(آیت 62) {سُنَّةَاللّٰهِفِيالَّذِيْنَخَلَوْامِنْقَبْلُ …:} یعنی معاشرے کو پاک رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ عورتوں کو چھیڑنے والے اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کو گرفتار کیا جاتا تھا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا تھا۔ یہ سزا کوئی نئی نہیں، بلکہ پہلی تمام آسمانی شریعتوں میں ہمیشہ یہی سزا دی جاتی رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور نہ آئندہ اس میں تبدیلی ہو گی۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”تورات میں بھی یہ نقل ہے کہ مفسدوں کو اپنے بیچ سے باہر کر دو۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
62۔ گزشتہ لوگوں میں اللہ کا یہی طریقہ [103] جاری رہا ہے اور آپ اللہ کے اس طریقہ میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔
[103] یعنی اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے خلاف شرارتیں کیں اور فتنے فساد پھیلائے انھیں اسی طرح ذلیل و خوار اور ہلاک کر دیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔