اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾
بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے۔
En
ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا
En
ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں پر زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے (مگر) انسان نے اسے اٹھا لیا، وه بڑا ہی ﻇالم جاہل ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 72) ➊ { اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ …:} کائنات میں اللہ تعالیٰ کے دو قسم کے احکام جاری و ساری ہیں، ایک اس کا حکم {”كُنْ“} (ہو جا) ہے، جب وہ کسی چیز کو یہ حکم دیتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، ممکن نہیں کہ وہ اس کے حکم کے مطابق نہ ہو۔ اسے کونی حکم کہتے ہیں۔ دوسرا حکم وہ ہے جس میں اس نے اختیار دے دیا ہے کہ جسے حکم دیا گیا ہے چاہے تو کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ ساتھ ہی تعمیل پر ثواب کا وعدہ اور عمل نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے، اسے شرعی حکم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام و فرائض کا نام ”امانت“ ہے۔ جنّ و انس کو چھوڑ کر باقی پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے کونی احکام کی پابند ہے۔ ان میں سے کسی کو اللہ کی نافرمانی کا اختیار ہی نہیں۔ نہ وہ نافرمانی کرتے ہیں، نہ کر سکتے ہیں۔ انسان بعض چیزوں میں دوسری مخلوقات کی طرح کونی احکام کا پابند ہے، مثلاً اس کا پیدا ہونا، اس کے جسم کے تمام نظام، سانس کی آمدورفت، دل کی دھڑکن، جوانی، بڑھاپے، صحت، بیماری، زندگی اور موت کے مراحل اس کے اختیار میں نہیں، البتہ بعض چیزوں یعنی شرعی احکام میں اسے اختیار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے لیے ثواب یا عذاب رکھا گیا ہے۔ اس آیت میں امانت سے مراد شرعی احکام، یعنی فرائض و محرمات ہیں جو انسان پر عائد کیے گئے ہیں۔
ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چنانچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ان کا قول نقل کیا ہے: {” اَلْأَمَانَةُ الْفَرَائِضُ «اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ» إِنْ أَدَّوْهَا أَثَابَهُمْ، وَ إِنْ ضَيَّعُوْهَا عَذَّبَهُمْ، فَكَرِهُوْا ذٰلِكَ، وَ أَشْفَقُوْا مِنْ غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَ لٰكِنْ تَعْظِيْمًا لِّدِيْنِ اللّٰهِ أَنْ لَّا يَقُوْمُوْا بِهَا، ثُمَّ عَرَضَهَا عَلٰي آدَمَ، فَقَبِلَهَا بِمَا فِيْهَا، وَ هُوَ قَوْلُهُ: «وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» غُرًّا بِأَمْرِ اللّٰهِ “} [طبري: ۲۸۹۱۹، ۲۸۹۱۷] ”امانت سے مراد فرائض ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ انھیں ادا کریں گے تو وہ انھیں ثواب دے گا اور اگر انھوں نے وہ ضائع کیے تو انھیں عذاب دے گا۔ تو انھوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے ڈر گئے، کسی نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہ سکیں گے، پھر ان (فرائض) کو آدم (یعنی انسان) پر پیش کیا تو اس نے ان کو اس (ثواب و عذاب) سمیت قبول کر لیا جو ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے: «وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ ہمیشہ سے بہت ظالم بہت جاہل ہے۔“ یعنی وہ اللہ کے حکم سے غافل ہے۔“
صحابہ اور تابعین سے جتنی تفسیریں آئی ہیں وہ سب اس میں آ جاتی ہیں، جو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، مثلاً ابن کثیر میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کو اس کی شرم گاہ کا امانت دار بنایا گا۔“ بعض نے کہا: ”اس سے مراد غسل جنابت ہے۔“ زید بن اسلم نے فرمایا: ”مراد نماز، روزہ اور غسل جنابت ہے۔“ خلاصہ یہ کہ تمام اوامر و نواہی، فرائض و محرمات انسان کے لیے اللہ کی طرف سے امانت ہیں اور یہ امانت اتنی عظیم اور بھاری چیز ہے کہ آسمان و زمین اور پہاڑوں نے اتنی بڑی مخلوقات ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔
➋ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات تمثیلی طور پر بیان کی گئی ہے، یعنی اتنی بڑی مخلوقات میں یہ ذمہ داری اٹھانے کی استعداد نہیں جو انسان میں موجود ہے، ورنہ ایسا نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑ کے سامنے امانت پیش کی ہو اور انھوں نے اسے قبول نہ کیا ہو۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ تاویل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ظاہری معنی مراد لینا ممکن نہ ہو، جب کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں میں ادراک اور سمجھ کا ہونا، ان کا اللہ کی تسبیح کرنا، ان کا رونا اور خوش ہونا متعدد آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۷۳)، بنی اسرائیل (۴۴)، نور (۴۱)، حشر (۲۱)، نحل (۴۸)، دخان (۲۹) اور سورۂ حم السجدہ (۲۱)۔
➌ شاہ عبدالقادر نے {” ظَلُوْمًا جَهُوْلًا “} کا ترجمہ ”بے ترس نادان“ کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں: ”یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر، زمین و آسمان میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہی ہے جس پر قائم ہیں۔ آسمان کی خواہش پھرنا، زمین کی خواہش ٹھہرنا۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا۔ اب بھی یہی حکم ہے کہ کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کرے تو بدلا ہے اور بے اختیار ضائع ہو تو بدلا نہیں۔“ (موضح) شاہ صاحب کے کلام کا آخری حصہ (اس کا انجام یہ…) اگلی آیت {” لِيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ “} کی تفسیر ہے۔
➍ لفظ امانت جس طرح ان فرائض اور اوامر و نواہی پر بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر عائد ہوئے اور اس نے انھیں قبول کیا، اسی طرح اس صفت پر بھی بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے، جس کی بدولت وہ ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرتا اور ان فرائض کو ادا کرتا ہے جو حق تعالیٰ نے اس پر عائد کیے ہیں۔ چنانچہ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا: [أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِيْ جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ] ”یعنی امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر انھوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر انھوں نے سنت سے سیکھا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے متعلق بتایا، فرمایا: [يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ فَيَبْقٰی أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلٰی رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَ لَيْسَ فِيْهِ شَيْئٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، فَيُقَالُ إِنَّ فِيْ بَنِيْ فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِيْنًا وَ يُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَ مَا أَظْرَفَهُ وَ مَا أَجْلَدَهُ وَ مَا فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ] [بخاري، الرقاق، باب رفع الأمانۃ: ۶۴۹۷] ”آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا نشان ہلکے سے داغ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر ایک اور دفعہ سوئے گا تو (مزید) اٹھا لی جائے گی، تو اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تو کوئی انگارا اپنے پاؤں پر لڑھکائے تو ایک چھالا پھول آتا ہے، تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور قریب نہیں ہو گا کہ کوئی بھی امانت ادا کرے، حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کس قدر عقل مند، کس قدر ذہین اور کتنا مضبوط ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔“
➎ لفظ ”امانت“ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا] [أبو داوٗد، الإیمان و النذور، باب کراھیۃ الحلف بالأمانۃ: ۳۲۵۳، و قال الألباني صحیح] ”جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔“ اس حدیث میں امانت سے کیا مراد ہے، اکثر شارحین حدیث نے فرمایا کہ آدمی کی طرح اس کی امانت بھی چونکہ مخلوق ہے اور مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں، اس لیے اس پر یہ سخت حکم لگایا گیا ہے۔ مگر میری دانست میں اس کا مصداق عیسائیوں کی شریعت کے عقائد و احکام پر مشتمل وہ کتاب ہے جو ان کے بادشاہ قسطنطین کے زمانہ میں اس کے حکم سے تین سو اٹھارہ پادریوں نے تصنیف کی تھی اور اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا تھا۔ جس میں بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا گیا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”انھوں نے اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا، حالانکہ درحقیقت وہ {”اَلْخِيَانَةُ الْحَقِيْرَةُ“} ہے۔“ تفسیر ابن کثیر میں اس کی تفصیل سورۂ آل عمران کی آیات (۵۵ تا ۵۸) اور سورۂ روم کی ابتدائی آیات اور کئی اور مقامات کی تفسیر میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ ”امت مسلمہ بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چل پڑے گی“ ہماری امت کے بعض بادشاہوں نے بھی اپنے زمانے کے علماء کے ذمے یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ شریعت کے احکام کے لیے کتاب تصنیف کریں، مگر ان علماء نے کتاب و سنت کے بجائے اقوال جمع کر کے اسے شریعت کے قوانین قرار دیا اور شاید ہی کوئی اللہ کی حد باقی رہی ہو جسے انھوں نے حیلے بہانے سے ختم نہ کیا ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اس امت پر احسان عظیم ہے کہ آسمانی ہدایت قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے لوگوں کے اقوال کو شریعت اسلام قرار دینے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ان شاء اللہ کامیاب ہو بھی نہیں سکیں گے۔ مختصر یہ کہ امانت نامی کتاب، جسے عیسائی مقدس کتاب سمجھتے اور اس کی قسم اٹھاتے تھے، مسلمانوں کو نہایت سختی کے ساتھ اس کی قسم کھانے سے منع کر دیا گیا۔
ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی یہی تفسیر فرمائی ہے، چنانچہ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ان کا قول نقل کیا ہے: {” اَلْأَمَانَةُ الْفَرَائِضُ «اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ» إِنْ أَدَّوْهَا أَثَابَهُمْ، وَ إِنْ ضَيَّعُوْهَا عَذَّبَهُمْ، فَكَرِهُوْا ذٰلِكَ، وَ أَشْفَقُوْا مِنْ غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَ لٰكِنْ تَعْظِيْمًا لِّدِيْنِ اللّٰهِ أَنْ لَّا يَقُوْمُوْا بِهَا، ثُمَّ عَرَضَهَا عَلٰي آدَمَ، فَقَبِلَهَا بِمَا فِيْهَا، وَ هُوَ قَوْلُهُ: «وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» غُرًّا بِأَمْرِ اللّٰهِ “} [طبري: ۲۸۹۱۹، ۲۸۹۱۷] ”امانت سے مراد فرائض ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ انھیں ادا کریں گے تو وہ انھیں ثواب دے گا اور اگر انھوں نے وہ ضائع کیے تو انھیں عذاب دے گا۔ تو انھوں نے اسے ناپسند کیا اور اس سے ڈر گئے، کسی نافرمانی کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کہ وہ اس پر قائم نہیں رہ سکیں گے، پھر ان (فرائض) کو آدم (یعنی انسان) پر پیش کیا تو اس نے ان کو اس (ثواب و عذاب) سمیت قبول کر لیا جو ان میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے: «وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا» ”اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ ہمیشہ سے بہت ظالم بہت جاہل ہے۔“ یعنی وہ اللہ کے حکم سے غافل ہے۔“
صحابہ اور تابعین سے جتنی تفسیریں آئی ہیں وہ سب اس میں آ جاتی ہیں، جو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، مثلاً ابن کثیر میں ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورت کو اس کی شرم گاہ کا امانت دار بنایا گا۔“ بعض نے کہا: ”اس سے مراد غسل جنابت ہے۔“ زید بن اسلم نے فرمایا: ”مراد نماز، روزہ اور غسل جنابت ہے۔“ خلاصہ یہ کہ تمام اوامر و نواہی، فرائض و محرمات انسان کے لیے اللہ کی طرف سے امانت ہیں اور یہ امانت اتنی عظیم اور بھاری چیز ہے کہ آسمان و زمین اور پہاڑوں نے اتنی بڑی مخلوقات ہونے کے باوجود اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے۔
➋ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ بات تمثیلی طور پر بیان کی گئی ہے، یعنی اتنی بڑی مخلوقات میں یہ ذمہ داری اٹھانے کی استعداد نہیں جو انسان میں موجود ہے، ورنہ ایسا نہیں کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑ کے سامنے امانت پیش کی ہو اور انھوں نے اسے قبول نہ کیا ہو۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ تاویل کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ظاہری معنی مراد لینا ممکن نہ ہو، جب کہ زمین و آسمان اور پہاڑوں میں ادراک اور سمجھ کا ہونا، ان کا اللہ کی تسبیح کرنا، ان کا رونا اور خوش ہونا متعدد آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۷۳)، بنی اسرائیل (۴۴)، نور (۴۱)، حشر (۲۱)، نحل (۴۸)، دخان (۲۹) اور سورۂ حم السجدہ (۲۱)۔
➌ شاہ عبدالقادر نے {” ظَلُوْمًا جَهُوْلًا “} کا ترجمہ ”بے ترس نادان“ کیا ہے اور پھر لکھتے ہیں: ”یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر، زمین و آسمان میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہی ہے جس پر قائم ہیں۔ آسمان کی خواہش پھرنا، زمین کی خواہش ٹھہرنا۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ کہ منکروں کو قصور پر پکڑنا اور ماننے والوں کا قصور معاف کرنا۔ اب بھی یہی حکم ہے کہ کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کرے تو بدلا ہے اور بے اختیار ضائع ہو تو بدلا نہیں۔“ (موضح) شاہ صاحب کے کلام کا آخری حصہ (اس کا انجام یہ…) اگلی آیت {” لِيُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِيْنَ “} کی تفسیر ہے۔
➍ لفظ امانت جس طرح ان فرائض اور اوامر و نواہی پر بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر عائد ہوئے اور اس نے انھیں قبول کیا، اسی طرح اس صفت پر بھی بولا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھی ہے، جس کی بدولت وہ ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرتا اور ان فرائض کو ادا کرتا ہے جو حق تعالیٰ نے اس پر عائد کیے ہیں۔ چنانچہ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، ان میں سے ایک میں نے دیکھ لی ہے اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا: [أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِيْ جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ] ”یعنی امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں اتری، پھر انھوں نے اسے قرآن سے سیکھا، پھر انھوں نے سنت سے سیکھا۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے اٹھائے جانے کے متعلق بتایا، فرمایا: [يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ فَيَبْقٰی أَثَرُهَا مِثْلَ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلٰی رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا، وَ لَيْسَ فِيْهِ شَيْئٌ، فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، فَيُقَالُ إِنَّ فِيْ بَنِيْ فُلاَنٍ رَجُلاً أَمِيْنًا وَ يُقَالُ لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَ مَا أَظْرَفَهُ وَ مَا أَجْلَدَهُ وَ مَا فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ] [بخاري، الرقاق، باب رفع الأمانۃ: ۶۴۹۷] ”آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا نشان ہلکے سے داغ کی طرح رہ جائے گا۔ پھر ایک اور دفعہ سوئے گا تو (مزید) اٹھا لی جائے گی، تو اس کا نشان ایک چھالے کی طرح رہ جائے گا، جیسے تو کوئی انگارا اپنے پاؤں پر لڑھکائے تو ایک چھالا پھول آتا ہے، تم اسے ابھرا ہوا دیکھتے ہو، حالانکہ اس میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خرید و فروخت کریں گے اور قریب نہیں ہو گا کہ کوئی بھی امانت ادا کرے، حتیٰ کہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار آدمی ہے اور کہا جائے گا کہ فلاں آدمی کس قدر عقل مند، کس قدر ذہین اور کتنا مضبوط ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔“
➎ لفظ ”امانت“ کا ایک اور مفہوم بھی ہے، بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ فَلَيْسَ مِنَّا] [أبو داوٗد، الإیمان و النذور، باب کراھیۃ الحلف بالأمانۃ: ۳۲۵۳، و قال الألباني صحیح] ”جس نے امانت کی قسم اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔“ اس حدیث میں امانت سے کیا مراد ہے، اکثر شارحین حدیث نے فرمایا کہ آدمی کی طرح اس کی امانت بھی چونکہ مخلوق ہے اور مخلوق کی قسم کھانا جائز نہیں، اس لیے اس پر یہ سخت حکم لگایا گیا ہے۔ مگر میری دانست میں اس کا مصداق عیسائیوں کی شریعت کے عقائد و احکام پر مشتمل وہ کتاب ہے جو ان کے بادشاہ قسطنطین کے زمانہ میں اس کے حکم سے تین سو اٹھارہ پادریوں نے تصنیف کی تھی اور اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا تھا۔ جس میں بہت سی حلال چیزوں کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا گیا۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ”انھوں نے اس کا نام {”اَلْأَمَانَةُ الْكَبِيْرَةُ“} رکھا، حالانکہ درحقیقت وہ {”اَلْخِيَانَةُ الْحَقِيْرَةُ“} ہے۔“ تفسیر ابن کثیر میں اس کی تفصیل سورۂ آل عمران کی آیات (۵۵ تا ۵۸) اور سورۂ روم کی ابتدائی آیات اور کئی اور مقامات کی تفسیر میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ ”امت مسلمہ بھی یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پر چل پڑے گی“ ہماری امت کے بعض بادشاہوں نے بھی اپنے زمانے کے علماء کے ذمے یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ شریعت کے احکام کے لیے کتاب تصنیف کریں، مگر ان علماء نے کتاب و سنت کے بجائے اقوال جمع کر کے اسے شریعت کے قوانین قرار دیا اور شاید ہی کوئی اللہ کی حد باقی رہی ہو جسے انھوں نے حیلے بہانے سے ختم نہ کیا ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اس امت پر احسان عظیم ہے کہ آسمانی ہدایت قرآن و سنت کی صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے لوگوں کے اقوال کو شریعت اسلام قرار دینے والے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ان شاء اللہ کامیاب ہو بھی نہیں سکیں گے۔ مختصر یہ کہ امانت نامی کتاب، جسے عیسائی مقدس کتاب سمجھتے اور اس کی قسم اٹھاتے تھے، مسلمانوں کو نہایت سختی کے ساتھ اس کی قسم کھانے سے منع کر دیا گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
72۔ 1 جب اللہ تعالیٰ نے اہل اطاعت کا اجر وثواب اور اہل مصیت کا وبال اور عذاب بیان کردیا تو اب شرعی احکام اور اس کی صعوبت کا تذکرہ فرما رہا ہے۔ امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض و واجبات مراد ہیں جن کی ادائیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہوگا۔ جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان اور زمین پر پیش کی گئیں تو وہ ان کے اٹھانے سے ڈر گئے۔ لیکن جب انسان پر یہ چیز پیش کی گئی تو وہ اطاعت الٰہی (امانت) کے اجر وثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کو اٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔ احکام شریعہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرما دیا کہ ان کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور آسمان اور زمین اور پہاڑوں نے کس طرح اس کا جواب دیا؟ اور انسان نے کس طرح قبول کیا؟ اس کی پوری کیفیت نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ اسے بیان کرسکتے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اپنی ہر مخلوق کیلئے ایک خاص قسم کا احساس و شعور رکھا ہے، گو ہم اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ تو ان کی بات سمجھنے پر قادر ہے، اس نے ضرور اس امانت کو ان پر پیش کیا ہوگا جسے قبول کرنے سے انہوں نے انکار کردیا۔ اور یہ انکار انہوں نے سرکشی و بغاوت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس میں یہ خوف کار فرما تھا کہ اگر ہم اس امانت کے تقاضے پورے نہ کرسکے تو اس کی سزا ہمیں بھگتنی ہوگی۔ انسان چونکہ جلد باز ہے۔ اس نے عذاب کے پہلو پر زیادہ غور نہیں کیا اور حصول فضیلت کے شوق میں اسے نے ذمے داری کو قبول کرلیا۔ 72۔ 2 یعنی بار گراں اٹھا کر اس نے اپنے نفس پر ظلم کا ارتکاب اور اس کے مقتضیات سے اعراض یا اس کی قدر و قیمت سے غفلت کر کے جہالت کا مظاہرہ کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ ہم نے اپنی امانت [110] آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ یقیناً وہ بڑا ظالم [111] اور جاہل ہے۔
[110] امانت کا بار جو انسان نے اٹھا لیا :۔
امانت سے مراد بار خلافت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ”میں دنیا میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں“ اللہ تعالیٰ نے آسمان، زمین اور پہاڑوں جیسی عظیم الجثہ مخلوق کو پیدا کر کے ان سے پوچھا: بتاؤ اگر میں تمہیں قوت ارادہ و اختیار عطا کر دوں اور تمہیں عقل و تمیز کی قوت بھی بخش دوں تو بتاؤ تم میرا خلیفہ بننے کو تیار ہو؟ تمہیں وہی کام کرنا ہو گا جو میں کہوں تمہیں نافرمانی کے اختیار کے باوجود میرے احکام پر کاربند رہنا اور اسے نافذ کرنا ہو گا تو یہ تینوں قسم کی عظیم الجثہ مخلوق اس بار عظیم کو اٹھانے سے ڈر گئی اور اسے تسلیم نہ کیا۔ لیکن ان کے مقابلہ میں ضعیف البنیان مخلوق جو ایک منٹ سانس نہ چلنے سے مر بھی سکتی ہے۔ اس بار عظیم کو اٹھانے کے لئے تیار ہو گئی۔ حضرت انسان نے بڑی جرأت سے کہہ دیا کہ مجھے اگر قوت تمیز، عقل و فہم اور ارادہ و اختیار دے دیا جائے تو میں اس بار کو اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان سے اس بات پر عہد بھی لیا۔ جو عہد الست بربکم کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مکالمہ زبان حال سے ہوا تھا یا قال سے؟ یا یہ محض تمثیلی انداز ہے؟ یہ باتیں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ البتہ اتنا معلوم ہے کہ عہد الست تا قیامت پیدا ہونے والے انسان کی ارواح سے لیا گیا تھا اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انسان میں خلیفہ بننے اور نظام خلافت کو رائج کرنے کی صلاحیت بالقوہ موجود ہے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مکلف مخلوق ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک انسان دوسرے جن لیکن یہاں صرف انسان کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اس لئے کہ جتنی استعداد اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے جنوں میں نہیں رکھی۔ اشرف المخلوقات انسان ہے، جن نہیں۔ لہٰذا جن اس مکالمہ میں بالتبع شامل ہیں۔ بالاصل نہیں۔
[111] ﴿ظَلُوْم﴾ اور جھول دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ یعنی انسان بڑا ہی ظالم اور بڑا ہی جاہل ہے جو اس نے یہ بار امانت اٹھا لیا۔ وہ ظالم تو اس لحاظ سے ہے کہ تمام مخلوق میں سب سے بلند منصب پر فائز ہونے کی خواہش کی وجہ سے اس نے اس ذمہ داری کو قبول تو کر لیا مگر اس دار الامتحان دنیا میں آکر وہ کچھ دنیا کی رنگینیوں اور دلفریبیوں میں اس قدر محو و مستغرق ہو گیا کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ کتنی بڑی عظیم ذمہ داری اپنے سر پر لادے ہوئے ہے۔ اس طرح جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اس میں وہ خیانت کا مرتکب ہوا۔ اور جاہل اس لحاظ سے ہے کہ اس کی ساری توجہ اسی بات کی طرف رہی کہ اسے تمام مخلوق میں سے سب سے اونچا اعزاز ملنے والا ہے۔ مگر اس اعزاز کی ذمہ داریوں کا اندازہ کرنے سے قاصر رہا۔ اکثر انسانوں نے یہ جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے سے اس پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
[111] ﴿ظَلُوْم﴾ اور جھول دونوں ہی مبالغہ کے صیغے ہیں۔ یعنی انسان بڑا ہی ظالم اور بڑا ہی جاہل ہے جو اس نے یہ بار امانت اٹھا لیا۔ وہ ظالم تو اس لحاظ سے ہے کہ تمام مخلوق میں سب سے بلند منصب پر فائز ہونے کی خواہش کی وجہ سے اس نے اس ذمہ داری کو قبول تو کر لیا مگر اس دار الامتحان دنیا میں آکر وہ کچھ دنیا کی رنگینیوں اور دلفریبیوں میں اس قدر محو و مستغرق ہو گیا کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ کتنی بڑی عظیم ذمہ داری اپنے سر پر لادے ہوئے ہے۔ اس طرح جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اس میں وہ خیانت کا مرتکب ہوا۔ اور جاہل اس لحاظ سے ہے کہ اس کی ساری توجہ اسی بات کی طرف رہی کہ اسے تمام مخلوق میں سے سب سے اونچا اعزاز ملنے والا ہے۔ مگر اس اعزاز کی ذمہ داریوں کا اندازہ کرنے سے قاصر رہا۔ اکثر انسانوں نے یہ جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کہ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے سے اس پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرائض، حدود امانت ہیں ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔“ اسے آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر پیش کیا کہ ’ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں، تم کہو ‘۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے؟ فرمایا ’ اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے ‘۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”میں تیار ہوں۔“
آپ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہو سکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھا لیا۔“
آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عصر کے قریب یہ امانت اٹھائی تھی اور مغرب سے پہلے ہی خطا سرزد ہو گئی۔“ ابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”عورت کی پاکدامنی بھی اللہ کی امانت ہے۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے دین فرائض حدود سب اللہ کی امانت ہیں۔ جنابت کا غسل بھی بقول بعض امانت ہے۔
زید بن اسلام فرماتے ہیں تین چیزیں اللہ کی امانت ہیں غسل جنابت، روزہ اور نماز۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں سب کی سب امانت میں داخل ہیں۔ تمام احکام بجا لانے تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے کا انسان مکلف ہے۔ جو بجالائے گا ثواب پائے گا جہاں گناہ کرے گا سزا پائے گا۔
آپ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ”امانت سے مراد فرائض ہیں دوسروں پر جو پیش کیا تھا یہ بطور حکم کے نہ تھا بلکہ جواب طلب کیا تھا تو ان کا انکار اور اظہار مجبوری گناہ نہ تھا بلکہ اس میں ایک قسم کی تعظیم تھی کہ باوجود پوری طاقت کے اللہ کے خوف سے تھرا اٹھے کہ کہیں پوری ادائیگی نہ ہو سکے اور مارے نہ جائیں۔ لیکن انسان جو کہ بھولا تھا اس نے اس بار امانت کو خوشی خوشی اٹھا لیا۔“
آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ ”عصر کے قریب یہ امانت اٹھائی تھی اور مغرب سے پہلے ہی خطا سرزد ہو گئی۔“ ابی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”عورت کی پاکدامنی بھی اللہ کی امانت ہے۔“
قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے دین فرائض حدود سب اللہ کی امانت ہیں۔ جنابت کا غسل بھی بقول بعض امانت ہے۔
زید بن اسلام فرماتے ہیں تین چیزیں اللہ کی امانت ہیں غسل جنابت، روزہ اور نماز۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں سب کی سب امانت میں داخل ہیں۔ تمام احکام بجا لانے تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے کا انسان مکلف ہے۔ جو بجالائے گا ثواب پائے گا جہاں گناہ کرے گا سزا پائے گا۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”خیال کرو آسمان باوجود اس پختگی، زینت اور نیک فرشتوں کا مسکن ہونے کے اللہ کی امانت برداشت نہ کر سکا جب اس نے یہ معلوم کر لیا کہ بجا آوری اگر نہ ہوئی تو عذاب ہوگا۔ زمین صلاحیت کے باوجود اور سختی کے لمبائی اور چوڑائی کے ڈرگئی اور اپنی عاجزی ظاہر کرنے لگی۔ پہاڑ باوجود اپنی بلندی اور طاقت اور سختی کے اس سے کانپ گئے، اور اپنی لاچاری ظاہر کرنے لگے۔“
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے آسمانوں نے جواب دیا اور کہا یوں تو ہم مطیع ہیں لیکن ہاں ہمارے بس کی یہ بات نہیں کیونکہ عدم بجا آوری کی صورت میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ پھر زمین سے کہا گیا کہ ’ اگر پوری اتری تو فضل و کرم سے نواز دوں گا ‘۔ لیکن اس نے کہا یوں تو ہر طرح طابع فرمان ہوں جو فرمایا جائے عمل کروں لیکن میری وسعت سے تو یہ باہر ہے۔ پھر پہاڑوں سے کہا گیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ نافرمانی تو ہم کرنے کے نہیں امانت ڈال دی جائے تو اٹھالیں گے لیکن یہ بس کی بات نہیں ہمیں معاف فرمایا جائے۔ پھر آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا گیا انہوں نے کہا ”اے اللہ اگر پورا اتروں تو کیا ملے گا؟“ فرمایا ’ بڑی بزرگی ہو گی جنت ملے گی رحم و کرم ہو گا اور اگر اطاعت نہ کی نافرمانی کی تو پھر سخت سزا ہوگی اور آگ میں ڈال دیئے جاؤ گے ‘۔ انہوں نے کہا ”یا اللہ منظور ہے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آسمان نے کہا میں نے ستاروں کو جگہ دی فرشتوں کو اٹھا لیا لیکن یہ نہیں اٹھا سکوں گا یہ تو فرائض کا بوجھ ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ زمین نے کہا مجھ میں تو نے درخت بوئے دریا جاری کئے۔ لوگوں کو بسائے گا لیکن یہ امانت تو میرے بس کی نہیں۔ میں فرض کی پابند ہو کر ثواب کی امید پر عذاب کے احتمال کو نہیں اٹھاسکتی۔ پہاڑوں نے بھی یہی کہا لیکن انسان نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔“
مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلے آسمانوں نے جواب دیا اور کہا یوں تو ہم مطیع ہیں لیکن ہاں ہمارے بس کی یہ بات نہیں کیونکہ عدم بجا آوری کی صورت میں بہت بڑا خطرہ ہے۔ پھر زمین سے کہا گیا کہ ’ اگر پوری اتری تو فضل و کرم سے نواز دوں گا ‘۔ لیکن اس نے کہا یوں تو ہر طرح طابع فرمان ہوں جو فرمایا جائے عمل کروں لیکن میری وسعت سے تو یہ باہر ہے۔ پھر پہاڑوں سے کہا گیا انہوں نے بھی جواب دیا کہ نافرمانی تو ہم کرنے کے نہیں امانت ڈال دی جائے تو اٹھالیں گے لیکن یہ بس کی بات نہیں ہمیں معاف فرمایا جائے۔ پھر آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کہا گیا انہوں نے کہا ”اے اللہ اگر پورا اتروں تو کیا ملے گا؟“ فرمایا ’ بڑی بزرگی ہو گی جنت ملے گی رحم و کرم ہو گا اور اگر اطاعت نہ کی نافرمانی کی تو پھر سخت سزا ہوگی اور آگ میں ڈال دیئے جاؤ گے ‘۔ انہوں نے کہا ”یا اللہ منظور ہے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”آسمان نے کہا میں نے ستاروں کو جگہ دی فرشتوں کو اٹھا لیا لیکن یہ نہیں اٹھا سکوں گا یہ تو فرائض کا بوجھ ہے جس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ زمین نے کہا مجھ میں تو نے درخت بوئے دریا جاری کئے۔ لوگوں کو بسائے گا لیکن یہ امانت تو میرے بس کی نہیں۔ میں فرض کی پابند ہو کر ثواب کی امید پر عذاب کے احتمال کو نہیں اٹھاسکتی۔ پہاڑوں نے بھی یہی کہا لیکن انسان نے لپک کر اسے اٹھا لیا۔“
بعض روایات میں ہے کہ ”تین دن تک وہ گریہ زاری کرتے رہے اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے رہے لیکن انسان نے اسے اپنے ذمے لے لیا۔“
اللہ نے اسے فرمایا ’ اب سن اگر تو نیک نیت رہا تو میری اعانت ہمیشہ تیرے شامل حال رہے گی تیری آنکھوں پر میں دو پلکیں کر دیتا ہوں کہ میری ناراضگی کی چیزوں سے تو انہیں بند کر لے۔ میں تیری زبان پر دو ہونٹ بنا دیتا ہوں کہ جب وہ مرضی کے خلاف بولنا چاہے تو تو اسے بند کر لے۔ تیری شرمگاہ کی حفاظت کیلئے میں لباس اتارتا ہوں کہ میری مرضی کے خلاف تو اسے نہ کھولے ‘۔ زمین و آسمان نے ثواب و عذاب سے انکار کر دیا اور فرمانبرداری میں مسخر رہے لیکن انسانوں نے اسے اٹھا لیا۔
ایک بالکل غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { امانت اور وفا انسانوں پر نبیوں کی معرفت نازل ہوئیں۔ اللہ کا کلام ان کی زبانوں میں اترا نبیوں کی سنتوں سے انہوں نے ہر بھلائی برائی معلوم کر لی۔ ہر شخص نیکی بدی کو جان گیا۔ یاد رکھو! سب سے پہلے لوگوں میں امانت داری تھی پھر وفا اور عہد کی نگہبانی اور ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔ امانت داری کے دھندلے سے نشان لوگوں کے دلوں پر رہ گئے۔ کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ عالم عمل کرتے ہیں جاہل جانتے ہیں لیکن انجان بن رہے ہیں اب یہ امانت وفا مجھ تک اور میری امت تک پہنچی۔ یاد رکھو اللہ اسی کو ہلاک کرتا ہے جو اپنے آپ کو ہلاک کر لے۔ اسے چھوڑ کر غفلت میں پڑ جائے۔ لوگو! ہوشیار رہو اپنے آپ پر نظر رکھو۔ شیطانی وسوسوں سے بچو۔ اللہ تمہیں آزما رہا ہے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28689:ضعیف]
اللہ نے اسے فرمایا ’ اب سن اگر تو نیک نیت رہا تو میری اعانت ہمیشہ تیرے شامل حال رہے گی تیری آنکھوں پر میں دو پلکیں کر دیتا ہوں کہ میری ناراضگی کی چیزوں سے تو انہیں بند کر لے۔ میں تیری زبان پر دو ہونٹ بنا دیتا ہوں کہ جب وہ مرضی کے خلاف بولنا چاہے تو تو اسے بند کر لے۔ تیری شرمگاہ کی حفاظت کیلئے میں لباس اتارتا ہوں کہ میری مرضی کے خلاف تو اسے نہ کھولے ‘۔ زمین و آسمان نے ثواب و عذاب سے انکار کر دیا اور فرمانبرداری میں مسخر رہے لیکن انسانوں نے اسے اٹھا لیا۔
ایک بالکل غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ { امانت اور وفا انسانوں پر نبیوں کی معرفت نازل ہوئیں۔ اللہ کا کلام ان کی زبانوں میں اترا نبیوں کی سنتوں سے انہوں نے ہر بھلائی برائی معلوم کر لی۔ ہر شخص نیکی بدی کو جان گیا۔ یاد رکھو! سب سے پہلے لوگوں میں امانت داری تھی پھر وفا اور عہد کی نگہبانی اور ذمہ داری کو پورا کرنا تھا۔ امانت داری کے دھندلے سے نشان لوگوں کے دلوں پر رہ گئے۔ کتابیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ عالم عمل کرتے ہیں جاہل جانتے ہیں لیکن انجان بن رہے ہیں اب یہ امانت وفا مجھ تک اور میری امت تک پہنچی۔ یاد رکھو اللہ اسی کو ہلاک کرتا ہے جو اپنے آپ کو ہلاک کر لے۔ اسے چھوڑ کر غفلت میں پڑ جائے۔ لوگو! ہوشیار رہو اپنے آپ پر نظر رکھو۔ شیطانی وسوسوں سے بچو۔ اللہ تمہیں آزما رہا ہے کہ تم میں سے اچھے عمل کرنے والا کون ہے؟ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28689:ضعیف]
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص ایمان کے ساتھ ان چیزوں کو لائے گا جنت میں جائے گا۔ پانچوں وقتوں کی نماز کی حفاظت کرتا ہو، وضو، رکوع، سجدہ اور وقت سجدہ اور وقت سمیت زکوٰۃ ادا کرتا ہو۔ دل کی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ کی رقم نکالتا ہو۔ سنو واللہ یہ بغیر ایمان کے ہو ہی نہیں سکتا اور امانت کو ادا کرے }۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا جنابت کا فرضی غسل۔ پس اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اپنے دین میں سے کسی چیز کی اس کے سوا امانت نہیں دی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:429،قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کی راہ کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت کی خیانت کو نہیں مٹاتا ان خائنوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا جاؤ ان کی امانتیں ادا کرو یہ جواب دیں گے اللہ کہاں سے ادا کریں؟ دنیا تو جاتی رہی تین مرتبہ یہی سوال جواب ہو گا پھر حکم ہوگا کہ انہیں ان کی ماں ہاویہ میں لے جاؤ۔ فرشتے دھکے دیتے ہوئے گرا دیں گے۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے تو انہیں اسی امانت کی ہم شکل جہنم کی آگ کی چیز نظر پڑے گی۔ یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھیں گے جب کنارے تک پہنچیں گے تو وہاں پاؤں پھسل جائے گا۔ پھر گر پڑیں گے اور جہنم کے نیچے تک گرتے چلے جائیں گے۔ پھر لائیں گے پھر گریں گے ہمیشہ اسی عذاب میں رہیں گے۔ امانت وضو میں بھی ہے۔ نماز میں بھی امانت بات چیت میں بھی ہے اور ان سب سے زیادہ امانت ان چیزوں میں ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائیں }۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کیا حدیث بیان فرما رہے ہیں؟ تو آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا ہاں ٹھیک ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28694:ضعیف]
تفسیر ابن جریر میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ کی راہ کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے مگر امانت کی خیانت کو نہیں مٹاتا ان خائنوں سے قیامت کے دن کہا جائے گا جاؤ ان کی امانتیں ادا کرو یہ جواب دیں گے اللہ کہاں سے ادا کریں؟ دنیا تو جاتی رہی تین مرتبہ یہی سوال جواب ہو گا پھر حکم ہوگا کہ انہیں ان کی ماں ہاویہ میں لے جاؤ۔ فرشتے دھکے دیتے ہوئے گرا دیں گے۔ یہاں تک کہ اس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے تو انہیں اسی امانت کی ہم شکل جہنم کی آگ کی چیز نظر پڑے گی۔ یہ اسے لے کر اوپر کو چڑھیں گے جب کنارے تک پہنچیں گے تو وہاں پاؤں پھسل جائے گا۔ پھر گر پڑیں گے اور جہنم کے نیچے تک گرتے چلے جائیں گے۔ پھر لائیں گے پھر گریں گے ہمیشہ اسی عذاب میں رہیں گے۔ امانت وضو میں بھی ہے۔ نماز میں بھی امانت بات چیت میں بھی ہے اور ان سب سے زیادہ امانت ان چیزوں میں ہے جو کسی کے پاس بطور امانت رکھی جائیں }۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ کیا حدیث بیان فرما رہے ہیں؟ تو آپ اس کی تصدیق کرتے ہیں کہا ہاں ٹھیک ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:28694:ضعیف]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے دو حدیثیں سنی ہیں۔ ایک کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور دوسری کے ظہور کا مجھے انتظار ہے ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { امانت لوگوں کی جبلت میں اتاری گئی } پھر قرآن اترا حدیثیں بیان ہوئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کی بابت فرمایا: { انسان سوئے گا جو اس کے دل سے امانت اٹھ جائے گی اور ایسا نشان رہ جائے گا جیسے کسی کے پیر پر کوئی انگارہ لڑھک کر آ گیا ہو اور پھپھولا پڑ گیا ہو کہ ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اندر کچھ بھی نہیں }۔ پھر آپ نے ایک کنکر لے کر اسے اپنے پیر پر لڑھکا کر دکھا دیا کہ اس طرح لوگ لین دین خرید و فروخت کیا کریں گے۔ لیکن تقریباً ایک بھی ایماندار نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ مشہور ہو جائے گا کہ فلاں قبیلے میں کوئی امانت دار ہے۔ اور یہاں تک کہ کہا جائے گا یہ شخص کیسا عقلمند، کس قدر زیرک، دانا اور فراست والا ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دیکھو اس سے پہلے تو میں ہر ایک سے ادھار سدھار کر لیا کرتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو وہ خود میرا حق مجھے دے جائے گا اور اگر یہودی یا نصرانی ہے تو حکومت اسلام مجھے اس سے دلوا دے گی۔ لیکن اب تو صرف فلاں فلاں کو ہی ادھار دیتا ہوں باقی بند کر دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6497]
مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { چار باتیں تجھ میں ہوں پھر اگر ساری دنیا بھی فوت ہو جائے تو تجھے نقصان نہیں۔ امانت کی حفاظت، بات چیت کی صداقت، حسن اخلاق اور وجہ حلال کی روزی } }۔ ۱؎ [مسند احمد:177/2:ضعیف]
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتاب الزھد میں ہے کہ جبلہ بن سحیم زیاد کے ساتھ تھے اتفاق سے ان کے منہ سے باتوں ہی باتوں میں نکل گیا ”قسم ہے امانت کی۔“ اس پر زیاد رونے لگے اور بہت روئے۔ میں ڈرگیا کہ مجھ سے کوئی سخت گناہ سرزد ہوا۔ میں نے کہا کیا وہ اسے مکروہ جانتے تھے فرمایا ”ہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسے بہت مکروہ جانتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے۔“
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کی قسم کھائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:0000،قال الشيخ الألباني:]
امانتداری جو آدم علیہ السلام نے کی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ منافق مرد و عورت اور مشرک مرد و عورت یعنی وہ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے اور وہ جو اندر باہر یکساں کافر تھے انہیں تو سخت سزا ملے اور مومن مرد و عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ جو اللہ کو اس کے فرشتوں کو اس کے رسولوں کو مانتے تھے اور اللہ کے سچے فرمانبردار رہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الاحزاب کی تفسیر ختم ہوئی۔
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتاب الزھد میں ہے کہ جبلہ بن سحیم زیاد کے ساتھ تھے اتفاق سے ان کے منہ سے باتوں ہی باتوں میں نکل گیا ”قسم ہے امانت کی۔“ اس پر زیاد رونے لگے اور بہت روئے۔ میں ڈرگیا کہ مجھ سے کوئی سخت گناہ سرزد ہوا۔ میں نے کہا کیا وہ اسے مکروہ جانتے تھے فرمایا ”ہاں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسے بہت مکروہ جانتے تھے اور اس سے منع فرماتے تھے۔“
ابوداؤد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { وہ ہم میں سے نہیں جو امانت کی قسم کھائے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:0000،قال الشيخ الألباني:]
امانتداری جو آدم علیہ السلام نے کی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ منافق مرد و عورت اور مشرک مرد و عورت یعنی وہ جو ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر تھے اور وہ جو اندر باہر یکساں کافر تھے انہیں تو سخت سزا ملے اور مومن مرد و عورت پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ جو اللہ کو اس کے فرشتوں کو اس کے رسولوں کو مانتے تھے اور اللہ کے سچے فرمانبردار رہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الاحزاب کی تفسیر ختم ہوئی۔