا دے گا، نیکوں کو جنت میں اور بدوں کو جہنم میں داخل فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ آپ کہئے کہ اللہ ہم سب کو اکٹھا کر لے گا پھر ہمارے درمیان انصاف سے فیصلہ کر دے [41] گا۔ اور وہی فیصلے کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
[41] اور اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ آخرت کا اور جواب دہی کا تصور ہی غلط ہے تو یقین جانو کہ جو اللہ ہم سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ پھر بھی ہم سب کو دوبارہ مرنے کے بعد زندہ کر کے اکٹھا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ آج تم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہو اور ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہیں۔ لیکن اس دن اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان اس طرح انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا جس کی تمہیں بھی ٹھیک سمجھ آ جائے گی۔ اور اس کا فیصلہ اس لحاظ سے درست ہو گا کہ وہ ہم سب کا خالق ہے۔ اور خالق کو اپنی بنائی ہوئی چیز کی جس قدر سمجھ ہو سکتی ہے دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ وہ تو ہمارے اور تمہارے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے۔ لہٰذا اس کے فیصلہ پر کسی غلط یا زیادتی کا امکان نہیں ہو سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔