اِنَّ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۵۷﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کیا۔
En
جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
En
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے نہایت رسوا کن عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 57) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …:} قرآن مجید میں وعدہ و وعید اور ترغیب و ترہیب دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، شان اور ان کے پاس آپ کی مدح و ثنا کے حوالے کے ساتھ ایمان والوں کو آپ کی مدح و ثنا اور آپ پر صلاۃ و سلام کا حکم دینے کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو مدح و ثنا کے بجائے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں۔ فرمایا ان پر اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مراد ان لوگوں سے منافقین ہیں، جنھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ کسی مومن سے اس بات کا تصور ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ جان بوجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دے۔
➋ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی شان میں گستاخی کرنا اور ان کاموں کا ارتکاب ہے جو اس نے حرام قرار دیے ہیں، مثلاً یہود کا کہنا: «يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ» [المائدۃ: ۶۴]، نصاریٰ کا کہنا: «الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ» [التوبۃ: ۳۰] اور مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور بتوں کو اور اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک قرار دینا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلٰی أَذًی سَمِعَهُ مِنَ اللّٰهِ، يَدَّعُوْنَ لَهُ الْوَلَدَ، ثُمَّ يُعَافِيْهِمْ وَ يَرْزُقُهُمْ] [بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «إن اللّٰہ ھو الرزاق…» : ۷۳۷۸] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، پھر بھی وہ انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ عزوجل نے فرمایا: [يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَ أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر: 2246/2] ”ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، (اس طرح کہ) وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کو میں بدلتا ہوں۔“
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہلِ ایمان کو ایذا بھی اللہ تعالیٰ کو ایذا ہے، جیسا کہ کعب بن اشرف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی ہجو کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ] [بخاري، الرھن، باب رھن السلاح: ۲۵۱۰] ”کعب بن اشرف (کے قتل) کے لیے کون تیار ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے، جسمانی ہو یا روحانی، آپ کو جھٹلانا ہو یا مخالفت کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللّٰهِ وَ مَا يُخَافُ أَحَدٌ وَ لَقَدْ أُوْذِيْتُ فِي اللّٰهِ وَمَا يُؤْذٰی أَحَدٌ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب: ۲۴۷۲] ”مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ڈرایا گیا اتنا کہ کسی کو اتنا نہیں ڈرایا جاتا اور مجھے اللہ کی خاطر ایذا دی گئی اتنی کہ کسی کو اتنی نہیں دی جاتی۔“ ان ایذاؤں میں مکہ مکرمہ میں شاعر، کاہن، ساحر کہنا، مذاق اڑانا، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی اوجھڑی اور آلائش لا کر اوپر ڈال دینا، چادر کے ساتھ گلا گھونٹ دینا، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رکھنا، اہلِ طائف کا زبانی بدسلوکی کے علاوہ سنگ باری کرنا وغیرہ شامل ہیں اور مدینہ میں منافقوں کی بد زبانی اور طعنہ زنی بھی، مثلاً {” لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ “} اور {” وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ “} جیسی باتیں آپ کے لیے شدید ایذا کا باعث تھیں۔ پچھلی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والی بعض ایسی چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے جن کا ایذا ہونا عام طور پر معلوم نہیں تھا، خصوصاً آیت (۵۳) میں بیان کردہ چیزیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا میں آپ کی تکذیب اور مخالفت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر طعن و تشنیع کی جائے، یا آپ کے پیاروں کے متعلق بدزبانی کی جائے۔
➋ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینے سے مراد اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی شان میں گستاخی کرنا اور ان کاموں کا ارتکاب ہے جو اس نے حرام قرار دیے ہیں، مثلاً یہود کا کہنا: «يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ» [المائدۃ: ۶۴]، نصاریٰ کا کہنا: «الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ» [التوبۃ: ۳۰] اور مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور بتوں کو اور اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک قرار دینا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا أَحَدٌ أَصْبَرُ عَلٰی أَذًی سَمِعَهُ مِنَ اللّٰهِ، يَدَّعُوْنَ لَهُ الْوَلَدَ، ثُمَّ يُعَافِيْهِمْ وَ يَرْزُقُهُمْ] [بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «إن اللّٰہ ھو الرزاق…» : ۷۳۷۸] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات سن کر صبر کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لیے اولاد قرار دیتے ہیں، پھر بھی وہ انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ عزوجل نے فرمایا: [يُؤْذِيْنِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَ أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ] [مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، باب النہي عن سب الدھر: 2246/2] ”ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، (اس طرح کہ) وہ زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، رات دن کو میں بدلتا ہوں۔“
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور اہلِ ایمان کو ایذا بھی اللہ تعالیٰ کو ایذا ہے، جیسا کہ کعب بن اشرف کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی ہجو کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ؟ فَإِنَّهُ قَدْ آذَی اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ] [بخاري، الرھن، باب رھن السلاح: ۲۵۱۰] ”کعب بن اشرف (کے قتل) کے لیے کون تیار ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا سے مراد کسی بھی طرح کی ایذا ہے، جسمانی ہو یا روحانی، آپ کو جھٹلانا ہو یا مخالفت کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیف پہنچائی گئی، انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللّٰهِ وَ مَا يُخَافُ أَحَدٌ وَ لَقَدْ أُوْذِيْتُ فِي اللّٰهِ وَمَا يُؤْذٰی أَحَدٌ] [ترمذي، صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب: ۲۴۷۲] ”مجھے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ڈرایا گیا اتنا کہ کسی کو اتنا نہیں ڈرایا جاتا اور مجھے اللہ کی خاطر ایذا دی گئی اتنی کہ کسی کو اتنی نہیں دی جاتی۔“ ان ایذاؤں میں مکہ مکرمہ میں شاعر، کاہن، ساحر کہنا، مذاق اڑانا، سجدے کی حالت میں اونٹنی کی اوجھڑی اور آلائش لا کر اوپر ڈال دینا، چادر کے ساتھ گلا گھونٹ دینا، شعب ابی طالب میں تین سال محصور رکھنا، اہلِ طائف کا زبانی بدسلوکی کے علاوہ سنگ باری کرنا وغیرہ شامل ہیں اور مدینہ میں منافقوں کی بد زبانی اور طعنہ زنی بھی، مثلاً {” لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ “} اور {” وَ يَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ “} جیسی باتیں آپ کے لیے شدید ایذا کا باعث تھیں۔ پچھلی آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والی بعض ایسی چیزوں سے بھی منع کیا گیا ہے جن کا ایذا ہونا عام طور پر معلوم نہیں تھا، خصوصاً آیت (۵۳) میں بیان کردہ چیزیں۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا میں آپ کی تکذیب اور مخالفت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر طعن و تشنیع کی جائے، یا آپ کے پیاروں کے متعلق بدزبانی کی جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 اللہ کو ایذا دینے کا مطلب ان کے افعال کا ارتکاب ہے جو وہ ناپسند فرماتا ہے ورنہ اللہ پر ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے؟ جسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے (صحیح بخاری) یعنی یہ کہنا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کردیا یہ صحیح نہیں اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں زمانے یا فلک کے نہیں اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا آپ کی تکذیب آپ کو شاعر کذاب ساحر وغیرہ کہنا ہے علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص واہانت کو بھی آپ نے ایذا قرار دیا ہے لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو دکھ پہنچاتے [97] ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا میں بھی لعنت فرمائی اور آخرت میں بھی اور ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
[97] اللہ اور اس کے رسول کو ایذا کی صورتیں :۔
اللہ کو دکھ پہنچانے کی کئی صورتیں ہیں۔ پہلی صورت شرک ہے کہ اس کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک بنا لیا جائے چنانچہ ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آدم کا بیٹا مجھے سخت دکھ پہنچاتا ہے۔ جب کہتا کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دین اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سب لوگ فی الحقیقت اللہ اور اس کے رسول دونوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الزام تراشیوں اور طعن و تشنیع سے دکھ پہنچاتے ہیں۔ اور ایسے مواقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بکثرت آتے رہے۔ وہ لوگ حقیقتاً اللہ ہی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ کی ذات اللہ کی طرف سے مامور ہے اسی لحاظ سے رسول کی اطاعت ہی فی الحقیقت اللہ کی اطاعت ہے [4: 80]
اسی طرح اللہ کے رسول کی نافرمانی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسول کو ستانا اور تکلیف پہنچانا فی الحقیقت اللہ کو دکھ پہنچانا ہے۔ پھر آخر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب کیوں نہ دے گا۔
اسی طرح اللہ کے رسول کی نافرمانی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ اسی طرح اللہ کے رسول کو ستانا اور تکلیف پہنچانا فی الحقیقت اللہ کو دکھ پہنچانا ہے۔ پھر آخر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ذلت و رسوائی کا عذاب کیوں نہ دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ملعون و معذب لوگ ٭٭
جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے اس کے روکے ہوئے کاموں سے نہ رک کر اس کی نافرمانیوں پر جم کر اسے ناراض کر رہے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے طرح طرح کے بہتان باندھتے ہیں وہ ملعون اور معذب ہیں۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد تصویریں بنانے والے ہیں۔
بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔
جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔
بخاری و مسلم میں { فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے ابن آدم ایذاء دیتا ہے وہ زمانے کو گالیاں دیتا ہے اور زمانہ میں ہوں میں ہی دن رات کا تغیر و تبدل کر رہا ہوں ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4826]
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والے کہا کرتے تھے ہائے زمانے کی ہلاکت اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور یوں کیا۔ پس اللہ کے افعال کو زمانے کی طرف منسوب کر کے پھر زمانے کو برا کہتے تھے گویا افعال کے فاعل یعنی خود اللہ کو برا کہتے تھے۔
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا تو اس پر بھی بعض لوگوں نے باتیں بنانا شروع کی تھیں۔ بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت اس بارے میں اتری۔ آیت عام ہے کسی طرح بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دے وہ اس آیت کے ماتحت ملعون اور معذب ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دینی گویا اللہ کو ایذاء دینی ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت عین اطاعت الٰہی ہے۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتا ہوں دیکھو اللہ کو بیچ میں رکھ کر تم سے کہتا ہوں کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو میرے بعد نشانہ نہ بنا لینا میری محبت کی وجہ سے ان سے بھی محبت رکھنا ان سے بغض و بیر رکھنے والا مجھ سے دشمنی کرنے والا ہے۔ انہیں جس نے ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی یقین مانو کہ اللہ اس کی بھوسی اڑا دے گا } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3862،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے۔
جو لوگ ایمانداروں کی طرف ان برائیوں کو منسوب کرتے ہیں۔ جن سے وہ بری ہیں وہ بڑے بہتان باز اور زبردست گناہ گار ہیں۔ اس وعید میں سب سے پہلے تو کفار داخل ہیں۔
پھر رافضی شیعہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم پر عیب گیری کرتے ہیں اور اللہ نے جن کی تعریفیں کی ہیں یہ انہیں برا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ ’ وہ انصار و مہاجرین سے خوش ہے ‘۔
قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4]
قرآن کریم میں جگہ جگہ ان کی مدح و ستائش موجود ہے۔ لیکن یہ بے خبر کند ذہن انہیں برا کہتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہیں اور ان میں وہ باتیں بتاتے ہیں جن سے وہ بالکل الگ ہیں۔ حق یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ان کے دل اوندھے ہو گئے ہیں اس لیے ان کی زبانیں بھی الٹی چلتی ہیں۔ قابل مدح لوگوں کی مذمت کرتے ہیں اور مذمت والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ غیبت کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تیرا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو اسے برا معلوم ہو }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ اگر وہ بات اس میں ہو تب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { جبھی تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے } }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4874،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ { سب سے بڑی سود خوری کیا ہے؟ } انہوں نے کہا کہ اللہ جانے اور اللہ کا رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت «وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا» کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [شعب الإيمان:393/4]