یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ پر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی اور ایسے لشکر جنھیں تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھنے والا تھا۔
En
مومنو خدا کی اُس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں۔ تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کام تم کرتے ہو خدا اُن کو دیکھ رہا ہے
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا اسے یاد کرو جبکہ تمہارے مقابلے کو فوجوں پر فوجیں آئیں پھر ہم نے ان پر تیز وتند آندھی اور ایسے لشکر بھیجے جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ …:} سورت کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا اور اس کا ہر حکم علی الاعلان سنا دینے اور کفار و منافقین کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس معاملے اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم دیا۔ اب اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس پر توکل کی صورت میں اس کے کافی ہو جانے کی دلیل کے طور پر جنگِ احزاب میں مسلمانوں کو اپنی نصرت کی نعمت یاد دلائی، یہ جنگ مسلمانوں کو پیش آنے والی تمام جنگوں سے زیادہ خوف ناک تھی۔ اس میں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرماں بردار بندے صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ ایسے لشکروں کے ساتھ ان کی مدد کرتا ہے جو نظر بھی نہیں آتے۔ اس آیت میں {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا “} کے ساتھ مسلمانوں کو مخاطب فرمایا، معلوم ہوا کہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب بھی تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس لیے ہے کہ جب نبی اس حکم کی تعمیل کا پابند ہے تو امت تو بدرجۂ اولیٰ اس کی تعمیل کی پابند ہو گی۔ (بقاعی)
➋ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ غزوۂ خندق کا ذکر ہے، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال سن پانچ ہجری میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روداد یہ ہے کہ سن چار (۴) ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سرزمین سے جلا وطن کر دیا تھا۔ اس کے کچھ اشراف (سرکردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر تم مدینہ پر حملہ کرو تو ہم تمھارا ساتھ دیں گے اور ہر طریقے سے تمھاری مدد کریں گے۔ جب قریش نے آمادگی کا اظہار کیا تو وہ نجد کے قبائل غطفان اور ہذیل وغیرہ کی طرف گئے اور انھیں بھی مدینہ پر حملے کے لیے اکسایا اور ہر ممکن طریقے سے امداد کرنے کا وعدہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ سن پانچ (۵) ہجری میں ایک طرف ابو سفیان کی سرکردگی میں قریش اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر اور دوسری طرف غطفان، ہذیل اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر عیینہ بن حصن کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچ گئے اور جنوب اور مشرق سے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ شمال کی طرف سے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے وہ یہودی آئے جو مدینہ سے جلا وطن ہونے کے بعد خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہو گئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سب کی تعداد دس ہزار تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالات کا اندازہ کرکے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے ان سمتوں میں خندق کھدوائی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی زمین کھودنے اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے رہے۔ پیچھے یعنی مغرب کی سمت میں قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی آباد تھے، جو مسلمانوں کے حلیف تھے، اس لیے مسلمان ان کی طرف سے بے فکر تھے، بلکہ انھوں نے اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھیج دیے تھے جو ان کی جانب تھیں۔ لیکن بنو نضیر کا سردار حُیی بن اخطب ان کے پاس پہنچا اور انھیں حالات کی سازگاری کا واسطہ دے کر مسلمانوں سے بد عہدی پر آمادہ کر لیا۔ اس طرح گویا مدینہ منورہ ہر طرف سے مشرکوں اور یہودیوں کے نرغہ میں آ گیا۔ ان آیات میں انھی نازک حالات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان و انعام بیان کیا ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ قرآن مجید میں اس غزوہ کی تفصیل مؤرخین کے طریقے والی ترتیب پر نہیں، بلکہ نصیحت و عبرت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے، اس لیے واقع ہونے کے لحاظ سے کئی بعد والی باتیں پہلے بیان ہوئی ہیں اور کئی پہلے والی بعد میں۔
➌ غزوۂ احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار تھی، جب کہ مشہور قول کے مطابق مسلمان تین ہزار تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ نو سو تھے۔ ابن حزم نے ”جوامع السیرۃ “ میں فرمایا: ”یہی بات صحیح ہے بلاشک اور پہلی وہم ہے۔“ اس وقت مسلمانوں کی حالت کا نقشہ پیش کرنے کے لیے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو مہاجرین و انصار سردی میں صبح صبح خندق کھود رہے تھے، ان کے پاس کوئی غلام نہ تھے، جو ان کے بجائے یہ کام سرانجام دیتے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشقت اور بھوک کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا:
{اَللّٰهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ
فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ}
”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، سو تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“
صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں کہا:
{نَحْنُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَي الْجِهَادِ مَا بَقِيْنَا أَبَدَا}
”ہم وہ ہیں جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جہاد پر بیعت کی ہے، ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں کہتے:
{اَللّٰهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الْآخِرَهْ
فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ}
”اے اللہ! خیر تو بس آخرت ہی کی خیر ہے، سو تو انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔“
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفَّيَّ مِنَ الشَّعِيْرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوْضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ، وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيْحٌ مُنْتِنٌ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۰۹۹، ۴۱۰۰] ” صحابہ کرام کو دو ہتھیلیاں بھرنے کے برابر جو دیے جاتے، ان کے لیے اس سے بدلی ہوئی بو والی چربی کے ساتھ کھانا تیار کیا جاتا، جو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا، وہ بھوکے ہوتے، یہ کھانا ان کے گلوں میں اٹکتا جس میں ناگوار بو ہوتی۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ، فَجَاؤا النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ، فَقَالَ أَنَا نَازِلٌ ثُمَّ قَامَ وَ بَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ، وَ لَبِثْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ لاَ نَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فِي الْكُدْيَةِ، فَعَادَ كَثِيْبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ائْذَنْ لِيْ إِلَي الْبَيْتِ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِيْ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ شَيْئًا، مَا كَانَ فِيْ ذٰلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ عِنْدِيْ شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ، حَتّٰی جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ، وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ طُعَيِّمٌ لِيْ، فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ، قَالَ كَمْ هُوَ؟ فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ كَثِيْرٌ طَيِّبٌ قَالَ قُلْ لَّهَا لاَ تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَ لاَ الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّوْرِ حَتّٰی آتِيَ فَقَالَ قُوْمُوْا، فَقَامَ الْمُهَاجِرُوْنَ وَ الْأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهِ قَالَ وَيْحَكِ، جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ هَلْ سَأَلَكَ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فَقَالَ ادْخُلُوْا وَلاَ تَضَاغَطُوْا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ إِلٰی أَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ، فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَغْرِفُ حَتّٰی شَبِعُوْا وَ بَقِيَ بَقِيَّةٌ قَالَ كُلِيْ هٰذَا وَ أَهْدِيْ، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۱] ”خندق کے دن ہم کھدائی کر رہے تھے، تو ایک سخت چٹان پیش آگئی۔ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ یہ ایک سخت چٹان پیش آ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں اترتا ہوں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہمیں تین دن گزر چکے تھے کہ ہم نے کوئی چیز چکھی تک نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال پکڑی، چٹان پر ماری تو وہ بھر بھرے تودے کی طرح ہو گئی۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔“ گھر جا کر میں نے بیوی سے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا، تو تیرے پاس کچھ (کھانے کے لیے) ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ جو اور ایک بکری کی پٹھوری ہے۔“ میں نے پٹھوری ذبح کی، اس نے جو پیسے اور ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں آٹا پکنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور ہانڈی چولھے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے جا کر کہا: ”تھوڑا سا کھانا ہے یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی چلیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا ہے؟“ میں نے بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہے اور عمدہ ہے، بیوی سے کہو کہ میرے آنے تک نہ ہانڈی اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔“ آپ نے صحابہ سے فرمایا: ”چلو۔“ مہاجرین و انصار اٹھ کھڑے ہوئے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیوی کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے: ”تجھ پر افسوس ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار اور جو بھی ان کے ساتھ ہیں انھیں لے کر آ رہے ہیں۔“ اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے پوچھا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہاں!“ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندر آ جاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔“ آپ روٹی توڑ توڑ کر اس پر گوشت ڈالتے رہے۔ ہانڈی اور تنور سے سالن اور روٹی نکالنے کے بعد اسے ڈھانک دیتے اور صحابہ کے سامنے رکھ دیتے، پھر دوبارہ اسی طرح کرتے، آپ روٹی اور سالن ڈالتے رہے، یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا تو جابر کی بیوی سے فرمایا: ”کھاؤ اور ہدیہ بھی دو، لوگوں کو بھوک آ پہنچی ہے۔“ اس سے اگلی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اُدْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ] ”اپنے ساتھ روٹیاں پکانے والی ایک اور عورت بلا لو۔“ اور جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ایک ہزار تھے اور اللہ کی قسم! وہ کھا کر کھانا چھوڑ گئے، ہانڈی اسی طرح اُبل رہی تھی اور آٹا پکایا جا رہا تھا۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۲] اس حدیث سے ابن حزم کی بات کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر تین ہزار نہیں بلکہ ایک ہزار کے قریب تھا۔
کفار کا خندق کو عبور کرنے کے لیے اتنا زبردست دباؤ تھا کہ مسلسل دفاع کی وجہ سے بعض اوقات آپ کی نماز بھی رہ جاتی اور آپ بعد میں ادا کرتے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں نماز کے قریب بھی نہیں جا سکا، حتیٰ کہ سورج ڈوبنے کے قریب پہنچ گیا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! مَا صَلَّيْتُهَا] ”اللہ کی قسم! میں نے بھی (عصر) نہیں پڑھی۔“ تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطحان میں اترے، آپ نے اور ہم نے نماز کے لیے وضو کیا، تو آپ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر پڑھی، پھر مغرب پڑھی۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۲] عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (اتحادی لشکروں) کے خلاف بد دعا کی اور عرض کیا: [اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ! سَرِيْعَ الْحِسَابِ! اِهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۵] ”اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! بہت جلد حساب لینے والے! ان لشکروں کو شکست دے۔ اے اللہ! انھیں شکست دے اور انھیں سخت ہلا کر رکھ دے۔“ اللہ تعالیٰ نے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ ارشاد فرمایا، حالانکہ اس کا واحد {”جُنْدٌ“} (لشکر) بھی بڑی تعداد کے اظہار کے لیے کافی تھا، لیکن کیونکہ یہ مختلف گروہ تھے، قریشِ مکہ، بنو غطفان وغیرہ، اس لیے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ استعمال فرمایا۔
➍ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا:} الرحیق المختوم میں ہے: ”مشرکین نے مدینہ کا محاصرہ ایک ماہ یا ایک ماہ کے قریب جاری رکھا تھا۔“ آزمائش کے یہ ایام بہت سخت تھے۔ اس دوران مسلمانوں کی حالت اس کے بعد والی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ کفار اس ارادے سے آئے تھے کہ مسلمانوں کا نام و نشان مٹا کر دم لیں گے اور جاتے ہی مردوں کو قتل کرکے عورتوں اور بچوں کو باندھ کر ساتھ لے آئیں گے۔ دس ہزار کے مقابلے میں ایک ہزار کی حیثیت ہی کیا تھی، مگر اللہ کی توفیق سے خندق کی وجہ سے وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے، نہ انھیں کوئی کامیابی حاصل ہو سکی۔ وہ تو ایک ہلّے میں فتح کا منصوبہ لے کر آئے تھے، لیکن یہاں انھیں محاصرے کے لیے ایک ماہ رکنا پڑا، جس کے لیے وہ تیار ہو کر نہیں آئے تھے، نہ ہی ان کے پاس اتنے دن رہنے کے لیے درکار خور و نوش کی اور دوسری اشیاء موجود تھیں، اس لیے وہ ہر لمحے زیادہ سے زیادہ قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ مسلمانوں نے اگرچہ اپنی حد تک مدافعت کی، مگر ان کی تعداد، ان کی تیاری اور تدابیر ہرگز ایسی نہ تھیں کہ ان لشکروں کا مقابلہ کر سکتیں، لیکن ان کی حالتِ زار دیکھ کر اور ان کی فریاد سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور غیب سے ان کی مدد فرمائی۔ یہ مدد دو چیزوں پر مشتمل تھی، ایک سخت آندھی اور دوسرے ایسے لشکر جو مسلمانوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ {” رِيْحًا “} سے مراد وہ نہایت سرد اور سخت آندھی ہے جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے، ان کے چولھوں کی آگ بجھ گئی، دیگیں الٹ گئیں، گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑوا کر بھاگ گئے اور ان پر ایسا شدید خوف طاری ہوا کہ وہ راتوں رات محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۵] ”میری مدد صبا (مشرق سے آنے والی ہوا) کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور (مغرب سے آنے والی ہوا) کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“
➎ { وَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا:} ان لشکروں سے مراد فرشتوں کے لشکر ہیں، جنھوں نے کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کی ہمتیں توڑ دیں اور انھیں تتر بتر کر دیا۔ بعض حضرات نے لکھ دیا کہ غزوۂ خندق میں فرشتوں کا اترنا صحیح احادیث سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں، مگر یہ بات درست نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: [لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَ وَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰهِ! مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ فَإِلٰی أَيْنَ؟ قَالَ هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۷] ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار اتار دیے اور غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے، اللہ کی قسم! ہم نے تو نہیں اتارے، سو آپ ان کی طرف نکلیے۔“ آپ نے فرمایا: ”کس طرف؟“ انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اس طرف۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکل پڑے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَی الْغُبَارِ سَاطِعًا فِيْ زُقَاقِ بَنِيْ غَنْمٍ مَوْكِبِ جِبْرِيْلَ حِيْنَ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ] [بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۸]”گویا کہ میں وہ غبار چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں جو جبریل علیہ السلام کی سواری سے بنو غنم کی گلی میں اٹھ رہا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قریظہ کی طرف گئے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں فرشتوں کے نزول اور اس کے جنود کی آمد کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، جنگ حنین میں فرمایا: «{ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا }» [التوبۃ: ۲۶] ”پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یہ ”جنود“ فرشتے تھے، اس کی وضاحت غزوۂ بدر کے بیان میں سورۂ انفال میں آئی ہے، فرمایا: «{ اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّيْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ }» [الأنفال: ۱۲] ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ سورۂ توبہ میں غار کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نظر نہ آنے والے انھی لشکروں کے ساتھ کرنے کا ذکر فرمایا: «{ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ }» [التوبۃ: ۴۰] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں میں بارہا فرشتوں کے نزول کا مشاہدہ ہوا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، شرط اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد اور اس پر استقامت ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال کی آیت (۱۰) کی تفسیر۔
➏ یہ جنگ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سب سے بڑی مہم تھی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اس کے بعد اتنے لشکر کبھی جمع نہ کر سکے، نہ پھر انھیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہو سکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیش گوئی پہلے ہی فرما دی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لشکر آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلاَ يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰] ”اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے، ہم ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔“
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قسم کے فخر یا غرور کے بجائے ان لشکروں کی شکست کو ہمیشہ اپنے اکیلے رب کا کام قرار دیتے تھے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَ غَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلاَ شَيْءَ بَعْدَهُ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۴] ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلا تمام جماعتوں پر غالب آیا، سو اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔“
➑ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی تم دشمن کے مقابلے میں جو کچھ کر رہے تھے، خندق کھود رہے تھے، بھوک پیاس اور خوف کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور استقامت اختیار کیے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا، سو اس نے تمھاری حالت دیکھ کر غیب سے تمھاری مدد فرمائی۔
➋ ہمارے استاذ محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ غزوۂ خندق کا ذکر ہے، جسے غزوۂ احزاب بھی کہا جاتا ہے، جو صحیح اور مشہور روایات کے مطابق شوال سن پانچ ہجری میں واقع ہوا۔ اس کی مختصر روداد یہ ہے کہ سن چار (۴) ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے یہودی قبیلہ بنو نضیر کو مدینہ کی سرزمین سے جلا وطن کر دیا تھا۔ اس کے کچھ اشراف (سرکردہ لوگ) مکہ گئے اور سرداران قریش سے ملاقات کر کے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر تم مدینہ پر حملہ کرو تو ہم تمھارا ساتھ دیں گے اور ہر طریقے سے تمھاری مدد کریں گے۔ جب قریش نے آمادگی کا اظہار کیا تو وہ نجد کے قبائل غطفان اور ہذیل وغیرہ کی طرف گئے اور انھیں بھی مدینہ پر حملے کے لیے اکسایا اور ہر ممکن طریقے سے امداد کرنے کا وعدہ کیا، یہاں تک کہ وہ بھی آمادہ ہو گئے۔ چنانچہ سن پانچ (۵) ہجری میں ایک طرف ابو سفیان کی سرکردگی میں قریش اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر اور دوسری طرف غطفان، ہذیل اور ان کے حلیف قبائل کا لشکر عیینہ بن حصن کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے پہنچ گئے اور جنوب اور مشرق سے مدینہ کا محاصرہ کر لیا۔ شمال کی طرف سے بنو نضیر اور بنو قینقاع کے وہ یہودی آئے جو مدینہ سے جلا وطن ہونے کے بعد خیبر اور وادی القریٰ میں آباد ہو گئے تھے۔ مجموعی طور پر ان سب کی تعداد دس ہزار تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالات کا اندازہ کرکے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے ان سمتوں میں خندق کھدوائی اور عام مسلمانوں کے ساتھ خود بھی زمین کھودنے اور مٹی اٹھانے کا کام کرتے رہے۔ پیچھے یعنی مغرب کی سمت میں قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی آباد تھے، جو مسلمانوں کے حلیف تھے، اس لیے مسلمان ان کی طرف سے بے فکر تھے، بلکہ انھوں نے اپنے بال بچے ان گڑھیوں میں بھیج دیے تھے جو ان کی جانب تھیں۔ لیکن بنو نضیر کا سردار حُیی بن اخطب ان کے پاس پہنچا اور انھیں حالات کی سازگاری کا واسطہ دے کر مسلمانوں سے بد عہدی پر آمادہ کر لیا۔ اس طرح گویا مدینہ منورہ ہر طرف سے مشرکوں اور یہودیوں کے نرغہ میں آ گیا۔ ان آیات میں انھی نازک حالات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان و انعام بیان کیا ہے۔“ (اشرف الحواشی) واضح رہے کہ قرآن مجید میں اس غزوہ کی تفصیل مؤرخین کے طریقے والی ترتیب پر نہیں، بلکہ نصیحت و عبرت کے اعتبار سے بیان ہوئی ہے، اس لیے واقع ہونے کے لحاظ سے کئی بعد والی باتیں پہلے بیان ہوئی ہیں اور کئی پہلے والی بعد میں۔
➌ غزوۂ احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار تھی، جب کہ مشہور قول کے مطابق مسلمان تین ہزار تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ نو سو تھے۔ ابن حزم نے ”جوامع السیرۃ “ میں فرمایا: ”یہی بات صحیح ہے بلاشک اور پہلی وہم ہے۔“ اس وقت مسلمانوں کی حالت کا نقشہ پیش کرنے کے لیے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف نکلے تو مہاجرین و انصار سردی میں صبح صبح خندق کھود رہے تھے، ان کے پاس کوئی غلام نہ تھے، جو ان کے بجائے یہ کام سرانجام دیتے، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشقت اور بھوک کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا:
{اَللّٰهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ
فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ}
”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، سو تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔“
صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں کہا:
{نَحْنُ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا مُحَمَّدًا
عَلَي الْجِهَادِ مَا بَقِيْنَا أَبَدَا}
”ہم وہ ہیں جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جہاد پر بیعت کی ہے، ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان باقی ہے۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں کہتے:
{اَللّٰهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الْآخِرَهْ
فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَ الْمُهَاجِرَهْ}
”اے اللہ! خیر تو بس آخرت ہی کی خیر ہے، سو تو انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔“
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [يُؤْتَوْنَ بِمِلْءِ كَفَّيَّ مِنَ الشَّعِيْرِ فَيُصْنَعُ لَهُمْ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ تُوْضَعُ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، وَالْقَوْمُ جِيَاعٌ، وَهِيَ بَشِعَةٌ فِي الْحَلْقِ وَلَهَا رِيْحٌ مُنْتِنٌ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۰۹۹، ۴۱۰۰] ” صحابہ کرام کو دو ہتھیلیاں بھرنے کے برابر جو دیے جاتے، ان کے لیے اس سے بدلی ہوئی بو والی چربی کے ساتھ کھانا تیار کیا جاتا، جو لوگوں کے سامنے رکھا جاتا، وہ بھوکے ہوتے، یہ کھانا ان کے گلوں میں اٹکتا جس میں ناگوار بو ہوتی۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ، فَجَاؤا النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالُوْا هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ، فَقَالَ أَنَا نَازِلٌ ثُمَّ قَامَ وَ بَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ، وَ لَبِثْنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ لاَ نَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فِي الْكُدْيَةِ، فَعَادَ كَثِيْبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ، فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! ائْذَنْ لِيْ إِلَي الْبَيْتِ فَقُلْتُ لاِمْرَأَتِيْ رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ شَيْئًا، مَا كَانَ فِيْ ذٰلِكَ صَبْرٌ، فَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ عِنْدِيْ شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ، حَتّٰی جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ، وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ فَقُلْتُ طُعَيِّمٌ لِيْ، فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ رَجُلٌ أَوْ رَجُلاَنِ، قَالَ كَمْ هُوَ؟ فَذَكَرْتُ لَهُ، قَالَ كَثِيْرٌ طَيِّبٌ قَالَ قُلْ لَّهَا لاَ تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَ لاَ الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّوْرِ حَتّٰی آتِيَ فَقَالَ قُوْمُوْا، فَقَامَ الْمُهَاجِرُوْنَ وَ الْأَنْصَارُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی امْرَأَتِهِ قَالَ وَيْحَكِ، جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ هَلْ سَأَلَكَ؟ قُلْتُ نَعَمْ، فَقَالَ ادْخُلُوْا وَلاَ تَضَاغَطُوْا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ إِلٰی أَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ، فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَ يَغْرِفُ حَتّٰی شَبِعُوْا وَ بَقِيَ بَقِيَّةٌ قَالَ كُلِيْ هٰذَا وَ أَهْدِيْ، فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۱] ”خندق کے دن ہم کھدائی کر رہے تھے، تو ایک سخت چٹان پیش آگئی۔ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ یہ ایک سخت چٹان پیش آ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں اترتا ہوں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہمیں تین دن گزر چکے تھے کہ ہم نے کوئی چیز چکھی تک نہ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال پکڑی، چٹان پر ماری تو وہ بھر بھرے تودے کی طرح ہو گئی۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔“ گھر جا کر میں نے بیوی سے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حالت دیکھی ہے جس پر مجھ سے صبر نہیں ہو سکتا، تو تیرے پاس کچھ (کھانے کے لیے) ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ جو اور ایک بکری کی پٹھوری ہے۔“ میں نے پٹھوری ذبح کی، اس نے جو پیسے اور ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اتنے میں آٹا پکنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور ہانڈی چولھے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے جا کر کہا: ”تھوڑا سا کھانا ہے یا رسول اللہ! آپ اور آپ کے ساتھ ایک یا دو آدمی چلیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا ہے؟“ میں نے بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت ہے اور عمدہ ہے، بیوی سے کہو کہ میرے آنے تک نہ ہانڈی اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔“ آپ نے صحابہ سے فرمایا: ”چلو۔“ مہاجرین و انصار اٹھ کھڑے ہوئے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیوی کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے: ”تجھ پر افسوس ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار اور جو بھی ان کے ساتھ ہیں انھیں لے کر آ رہے ہیں۔“ اس نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے پوچھا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہاں!“ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندر آ جاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔“ آپ روٹی توڑ توڑ کر اس پر گوشت ڈالتے رہے۔ ہانڈی اور تنور سے سالن اور روٹی نکالنے کے بعد اسے ڈھانک دیتے اور صحابہ کے سامنے رکھ دیتے، پھر دوبارہ اسی طرح کرتے، آپ روٹی اور سالن ڈالتے رہے، یہاں تک کہ سب سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا تو جابر کی بیوی سے فرمایا: ”کھاؤ اور ہدیہ بھی دو، لوگوں کو بھوک آ پہنچی ہے۔“ اس سے اگلی روایت میں جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اُدْعُ خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكِ] ”اپنے ساتھ روٹیاں پکانے والی ایک اور عورت بلا لو۔“ اور جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ایک ہزار تھے اور اللہ کی قسم! وہ کھا کر کھانا چھوڑ گئے، ہانڈی اسی طرح اُبل رہی تھی اور آٹا پکایا جا رہا تھا۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۲] اس حدیث سے ابن حزم کی بات کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا لشکر تین ہزار نہیں بلکہ ایک ہزار کے قریب تھا۔
کفار کا خندق کو عبور کرنے کے لیے اتنا زبردست دباؤ تھا کہ مسلسل دفاع کی وجہ سے بعض اوقات آپ کی نماز بھی رہ جاتی اور آپ بعد میں ادا کرتے۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں نماز کے قریب بھی نہیں جا سکا، حتیٰ کہ سورج ڈوبنے کے قریب پہنچ گیا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! مَا صَلَّيْتُهَا] ”اللہ کی قسم! میں نے بھی (عصر) نہیں پڑھی۔“ تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بطحان میں اترے، آپ نے اور ہم نے نماز کے لیے وضو کیا، تو آپ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر پڑھی، پھر مغرب پڑھی۔“ [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۲] عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (اتحادی لشکروں) کے خلاف بد دعا کی اور عرض کیا: [اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ! سَرِيْعَ الْحِسَابِ! اِهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَ زَلْزِلْهُمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۵] ”اے اللہ! اے کتاب نازل کرنے والے! بہت جلد حساب لینے والے! ان لشکروں کو شکست دے۔ اے اللہ! انھیں شکست دے اور انھیں سخت ہلا کر رکھ دے۔“ اللہ تعالیٰ نے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ ارشاد فرمایا، حالانکہ اس کا واحد {”جُنْدٌ“} (لشکر) بھی بڑی تعداد کے اظہار کے لیے کافی تھا، لیکن کیونکہ یہ مختلف گروہ تھے، قریشِ مکہ، بنو غطفان وغیرہ، اس لیے {” جُنُوْدًا “} کا لفظ استعمال فرمایا۔
➍ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا:} الرحیق المختوم میں ہے: ”مشرکین نے مدینہ کا محاصرہ ایک ماہ یا ایک ماہ کے قریب جاری رکھا تھا۔“ آزمائش کے یہ ایام بہت سخت تھے۔ اس دوران مسلمانوں کی حالت اس کے بعد والی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ کفار اس ارادے سے آئے تھے کہ مسلمانوں کا نام و نشان مٹا کر دم لیں گے اور جاتے ہی مردوں کو قتل کرکے عورتوں اور بچوں کو باندھ کر ساتھ لے آئیں گے۔ دس ہزار کے مقابلے میں ایک ہزار کی حیثیت ہی کیا تھی، مگر اللہ کی توفیق سے خندق کی وجہ سے وہ نہ مدینہ میں داخل ہو سکے، نہ انھیں کوئی کامیابی حاصل ہو سکی۔ وہ تو ایک ہلّے میں فتح کا منصوبہ لے کر آئے تھے، لیکن یہاں انھیں محاصرے کے لیے ایک ماہ رکنا پڑا، جس کے لیے وہ تیار ہو کر نہیں آئے تھے، نہ ہی ان کے پاس اتنے دن رہنے کے لیے درکار خور و نوش کی اور دوسری اشیاء موجود تھیں، اس لیے وہ ہر لمحے زیادہ سے زیادہ قوت سے حملہ آور ہو رہے تھے۔ مسلمانوں نے اگرچہ اپنی حد تک مدافعت کی، مگر ان کی تعداد، ان کی تیاری اور تدابیر ہرگز ایسی نہ تھیں کہ ان لشکروں کا مقابلہ کر سکتیں، لیکن ان کی حالتِ زار دیکھ کر اور ان کی فریاد سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور غیب سے ان کی مدد فرمائی۔ یہ مدد دو چیزوں پر مشتمل تھی، ایک سخت آندھی اور دوسرے ایسے لشکر جو مسلمانوں کی نگاہ سے اوجھل تھے۔ {” رِيْحًا “} سے مراد وہ نہایت سرد اور سخت آندھی ہے جس سے کفار کے خیمے اکھڑ گئے، ان کے چولھوں کی آگ بجھ گئی، دیگیں الٹ گئیں، گھوڑے اور اونٹ رسیاں تڑوا کر بھاگ گئے اور ان پر ایسا شدید خوف طاری ہوا کہ وہ راتوں رات محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُوْرِ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق و ھي الأحزاب: ۴۱۰۵] ”میری مدد صبا (مشرق سے آنے والی ہوا) کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور (مغرب سے آنے والی ہوا) کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔“
➎ { وَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا:} ان لشکروں سے مراد فرشتوں کے لشکر ہیں، جنھوں نے کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کی ہمتیں توڑ دیں اور انھیں تتر بتر کر دیا۔ بعض حضرات نے لکھ دیا کہ غزوۂ خندق میں فرشتوں کا اترنا صحیح احادیث سے صراحت کے ساتھ ثابت نہیں، مگر یہ بات درست نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: [لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مِنَ الْخَنْدَقِ وَ وَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ، أَتَاهُ جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللّٰهِ! مَا وَضَعْنَاهُ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ فَإِلٰی أَيْنَ؟ قَالَ هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۷] ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپس آئے، ہتھیار اتار دیے اور غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے، اللہ کی قسم! ہم نے تو نہیں اتارے، سو آپ ان کی طرف نکلیے۔“ آپ نے فرمایا: ”کس طرف؟“ انھوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اس طرف۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکل پڑے۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [كَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَی الْغُبَارِ سَاطِعًا فِيْ زُقَاقِ بَنِيْ غَنْمٍ مَوْكِبِ جِبْرِيْلَ حِيْنَ سَارَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ إِلٰی بَنِيْ قُرَيْظَةَ] [بخاري، المغازي، باب مرجع النبي صلی اللہ علیہ وسلم من الأحزاب…: ۴۱۱۸]”گویا کہ میں وہ غبار چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں جو جبریل علیہ السلام کی سواری سے بنو غنم کی گلی میں اٹھ رہا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی قریظہ کی طرف گئے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں فرشتوں کے نزول اور اس کے جنود کی آمد کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے، جنگ حنین میں فرمایا: «{ ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا }» [التوبۃ: ۲۶] ”پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہیں دیکھے۔“ یہ ”جنود“ فرشتے تھے، اس کی وضاحت غزوۂ بدر کے بیان میں سورۂ انفال میں آئی ہے، فرمایا: «{ اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ اَنِّيْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ }» [الأنفال: ۱۲] ”جب تیرا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، پس تم ان لوگوں کو جمائے رکھو جو ایمان لائے ہیں، عنقریب میں ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے کفر کیا، رعب ڈال دوں گا۔ پس ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگاؤ۔“ سورۂ توبہ میں غار کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نظر نہ آنے والے انھی لشکروں کے ساتھ کرنے کا ذکر فرمایا: «{ اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ }» [التوبۃ: ۴۰] ”اگر تم اس کی مدد نہ کرو تو بلاشبہ اللہ نے اس کی مدد کی، جب اسے ان لوگوں نے نکال دیا جنھوں نے کفر کیا، جب کہ وہ دو میں دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اپنی سکینت اس پر اتار دی اور اسے ان لشکروں کے ساتھ قوت دی جو تم نے نہیں دیکھے اور ان لوگوں کی بات نیچی کر دی جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کی بات ہی سب سے اونچی ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کفار کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں میں بارہا فرشتوں کے نزول کا مشاہدہ ہوا ہے۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، شرط اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد اور اس پر استقامت ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال کی آیت (۱۰) کی تفسیر۔
➏ یہ جنگ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سب سے بڑی مہم تھی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ اس کے بعد اتنے لشکر کبھی جمع نہ کر سکے، نہ پھر انھیں مدینہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہو سکی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیش گوئی پہلے ہی فرما دی۔ سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لشکر آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْآنَ نَغْزُوْهُمْ وَلاَ يَغْزُوْنَنَا، نَحْنُ نَسِيْرُ إِلَيْهِمْ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۰] ”اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہوں گے، ہم ان کی طرف پیش قدمی کریں گے۔“
➐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی قسم کے فخر یا غرور کے بجائے ان لشکروں کی شکست کو ہمیشہ اپنے اکیلے رب کا کام قرار دیتے تھے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَهُ، أَعَزَّ جُنْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَ غَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، فَلاَ شَيْءَ بَعْدَهُ] [بخاري، المغازي، باب غزوۃ الخندق وھي الأحزاب: ۴۱۱۴] ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے لشکر کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلا تمام جماعتوں پر غالب آیا، سو اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔“
➑ { وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا:} یعنی تم دشمن کے مقابلے میں جو کچھ کر رہے تھے، خندق کھود رہے تھے، بھوک پیاس اور خوف کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور استقامت اختیار کیے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ سب کچھ خوب دیکھ رہا تھا، سو اس نے تمھاری حالت دیکھ کر غیب سے تمھاری مدد فرمائی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9-1ان آیات میں غزوہ احزاب کی کچھ تفصیل ہے جو-5ہجری میں پیش آیا۔ اسے احزاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر تمام اسلام دشمن گروہ جمع ہو کر مسلمانوں کے مرکز ' مدینہ ' پر حملہ آور ہوئے تھے۔ احزاب حزب (گروہ) کی جمع ہے۔ اسے جنگ خندق بھی کہتے ہیں، اس لئے کہ مسلمانوں نے اپنے بچاؤ کے لئے مدینے کے اطراف میں خندق کھودی تھی تاکہ دشمن مدینہ کے اندر نہ آسکیں۔ اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر، جس کو رسول اللہ نے مسلسل بد عہدی کی وجہ سے مدینے سے جلا وطن کردیا تھا، یہ قبیلہ خیبر میں جا آباد ہوا اس نے کفار مکہ کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کیا، اسی طرح غطفان وغیرہ قبائل نجد کو بھی امداد کا یقین دلا کر آمادہ قتال کیا یوں یہ یہودی اسلام اور مسلمانوں کے تمام دشمنوں کو اکٹھا کر کے مدینے پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مشرکین مکہ کی قیادت ابو سفیان کے پاس تھی، انہوں نے احد کے آس پاس پڑاؤ ڈال کر تقریباً مدینے کا محاصرہ کرلیا ان کی مجموعی تعداد10ہزار تھی، جب کہ مسلمان تین ہزار تھے۔ علاوہ ازیں جنوبی رخ پر یہودیوں کا تیسرا قبیلہ بنو قریظہ آباد تھا۔ جس سے ابھی تک مسلمانوں کا معاہدہ قائم اور وہ مسلمانوں کی مدد کرنے کا پابند تھا۔ لیکن اسے بھی بنو نضیر کے یہودی سردار حیی بن اخطب نے ورغلا کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے حوالے سے، اپنے ساتھ ملا لیا یوں مسلمان چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھر گئے۔ اس موقع پر حضرت سلیمان فارسی کے مشورے سے خندق کھودی گئی، جس کی وجہ سے دشمن کا لشکر مدینے سے اندر نہیں آسکا اور مدینے کے باہر قیام پذیر رہا۔ تاہم مسلمان اس محاصرہ اور دشمن کی متحدہ یلغار سے سخت خوفزدہ تھے، کم و بیش ایک مہینے تک محاصرہ قائم رہا اور مسلمان سخت خوف اور اضطراب کے عالم میں مبتلا تھے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب سے مسلمانوں کی مدد فرمائی ان آیات میں ان ہی سراسیمہ حالات اور امداد غیبی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے پہلے جُنُودًا سے مراد کفار کی فوجیں ہیں، جو جمع ہو کر آئی تھیں۔ تیز و تند ہوا سے مراد ہوا ہے جو سخت طوفان اور آندھی کی شکل میں آئی، جس نے ان کے خیموں کو اکھاڑ پھینکا جانور رسیاں تڑا کر بھاگ کھڑے ہوئے، ہانڈیاں الٹ گئیں اور سب بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہی ہوا ہے۔ جس کی بابت حدیث میں آتا ہے، (بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا) 9۔ التوبہ:40) سے مراد فرشتے ہیں۔ جو مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے، انہوں نے دشمن کے دلوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری کردی کہ انہوں نے وہاں سے جلد بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے آندھی اور ایسے لشکر بھیج دیئے جو تمہیں [14] نظر نہ آتے تھے اور جو کچھ تم کر رہے تھے اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔
[14] جنگ احزاب کے اصل محرک خیبر میں پناہ گزین یہودی تھے :۔
آیت نمبر 9 سے لے کر آیت نمبر 27 تک جنگ احزاب کا یا جنگ خندق کا بیان ہے۔ مگر اس میں تسلسل کا وہ انداز نہیں جو ایک انسان یا مورخ کے بیان یا اس کی تصنیف میں پایا جاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جنگ کے اسباب بیان کرے گا۔ پھر واقعات کی تفصیل بتائے گا پھر اس کے بعد اس کے نتائج پر تبصرہ کرے گا۔ لیکن قرآن کا انداز بیان اس سے بالکل جداگانہ ہوتا ہے۔ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت اور مسلمانوں کی اخلاقی اور عملی تربیت ہے۔ لہٰذا اس مخصوص انداز بیان سے اس جنگ کے بیان کا آغاز کیا گیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ جب اللہ کے فرمانبردار صرف اللہ پر توکل کرتے ہیں تو وہ کن کن غیر مرئی اسباب سے اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے لہٰذا مسلمانوں کو مشکل سے مشکل آزمائش کے وقت بھی صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور جو کام وہ کر سکتے ہیں وہ بہرحال انھیں پوری محنت سے سرانجام دینا چاہئیں۔ پھر بعد میں قرآن کے بیان میں ان تمام فرقوں کے کردار پر بھی تبصرہ آگیا ہے جو اس جنگ میں شریک تھے۔ اب ہم پہلے اس جنگ کے مختصر حالات ترتیب وار بیان کرتے ہیں تاکہ اس جنگ کا پس منظر اور واقعات بھی سامنے رہیں اور آیات قرآنی کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔ کفار کے متحدہ گروپ میں کون کون سے گروپ اور قبائل شامل تھے؟ اس جنگ میں قریش مکہ، یہود مدینہ اور مشرک بدوی قبائل سب نے حصہ لیا تھا اسی لئے اسے ”جنگ احزاب“ کہا جاتا ہے۔ رہے منافقین تو وہ کھل کر سامنے آنے کی بجائے مسلمانوں میں بددلی پھیلانے اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے، ان کا مذاق اڑانے اور دشمنوں سے ساز باز کا کردار ادا کر رہے تھے۔ کافر اتحادیوں کے اس مشترکہ لشکر کا سردار چونکہ ابو سفیان ہی تھا لہٰذا اس جنگ میں زیادہ تر حصہ قریش مکہ کا ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس جنگ کا آغاز یوں ہوا کہ جنگ احد کے بعد غزوہ بنو نضیر پیش آیا۔ جس کے نتیجہ میں یہودیوں کو مدینہ سے نکال دیا گیا اور انہوں نے خیبر میں جا کر پناہ لی تھی۔ انھیں جلا وطن شدہ یہودیوں میں سے بیس افراد پر مشتمل ایک وفد قریش مکہ کے پاس آیا اور انھیں مسلمانوں پر ایک اجتماعی اور کاری ضرب لگانے کی ترغیب دی۔ ایسی ضرب جس سے مسلمانوں کی جڑ کٹ جائے اور یہ روزمرہ کی بک بک ختم ہو۔ قریش مکہ نے یہودی وفد کی اس آواز پر لبیک کہا اور انہوں نے اس موقع کو اس لحاظ سے بھی غنیمت جانا کہ جنگ احد کے اختتام پر ابو سفیان نے ایک سال بعد بدر کے میدان میں جنگ لڑنے کا چیلنج دیا تھا۔ مسلمانوں کے وقت مقررہ پر میدان بدر میں پہنچنے کے باوجود ابو سفیان وہاں نہ پہنچ سکا تھا۔ یہود کی اس پیش کش نے اس کے حوصلے بڑھا دیئے اور فوراً ان کا ہم نوا بن گیا۔ قریش مکہ کی طرف سے حوصلہ افزا جواب پانے کے بعد یہ وفد بنو غطفان کے پاس گیا۔ یہ قبیلہ چونکہ پہلے ہی یہود کا حلیف تھا لہٰذا وہ بھی فوراً تیار ہو گیا۔ بعد ازاں یہ وفد دوسرے اسلام دشمن قبائل میں گھوما پھرا حتیٰ کہ تمام اسلام دشمن عناصر کو مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ کر لیا۔ چنانچہ ذی قعدہ 5ھ میں ابو سفیان کی سر کردگی میں جنوبی اطراف سے قریش، کنانہ اور تہامہ میں آباد دوسرے حلیف قبائل کا چار ہزار افراد پر مشتمل لشکر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ مر الظہران کے مقام پر بنو سلیم کے ذیلی قبائل جنہوں نے بئر معونہ کے قریب چوٹی کے ستر (70) قاریوں کو دھوکے سے شہید کر دیا تھا، ابو سفیان کے لشکر سے آکر مل گئے۔ مشرقی اطراف سے غطفانی قبائل فزارہ، حرہ اور اشجع بھی اس لشکر سے آملے۔ غرضیکہ مدینہ تک پہنچتے پہنچتے اس لشکر کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔ جبکہ مدینہ کی کل آبادی بھی دس ہزار سے کم تھی اس میں سے جنگجو افراد صرف تین ہزار تھے اور ان تین ہزار میں منافقین بھی شامل تھے۔ اگر مسلمانوں نے خندق کھود کر بروقت اپنا دفاع نہ کر لیا ہوتا تو فی الواقع یہ عظیم لشکر مسلمانوں کو ایک ہی حملہ میں نیست و نابود کرنے کے لئے کافی تھا۔
مجلس مشاورت اور خندق کی کھدائی :۔
دوسری طرف مسلمانوں کا محکمہ خبر رسانی (Intelligence) کفار کی نسبت بہت زیادہ فعال اور متحرک تھا۔ جب یہود بنو نضیر کا وفد قریش اور دوسرے قبائل کو آمادہ جنگ کر رہا تھا تو جلد ہی یہ خبریں مدینہ پہنچ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ دفاع کے لئے کیا صورت اختیار کی جائے؟ چنانچہ سیدنا سلمان فارسیؓ کے مشورہ کے مطابق مدینہ کے سامنے والی سمت میں خندق کھود کر دفاع کرنے کی تجویز پاس ہوئی۔ چنانچہ خندق کی کھدائی کا کام شروع ہو گیا۔ خندق 15 فٹ گہری کھودی۔ ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ لمبی خندق کھودنے پر مامور کیا گیا اور تیس افراد نے مل کر یہ خندق بیس دن میں مکمل کی۔ معاشی لحاظ سے بھی مسلمانوں پر یہ وقت انتہائی تنگی کا دور تھا۔ مسلمان پیٹ پر پتھر باندھ کر خندق کھود رہے تھے۔ اور سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار نے مدینہ کے گرد خندق کھودنا شروع کی تو مٹی اپنی پیٹھ پر ڈھو رہے تھے اور یہ شعر پڑھتے جاتے تھے۔ ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ جب تک زندہ رہیں گے۔ اسلام کی خاطر زندہ رہیں گے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں یہ جواب دے رہے تھے۔ ”یا اللہ! بھلائی تو وہی ہے جو آخرت کی ہے۔ لہٰذا مہاجرین و انصار میں برکت عطا فرما“
خوراک کی قلت :۔
سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ اس وقت خوراک کی قلت کا یہ حال تھا کہ تھوڑے سے جو بدبو دار چربی میں ملا کر پکاتے۔ لوگ بھوکے ہوتے وہ اسے بھی کھا جاتے۔ حالانکہ وہ بد مزا چربی حلق پکڑ لیتی اور اس سے خراب بو آتی تھی۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق]
آپ کا اکیلے چٹان توڑنا:۔
اور جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم خندق کھود رہے تھے تو زمین میں ایک بڑا سخت قطعہ آ گیا جو کدال سے کھد نہ سکا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت حال سے مطلع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خود اترتا ہوں۔ آپ کھڑے ہوئے بھوک کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پتھر بندھا تھا اور ہم لوگ نے بھی تین دن سے کوئی کھانے کی چیز نہ چکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اس قطعہ پر اس زور سے ماری کہ وہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ میں نے جب بھوک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال دیکھا تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ سیدھا گھر اپنی بیوی (سہیلہ) کے پاس آیا اور کہا میں نے رسول اللہ کی یہ حالت دیکھی ہے۔ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے۔ وہ کہنے لگی ایک صاع جو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ میری بیوی نے جو پیسے اور میں نے بکری ذبح کر کے اس کا گوشت ہانڈی میں ڈالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے روانہ ہوا تو بیوی کہنے لگی: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھوڑے ہی آدمی بلانا اور مجھے سب کے سامنے شرمندہ نہ کرنا“
جابر بن عبد اللہؓ کے ہاں دعوت اور آپ کا معجزہ :۔
میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر چپکے سے کہا کہ ہم نے ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے اور ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ لہٰذا آپ چند آدمیوں کو ہمراہ لے کر ہمارے ہاں چلئے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا، ”خندق والو! جابر کے ہاں تمہاری دعوت ہے۔ چلو، جلدی کرو“ اور جابرؓ سے فرمایا کہ ”جب تک میں نہ آؤں۔ ہانڈی چولھے پر سے مت اتارنا اور نہ آٹے کی روٹیاں بنانا“ میں گھر واپس لوٹا ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے لوگ موجود تھے۔ میری بیوی مجھے کہنے لگی ”اللہ تجھ سے سمجھے“ میاں نے کہا جیسا تو نے کہا تھا میں نے ویسا ہی آپ سے کہا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹے میں اپنا لب ڈال دیا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد آپ ہانڈی کی طرف گئے۔ اس میں بھی لب ڈالا۔ اور میری بیوی سے فرمایا: ”روٹی پکانے والی ایک اور بلا لے اور کفگیر سے ہانڈی میں سے گوشت نکالتی جا اور اس کو چولہے سے نہ اتارنا۔“ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ کھانے والے ایک ہزار آدمی تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سب نے کھانا خوب سیر ہو کھایا مگر ہانڈی کا وہی حال تھا۔ وہ گوشت سے بھری جوش مار رہی تھی اور آٹے میں سے بھی روٹیاں بن رہی تھیں۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ الخندق]
بنو قریظہ کی عہد شکنی :۔
خندق تیار ہونے کے بعد ایک افتاد یہ پیش آئی کہ مدینہ کے اندر جو یہود کا قبیلہ بنو قریظہ، جو مسلمانوں کا معاہد اور اب تک اپنے عہد پر قائم تھا، حیی بن اخطب کی انگیخت اور جنگ کے بعد بھی تعاون کی یقین دہانی کی بنا پر عہد شکنی پر آمادہ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کی تحقیق کے لئے حذیفہ بن یمان کو بھیجا اور اسے یہ تاکید کر دی کہ جو بھی صورت حال ہو کسی سے ذکر نہ کرنا اور صرف مجھے ہی آکر علیحدگی میں بتانا۔ قاصد نے صورتحال کی تحقیق کے بعد آپ کو بتایا کہ بنو قریظہ کی عہد شکنی والی بات درست ہے۔ اس خبر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی صدمہ ہوا۔ مسلمانوں کے لئے یہ وقت کڑی آزمائش کا وقت تھا۔ خندق پار دشمن کا سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا لشکر اور مدینہ کے اندر منافقین مار آستین بن گئے۔ خوراک کی شدید قلت الگ تھی۔ کفار کا یہ محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ ہر روز خندق کے آر پار دونوں طرف سے نیزہ باری اور تیر اندازی ہوتی رہی مگر جنگ کسی فیصلہ کن مرحلہ پر نہ پہنچتی تھی۔ یہ اس قدر کڑی آزمائش تھی کہ بھلے بھلے صحابہ کرام کے قدم ڈگمگا گئے۔ اس حال میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دو طرح سے مدد فرمائی۔
نعیم بن مسعودؓ کی سیاسی چال اور اتحادی گروپ میں پھوٹ :۔
ایک صورت تو یہ بنی کہ بنوغطفان کا ایک رئیس نعیم بن مسعود، رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لے آیا۔ اور اس بات کا علم نہ قریش کو ہو سکا اور نہ یہود کو۔ دونوں اسے اپنا اتحادی دوست سمجھتے تھے۔ نعیم بن مسعود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں ان حالات میں آپ کی اور اسلام کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ چنانچہ آپ نے اس کے ذمہ قریش اور یہود میں پھوٹ ڈالنے کی ڈیوٹی لگائی۔ آدمی بڑا عقلمند تھا۔ اسے فورا ایک ترکیب سوجھ گئی وہ پہلے بنو قریظہ کے ہاں گیا اور کہنے لگا: دیکھو اگر جنگ میں اتحادیوں کو ناکامی ہوئی تو قریش تو اپنے گھروں کو چلے جائیں گے لیکن تم مسلمانوں کے اندر بیٹھے ہو۔ وہ تمہارا بھرکس نکال دیں گے۔ لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم قریش سے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کرو تاکہ ایسی صورت میں وہ تمہارے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوں۔ یہود کو یہ بات بہت پسند آئی۔ پھر وہ ابو سفیان کے پاس جا کر کہنے لگا: یہود تم سے بد ظن ہو چکے ہیں۔ اور وہ تم سے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کرنا چاہتے ہیں۔ جنہیں وہ کسی وقت بھی مسلمانوں کے حوالہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل سکتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا تم ان کا مطالبہ ہرگز تسلیم نہ کرنا۔ ابو سفیان کے دل میں یہ بات کھب گئی۔ ابو سفیان نے دوسرے دن بنو قریظہ کو مشترکہ حملہ کے لئے پیغام بھیجا تو انہوں نے بطور یرغمال دس آدمیوں کا مطالبہ کر دیا۔ اس طرح یہ دونوں فریق پھوٹ کا شکار ہو گئے۔
سخت ٹھنڈی ہوا کی آندھی:۔
مسلمانوں کی مدد کی دوسری صورت جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی اور جس کا آیت میں ذکر ہے، یہ تھی کہ ٹھنڈی یخ ہوا اتنی تیز چلی جس نے خیمے اکھاڑ دیئے۔ گھوڑوں کے رسے ٹوٹ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہنڈیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں۔ آگ بجھ گئی، ہوا اتنی سخت ٹھنڈی تھی کہ بدن کو چھید کرتی اور آر پار ہوتی معلوم ہوتی تھی۔ غرض لشکر کفار میں سخت بدحواسی پھیل گئی اور بھگڈر مچ گئی۔
زبیر بن عوامؓ کا دشمن کی خبر لانے کو تیار ہونا :۔
ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے پوچھا کہ کون ہے جو جا کر دشمن کی خبر لائے؟ مگر اتنی ٹھنڈی آندھی میں کسی کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر سیدنا زبیر بن عوامؓ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا۔ آپ نے دوبارہ یہی سوال کیا تو بھی سیدنا زبیر بن عوامؓ ہی نے کہا، میں جاتا ہوں۔ آپ نے سہ بار یہی سوال کیا تو پھر سیدنا زبیر بن عوامؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ چنانچہ آپؓ لشکر کفار کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپؓ خود کہتے ہیں کہ اس وقت مجھے قطعاً کچھ سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ آپؓ نے واپس آ کر وہی حالات بیان کئے جو لوگ سن رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پیغمبر کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوۃ خندق وھی]
آپﷺ کا فرمان کہ آئندہ کفار ہم پر حملہ نہ کر سکیں گے :۔
چنانچہ ان حالات نے دشمن کو واپسی پر مجبور کر دیا اور وہ افراتفری کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن کے بعد کفار ہم پر چڑھ کر نہیں آئیں گے بلکہ ہم ان پر چڑھائی کریں گے“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ خندق]
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حرف بحرف پورا ہوا۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حرف بحرف پورا ہوا۔
اللہ تعالیٰ کے غیر مرئی لشکر :۔
اس آیت میں ایک تو ہوا سے مدد کا ذکر ہے اور دوسرے ایسے لشکروں سے مدد کا ذکر ہے جو تمہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ اس سے مراد وہ باطنی اسباب ہیں جن کی بنا پر کفار بھاگ کھڑا ہونے پر مجبور ہوتے تھے۔ ممکن ہے اس سے مراد فرشتے ہوں جو ہواؤں پر مامور تھے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اس جنگ میں فرشتوں کا نزول احادیث صحیحہ سے صراحت سے ثابت نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭
جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ ٤ ہجری میں ہوئی تھی۔
اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔
اس لڑائی کا قصہ یہ ہے کہ بنو نضیر کے یہودی سرداروں نے جن میں سلام بن ابو حقیق، سلام بن مشکم، کنانہ بن ربیع وغیرہ تھے مکے میں آ کر قریشیوں کو جو اول ہی سے تیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے پر آمادہ کیا اور ان سے عہد کیا کہ ہم اپنے زیر اثر لوگوں کے ساتھ آپ کی جماعت میں شامل ہیں۔ انہیں آمادہ کر کے یہ لوگ قبیلہ غطفان کے پاس گئے ان سے ساز باز کر کے اپنے ساتھ شامل کر لیا قریشیوں نے بھی ادھر ادھر پھر کر تمام عرب میں آگ لگا کر سب گرے پڑے لوگوں کو بھی ساتھ ملالیا۔ ان سب کا سردار ابوسفیان صخر بن حرب بنا اور غطفان کا سردار عیینہ بن حصن بن بدر مقرر ہوا۔ ان لوگوں نے کوشش کر کے دس ہزار کا لشکر اکٹھا کر لیا اور مدینے کی طرف چڑھ دوڑے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس لشکر کشی کی خبریں پہنچیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ مشورہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں خندق یعنی کھائی کھدوائی اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم شامل تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مشرکین کا لشکر بلا مزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا۔
یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کر لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کے صحابہ رضی اللہ عنھم کو جو تین ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف سات سو تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔
سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔
یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔
باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ’ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے ‘۔
مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔
یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔
پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔
سلع پہاڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو بیروک آنے نہیں دیتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں اور عورتوں کو مدینے کے ایک محلے میں کر دیا۔
یہودیوں کی ایک جماعت بنو قریظہ مدینے میں تھی مشرقی جانب ان کا محلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاہدہ مضبوط تھا ان کا بھی بڑا گروہ تھا تقریباً آٹھ سو جنگجو لڑنے کے قابل میدان میں موجود تھے مشرکین اور یہود نے ان کے پاس حی بن اخطب نضری کو بھیجا اس نے انہیں بھی شیشے میں اتار کر سبز باغ دکھلا کر اپنی طرف کر لیا اور انہوں نے بھی ٹھیک موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ بد عہدی کی، اور اعلانیہ طور پر صلح توڑ دی۔
باہر سے دس ہزار کا وہ لشکر جو گھیرا ڈالے پڑا ہے اندر سے ان یہودیوں کی بغاوت جو بغلی پھوڑے کی طرح اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمان بتیس دانتوں میں زبان یا آٹے میں نمک کی طرح ہوگئے۔ یہ کل سات سو آدمی کر ہی کیا سکتے تھے۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ ’ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہو گئے ‘۔
مہینہ بھر تک محاصرہ کی یہی تلخ صورت قائم رہی گو مشرکین کی یہ جرأت تو نہیں ہوئی کہ خندق سے پار ہو کر دستی لڑائی لڑتے لیکن ہاں گھیرا ڈالے پڑے رہے اور مسلمانوں کو تنگ کر دیا۔ البتہ عمرو بن عبدود عامری جو عرب کا مشہور شجاع پہلوان اور فن سپہ سالاری میں یکتا تھا ساتھ ہی بہادر جی دار اور قوی تھا ایک مرتبہ ہمت کر کے اپنے ساتھ چند جانباز پہلوانوں کو لے کر خندق سے اپنے گھوڑوں کو گزارلایا۔
یہ حال دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سواروں کی طرف اشارہ کیا لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں تیار نہ پاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم اس کے مقابلے پر آ جاؤ آپ رضی اللہ عنہ گئے تھوڑی دیر تک تو دونوں بہادروں میں تلوار چلتی رہی لیکن بالآخر علی رضی اللہ عنہ نے کفر کے اس دیو کو تہہ تیغ کیا ـ جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ فتح ہماری ہے۔
پھر پروردگار نے وہ تندوتیز آندھی بھیجی کہ مشرکین کے تمام خیمے اکھڑے گئے کوئی چیز قرینے سے نہ رہی آگ کا جلانا مشکل ہو گیا۔ کوئی جائے پناہ نظر نہ آئی۔
بالآخر تنگ آ کر نا مرادی سے واپس ہوئے۔ جس کا بیان اس آیت میں ہے۔ جس ہوا کا اس آیت میں ذکر ہے بقول مجاہد رحمۃ اللہ یہ صبا ہے اور اس کی تائید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ { میں صبا ہوا سے مدد دیا گیا ہوں اور قوم عاد کے لوگ تند و تیز ہواؤں سے ہلاک کئے گئے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4105]
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔“
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ { میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں }۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف]
اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ’ اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا ‘۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ { کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جنوبی ہوا نے شمالی ہوا سے اس جنگ احزاب میں کہا کہ چل ہم تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں تو شمالی ہوا نے کہا کہ گرمی رات کو نہیں چلاتی۔ پھر ان پر صبا ہوا بھیجی گئی۔“
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مجھے میرے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے خندق والی رات سخت جاڑے اور تیز ہوا میں مدینہ شریف بھیجا کہ کھانا اور لحاف لے آؤں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ { میرے جو صحابی تمہیں ملیں انہیں کہنا کہ میرے پاس چلے آئیں }۔ اب میں چلا ہوائیں زناٹے کی شائیں شائیں چل رہی تھیں۔ مجھے جو مسلمان ملا میں نے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا اور جس نے سنا الٹے پاؤں فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ہوا میری ڈھال کو دھکے دے رہی تھی اور وہ مجھے لگ رہی تھی یہاں تک کہ اس کا لوہا میرے پاؤں پر گرپڑا جسے میں نے نیچے پھینک دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28361:ضعیف]
اس ہوا کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھی نازل فرمائے تھے جنہوں نے مشرکین کے دل اور سینے خوف اور رعب سے بھر دئیے۔ یہاں تک کہ جتنے سرداران لشکر تھے اپنے ماتحت سپاہیوں کو اپنے پاس بلا بلا کر کہنے لگے نجات کی صورت تلاش کرو، بچاؤ کا انتظام کرو۔ یہ تھا فرشتوں کا ڈالا ہوا ڈر اور رعب اور یہی وہ لشکر ہے جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ ’ اس لشکر کو تم نے نہیں دیکھا ‘۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان شخص نے جو کوفے کے رہنے والے تھے کہا کہ اے ابوعبداللہ تم بڑے خوش نصبیب ہو کہ تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے بتاؤ تم کیا کرتے تھے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ! ہم جان نثاریاں کرتے تھے۔ نوجوان فرمانے لگے سنئے چچا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے تو واللہ! آپ کو قدم زمین پر نہ رکھنے دیتے اپنی گردنوں پر اٹھا کر لے جاتے۔
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے بھیتجے لو ایک واقعہ سنو جنگ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رات تک نماز پڑھتے رہے۔ فارغ ہو کر دریافت فرمایا کہ { کوئی ہے جا کر لشکر کفار کی خبر لائے؟ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے شرط کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو گا }۔ کوئی کھڑا نہ ہوا کیونکہ خوف کی بھوک کی اور سردی کی انتہا تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک نماز پڑھتے رہے۔
پھر فرمایا { کوئی جو جا کر یہ خبر دے کہ مخالفین نے کیا کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسے مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ضرور واپس آئے گا اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں میرا رفیق کرے }۔ اب تک بھی کوئی کھڑا نہ ہوا اور کھڑا ہوتا کیسے؟ بھوک کے مارے پیٹ کمر سے لگ رہا تھا سردی کے مارے دانت بج رہے تھے، خوف کے مارے پتے پانی ہو رہے تھے۔
بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے { حذیفہ (رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا }۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔
اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔
بالآخر میرا نام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اب تو بے کھڑے ہوئے چارہ نہ تھا۔ فرمانے لگے { حذیفہ (رضی اللہ عنہ) تو جا اور دیکھ کہ وہ اس وقت کیا کر رہے ہیں دیکھ جب تک میرے پاس واپس نہ پہنچ جائے کوئی نیا کام نہ کرنا }۔ میں نے بہت خوب کہہ کر اپنی راہ لی اور جرأت کے ساتھ مشرکوں میں گھس گیا وہاں جا کر عجیب حال دیکھا کہ دکھائی نہ دینے والے اللہ کے لشکر اپنا کام پھرتی سے کر رہے ہیں۔ چولہوں پر سے دیگیں ہوا نے الٹ دی ہیں۔ خیموں کی چوبیں اکھڑ گئی ہیں، آگ جلا نہیں سکتے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں رہی۔
اسی وقت ابوسفیان کھڑا ہوا اور با آواز بلند منادی کی کہ اے قریشیوں! اپنے اپنے ساتھی سے ہوشیار ہو جاؤ۔ اپنے ساتھی کو دیکھ بھال لو ایسا نہ ہو کوئی غیر کھڑا ہو۔ میں نے یہ سنتے ہی میرے پاس جو ایک قریشی جوان تھا اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں۔ میں نے کہا اب ہوشیار رہنا۔
پھر ابوسفیان نے کہا قریشیو اللہ گواہ ہے ہم اس وقت کسی ٹھہرنے کی جگہ پر نہیں ہیں۔ ہمارے مویشی ہمارے اونٹ ہلاک ہو رہے ہیں۔ بنو قریظہ نے ہم سے وعدہ خلافی کی اس نے ہمیں بڑی تکلیف پہنچائی، پھر اس ہوا نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم پکا کھا نہیں سکتے آگ تک نہیں جلا سکتے خیمے ڈیرے ٹھہر نہیں سکتے۔ میں تو تنگ آ گیا ہوں اور میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ واپس ہو جاؤں پس میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ واپس چلو۔ اتنا کہتے ہی اپنے اونٹ پر جو زانوں بندھا ہوا بیٹھا تھا چڑھ گیا اور اسے مارا وہ تین پاؤں سے ہی کھڑا ہو گیا پھر اس کا پاؤں کھولا۔
اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ { کوئی نیا کام نہ کرنا } اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:]
اس وقت ایسا اچھا موقع تھا کہ اگر میں چاہتا ایک تیر میں ہی ابوسفیان کا کام تمام کر دیتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرما دیا تھا کہ { کوئی نیا کام نہ کرنا } اس لیے میں نے اپنے دل کو روک لیا۔ اب میں واپس لوٹا اور اپنے لشکر میں آ گیا جب میں پہنچا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر کو لپیٹے ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی صاحبہ کی تھی نماز میں مشغول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کراپنے دونوں پیروں کے درمیان بٹھالیا اور چادر مجھے بھی اڑھا دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کیا اور میں وہیں وہی چادر اوڑھے بیٹھا رہا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ قریشیوں کے واپس لوٹ جانے کی خبر جب قبیلہ غطفان کو پہنچی تو انہوں نے بھی سامان باندھا اور واپس لوٹ گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28362:]
اور روایت میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جب میں چلا تو باوجود کڑاکے کی سخت سردی کے قسم اللہ کی مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا میں کسی گرم حمام میں ہوں۔“ اس میں یہ بھی ہے کہ جب میں لشکر کفار میں پہنچا ہوں اس وقت ابوسفیان آگ سلگائے ہوئے تاپ رہا تھا میں نے اسے دیکھ کر اپنا تیر کمان پر چڑھالیا اور چاہتا تھا کہ چلادوں اور بالکل زد میں تھا ناممکن تھا کہ میر انشانہ خالی جائے لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ { کوئی ایسی حرکت نہ کرنا کہ وہ چوکنے ہو کر بھڑک جائیں }، تو میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ { اے سونے والے بیدار ہو جا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1788]
اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح]
جب میں واپس آیا اس وقت بھی مجھے کوئی سردی محسوس نہ ہوئی بلکہ یہ معلوم ہو رہا تھا کہ گویا میں حمام میں چل رہا ہوں۔ ہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا بڑے زور کی سردی لگنے لگی اور میں کپکپانے لگا توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر مجھے اوڑھادی۔ میں جو اوڑھ کر لیٹا تو مجھے نیند آگئی اور صبح تک پڑا سوتا رہا صبح خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ کہہ کر جگایا کہ { اے سونے والے بیدار ہو جا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1788]
اور روایت میں ہے کہ جب اس تابعی رحمہ اللہ نے کہا کہ ”کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو پاتے“، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا ”کاش! کہ تم جیسا ایمان ہمیں نصیب ہو تاکہ باوجود نہ دیکھنے کے پورا اور پختہ عقیدہ رکھتے ہو۔ برادر زادے جو تمنا کرتے ہو یہ تمنا ہی ہے نہ جانے تم ہوتے تو کیا کرتے؟ ہم پر تو ایسے کٹھن وقت آئے ہیں۔“ یہ کہہ کہ پھر آپ نے مندرجہ بالا خندق کی رات کا واقعہ بیان کیا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ”ہوا جھڑی اور آندھی کے ساتھ بارش بھی تھی۔“ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:454/3:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کے واقعات کو بیان فرما رہے تھے جو اہل مجلس نے کہا کہ اگر ہم اس وقت موجود ہوتے تو یوں اور یوں کرتے اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان فرما دیا کہ باہر سے تو دس ہزار کا لشکر گھیرے ہوئے ہے اندر سے بنو قریظہ کے آٹھ سو یہودی بگڑے ہوئے ہیں بال بچے اور عورتیں مدینے میں ہیں خطرہ لگا ہوا ہے اگر بنو قریظہ نے اس طرف کا رخ کیا تو ایک ساعت میں ہی عورتوں بچوں کا فیصلہ کر دیں گے۔
واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شوق سے جاؤ }۔
وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { یہ کون ہیں؟ } میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: { حذیفہ سن! } واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ }۔
واللہ! اس رات جیسی خوف وہراس کی حالت کبھی ہم پر کبھی نہیں گزری۔ پھر وہ ہوائیں چلتی ہیں، آندھیاں اٹھتی ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے، کڑک گرج اور بجلی ہوتی ہے کہ العظمتہ اللہ۔ ساتھی کو دیکھنا تو کہاں اپنی انگلیاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ جو منافق ہمارے ساتھ تھے وہ ایک ایک ہو کر یہ بہانا بنا کر ہمارے بال بچے اور عورتیں وہاں ہیں اور گھر کا نگہبان کوئی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آ آ کر اجازت چاہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی ایک کو نہ روکا جس نے کہا کہ میں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شوق سے جاؤ }۔
وہ ایک ایک ہو کر سرکنے لگے اور ہم صرف تین سو کے قریب رہ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب تشریف لائے ایک ایک کو دیکھا میری عجیب حالت تھی نہ میرے پاس دشمن سے بچنے کے لیے کوئی آلہ تھا نہ سردی سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی کپڑا تھا۔ صرف میری بیوی کی ایک چھوٹی سی چادر تھی جو میرے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس پہنچے اس وقت میں اپنے گھٹنوں میں سر ڈالے ہوئے دبک کر بیٹھا ہوا کپکپارہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا { یہ کون ہیں؟ } میں نے کہا حذیفہ۔ فرمایا: { حذیفہ سن! } واللہ مجھ پر تو زمین تنگ آگئی کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کھڑا نہ کریں میری تو درگت ہو رہی ہے لیکن کرتا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن رہا ہوں ارشاد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { دشمنوں میں ایک نئی بات ہونے والی ہے جاؤ ان کی خبر لاؤ }۔
واللہ اس وقت مجھ سے زیادہ نہ تو کسی کو خوف تھا نہ گھبراہٹ تھی نہ سردی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنتے ہی کھڑا ہو گیا اور چلنے لگا تو میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کر رہے ہیں کہ { اے اللہ اس کے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے اوپر سے نیچے سے اس کی حفاظت کر }۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کسی قسم کا خوف ڈر دہشت میرے دل میں تھی ہی نہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دے کر فرمایا: { دیکھو حذیفہ وہاں جا کر میرے پاس واپس آنے تک کوئی نئی بات نہ کرنا }۔
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔
جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن]
اس میں یہ بھی بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔
پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔
جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:22]، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے }۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف]
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میں ابوسفیان کو اس سے پہلے پہچانتا نہ تھا میں گیا تو وہاں یہی آوازیں لگ رہی تھیں کہ چلو کوچ کرو واپس چلو۔ ایک عجیب بات میں نے یہ بھی دیکھی کہ وہ خطرناک ہوا جو دیگیں الٹ دیتی تھی وہ صرف ان کے لشکر کے احاطہٰ تک ہی تھی واللہ اس سے ایک بالشت بھر باہر نہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھر اڑ اڑ کر ان پر گرتے تھے۔
جب میں واپس چلا ہوں تو میں نے دیکھا کہ تقریباً بیس سوار ہیں جو عمامے باندھے ہوئے ہیں انہوں نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفایت کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مات دی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیهقی:450/3:حسن]
اس میں یہ بھی بیان ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت میں داخل تھا کہ جب کبھی کوئی گھبراہٹ اور دقت کا وقت ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:صحیح] جب میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچائی اسی وقت یہ آیت اتری۔
پس آیت میں نیچے کی طرف سے آنے والوں سے مراد بنو قریظہ ہیں۔ شدت خوف اور سخت گھبراہٹ سے آنکھیں الٹ گئی تھیں اور دل حلقوم تک پہنچ گئے تھے اور طرح طرح کے گمان ہو رہے تھے یہاں تک کہ بعض منافقوں نے سمجھ لیا کہ اب کی لڑائی میں کافر غالب آ جائیں گے عام منافقوں کا تو پوچھنا ہی کیا ہے؟ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے۔
جیسا کہ فرمان ہے «وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا» ۱؎ [33-الأحزاب:22]، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عین اس گھبراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا مانگو «اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا» اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے }۔ ادھر مسلمانوں کی یہ دعائیں بلند ہوئیں ادھر اللہ کا لشکر ہواؤں کی شکل میں آیا اور کافروں کا تیا پانچا کر دیا، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ ۱؎ [مسند احمد:3/3:اسنادہ ضعیف]