ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 40

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾
محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں اور لیکن وہ اللہ کا رسول اور تمام نبیوں کا ختم کرنے والا ہے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
En
(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ { مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ:} یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ زید کو متبنّٰی بنایا، مگر وہ آپ کے بیٹے نہیں، نہ آپ اس کے حقیقی باپ ہیں، اس لیے انھیں زید بن محمد کے بجائے زید بن حارثہ ہی کہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا اتنی دیر زندہ نہیں رہا کہ بلوغت کی عمر کو پہنچے۔ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین بیٹے قاسم، طیب اور طاہر پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنھا سے ابراہیم پیدا ہوئے، وہ بھی دودھ پینے ہی کی عمر میں فوت ہو گئے، بیٹیاں چار پیدا ہوئیں، جو خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے تھیں، یعنی زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنھن، تین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں فوت ہو گئیں اور فاطمہ رضی اللہ عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صدمہ دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد فوت ہو گئیں۔ (ابن کثیر)
➋ { مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ …:} اس ایک آیت میں ان تمام اعتراضات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے جو مخالفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کر رہے تھے یا کر سکتے تھے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر لیا، جب کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کو خود ہی حرام کہتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں یعنی آپ نے جس شخص (زید) کی مطلقہ سے نکاح کیا ہے وہ آپ کا بیٹا تھا ہی نہیں، تم خود جانتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہیں، تو وہ بہو کیسے بن گئی؟ دوسرا اعتراض یہ ہو سکتا تھا کہ متبنّٰی حقیقی بیٹا نہ سہی، مگر اس کی بیوی سے نکاح زیادہ سے زیادہ جائز تھا، آخر اس کا کرنا ضروری تو نہیں تھا۔ اس کے جواب میں فرمایا اور لیکن وہ اللہ کا رسول ہے یعنی رسول ہونے کی وجہ سے اس کی ذمہ داری ہے کہ جن رسوم کی وجہ سے حلال چیزوں کو تم نے حرام کر رکھا ہے، ان کے باطل ہونے کا پیغام اپنی زبان کے ساتھ ہی نہیں اپنے عمل کے ساتھ بھی پہنچائے۔ پھر مزید تاکید فرمائی کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جو یہ پیغام پہنچائے۔ اس لیے آپ پر لازم ہے کہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کا ہر پیغام پہنچا دیں۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے، یعنی اسے خوب معلوم ہے کہ جاہلیت کی کس رسم کو کس طرح ختم کرنا ہے۔
➌ { وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ …:} یہ آیت صریح دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، جب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بالاولیٰ نہیں ہو سکتا، کیونکہ نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ ہر رسول نبی ہوتا ہے جب کہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے متعلق بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے متواتر احادیث آئی ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کذّاب قرار دیا، ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِيْ بِالْمُشْرِكِيْنَ وَحَتّٰی يَعْبُدُوا الْأَوْثَانَ وَ إِنَّهُ سَيَكُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ كَذَّابُوْنَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ] [ترمذي، الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعۃ حتی یخرج کذّابون: ۲۲۱۹، و قال الألباني صحیح] قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں نبیوں کا سلسلہ ختم کرنے والا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: [أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ] [مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ: ۲۴۰۴] تم مجھ سے اس مرتبے پر ہو جس پر ہارون(علیہ السلام) موسیٰ(علیہ السلام) سے تھے، مگر فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الرِّسَالَةَ وَ النُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَ لَا نَبِيَّ، قَالَ فَشَقَّ ذٰلِكَ عَلَی النَّاسِ، فَقَالَ لٰكِنِ الْمُبَشِّرَاتُ، فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَ مَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ وَ هِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ] [ترمذي، الرؤیا، باب ذھبت النبوۃ و بقیت المبشرات: ۲۲۷۲، و قال الألباني صحیح الإسناد] رسالت اور نبوت ختم ہو گئی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے، نہ کوئی نبی۔ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ نے فرمایا: لیکن مبشرات باقی ہیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ مَثَلِيْ وَ مَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِيْ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَ أَجْمَلَهُ، إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَ يَعْجَبُوْنَ لَهُ، وَ يَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هٰذِهِ اللَّبِنَةُ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ] [بخاري، المناقب، باب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم : ۳۵۳۵] میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی ہے جس نے ایک مکان بنایا، اسے ہر لحاظ سے خوب صورت بنایا، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور اس پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی؟ تو میں وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔ یہ تمام احادیث اور دوسری بہت سی احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ رہا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تو وہ ختم نبوت کے منافی نہیں، کیونکہ انھیں نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے۔ اب وہ آپ کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر چلیں گے۔ آج تک پوری امت کا یہی متفق علیہ عقیدہ ہے، اس لیے ختم نبوت کا منکر قطعی کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بالغ مرد کا باپ نہ ہونے اور خاتم النّبیین رسول ہونے کے درمیان ایک اور مناسبت بھی ہے، جو صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمائی ہے اور وہ مناسبت اللہ تعالیٰ کے{ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا } ہونے کا نتیجہ ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انھوں نے فرمایا: [مَاتَ صَغِيْرًا، وَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَّكُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَبِيٌّ عَاشَ ابْنُهُ، وَ لٰكِنْ لَّا نَبِيَّ بَعْدَهُ] [بخاري، الأدب، باب من سمی بأسماء الأنبیاء: ۶۱۹۴] وہ چھوٹی عمر ہی میں فوت ہو گئے اور اگر فیصلہ ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہو تو آپ کا بیٹا زندہ رہتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ بات اگرچہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، مگر یہ اپنی رائے سے کہنا مشکل ہے، کیونکہ نبی کا بیٹا نبی ہونا ضروری نہیں، جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) اس لیے وہ زید بن حارثہ ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انھیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا؟ بلکہ ایک زید ؓ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو انھیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انھیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب:5) کے نزول کے بعد انھیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہوگئے ان میں سے کوئی بھی عمر رجولیت کو نہیں پہنچا۔ بنابریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلبی اولاد میں سے بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جس کے آپ باپ ہوں (ابن کثیر) 40۔ 2 خاتم مہر کو کہتے ہیں اور مہر آخری عمل ہی کو کہا جاتا ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا خاتمہ کردیا گیا آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ نبی نہیں کذاب و دجال ہوگا احادیث میں اس مضمون کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس پر پوری امت کا اجماع و اتفاق ہے قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کا نزول ہوگا جو صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے تو وہ نبی کی حیثیت سے نہیں آئیں گے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر آئیں گے اس لیے ان کا نزول عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں کسی کے باپ [64] نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول [65] اور خاتم النبیین [66] ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز [67] کو خوب جاننے والا ہے
[64] معترفین کے اس نکاح کے بارے میں اعتراضات :۔
اس جملے میں دشمنان اسلام کے اس طعن کی تردید ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی مطلقہ بیوی یعنی اپنی بہو سے نکاح کر لیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ زید کے باپ ہیں ہی نہیں اور ایک زید ہی کیا کسی بھی مرد کے باپ نہیں۔ یعنی ان کی کوئی اولاد ایسی نہیں جو جوان ہو اور مرد کہلائے جانے کے قابل ہو۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بیٹے قاسم اور طیب (جنہیں طاہر بھی کہا جاتا ہے) فوت ہو چکے تھے اور ابراہیم ابھی پیدا ہی نہ ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ حسنؓ اور حسینؓ آپ کے نواسے تھے۔ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا بھی فرمایا مگر ایک تو وہ حقیقی بیٹے نہ تھے۔ دوسرے وہ بھی کمسن تھے جنہیں مرد نہیں کہا جاسکتا۔
[65] ہنگامہ بپا کرنے والوں کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر زید کی مطلقہ بیوی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح جائز بھی تھا تو کیا یہ ضروری تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے نکاح کرتے۔ یہ بات ویسے بھی کہی جا سکتی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ انھیں تو وہ کام بہرحال کرنا ہوتا ہے جو اللہ کا حکم ہو اور اللہ کا حکم یہی ہے کہ اس بری رسم کی اصلاح کا آغاز نبی کی ذات سے کیا جائے۔
[66] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول تو کیا کوئی نبی بھی آنے والا نہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس برے دستور کی اصلاح ممکن ہی نہ تھی۔ لہٰذا ضروری تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرتے تاکہ دوسرے مسلمانوں کے لئے یہ راستہ ہموار ہو جائے اور انھیں ایسا کرنے میں کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ تاہم یہ جملہ ایک ٹھوس حقیقت پر مبنی ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے:
(1) عامر الشعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہا تاکہ اس آیت کا مضمون صادق آ جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے باپ نہیں۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
(2) آپ خاتم النبییّن ہیں: سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اور اگلے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا۔ اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس میں آتے جاتے اور تعجب کرتے ہیں کہ اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی۔ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیّین ہوں“ [بخاري۔ كتاب المناقب۔ باب خاتم النبيّين صلی اللہ علیہ وسلم]
(3) سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل پر نبی حکومت کیا کرتے جب ایک نبی فوت ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ البتہ میرے بعد کثرت سے خلفاء پیدا ہوں گے“ [بخاري۔ كتاب الانبياء۔ باب ما ذكر عن بني اسرائيل، مسلم۔ كتاب الامارة۔ باب الامر بالوفاء ببيعة الخلفاء]
(4) سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو گروہ آپس میں نہ لڑیں۔ دونوں میں بڑی جنگ ہو گی اور دونوں کا دعویٰ ایک ہو گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تیس کے قریب چھوٹے دجال ظاہر نہ ہوں یعنی ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں“ [بخاري۔ كتاب المناقب۔ باب علامات النبوت فى الاسلام]
(5)
اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب :۔
سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور کہنے لگا: ”اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے اپنا جانشین بنائیں تو میں ان کی تابعداری کرتا ہوں“ اور مسیلمہ کذاب اپنے ساتھ بہت سے لوگوں کو بھی لایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس (بن شماس۔ خطیب انصار) بھی تھے۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چھڑی بھی مانگو تو میں نہیں دوں گا۔ (جانشینی تو دور کی بات ہے) اور اللہ نے جو کچھ تیری تقدیر میں لکھ دیا ہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔ اور تو اسلام نہ لائے گا اور اللہ تجھے تباہ کر دے گا۔ اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تو وہی دشمن ہے جس کا حال مجھے اللہ تعالیٰ (خواب میں) دکھا چکا ہے۔ اور یہ ثابت بن قیس میری طرف سے تمہیں جواب دے گا۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گئے۔ سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہؓ سے آپ کے ارشاد کا مطلب پوچھا تو ابوہریرہؓ نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں۔ تو میں بہت پریشان ہو گیا۔ خواب ہی میں مجھے حکم دیا گیا کہ ان پر پھونک مارو میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر سمجھی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص پیغمبری کا دعویٰ کریں گے ان میں سے ایک اسود عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ کذاب۔“ [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب وفد بني حنيفة۔۔۔]
(6) سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے اگلی امتوں میں ایسے لوگ گزرے ہیں جن کو اللہ کی طرف سے الہام ہوتا تھا۔ اگر میری امت سے کوئی ایسا ہو تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“ (حوالہ ایضاً) اور قیامت کے قریب سیدنا عیسیٰ کا نزول ہو گا تو وہ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر رہیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کی اتباع کریں گے علاوہ ازیں نبی ہونے کی حیثیت سے بھی ان کا شمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء میں ہے۔ وہ کوئی نیا دعویٰ نہیں کریں گے۔ ختم نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کے انقطاع کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس پر تمام امت کا اجماع ہو چکا ہے۔ اس آیت، ان صریح احادیث صحیحہ اور اجماع کے علی الرغم قادیان ضلع گورداسپور میں ایک شخص مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ہم یہاں مختصراً اس کے اس دعویٰ کا جائزہ لینا چاہتے ہیں:
(1) مرزا صاحب پہلے خود بھی ختم نبوت کے قائل اور نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھتے تھے۔ چنانچہ حمامۃ البشریٰ میں لکھتے ہیں کہ ”بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آئے تو کیسے آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وحی بند ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے“ [حمامة البشرٰي 20] پھر اسی کتاب کے صفحہ 79 پر لکھتے ہیں کہ ”مجھے یہ بات زیبا نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں میں جاملوں“ اس وقت تک آپ کا صرف مجدد ہونے کا دعویٰ تھا۔
(2)
مرزا قادیانی کی نبوت کے تدریجی مراحل :۔
پھر اس کے بعد آپ مثیل مسیح بنے۔ پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اسی بنا پر آپ نے رفع عیسیٰ کا انکار کر دیا بلکہ بذریعہ کشف و الہام کشمیر میں آپ کی قبر کی نشاندہی بھی فرما دی اور اعلان فرمایا کہ: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے پھر اس کے بعد آپ نے کھل کر اپنی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور یہ بھی کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور میں اللہ سے ہم کلام ہوتا ہوں۔ پھر جب آپ ہی کی تحریروں کے مطابق علماء نے آپ پر گرفت کی تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ میں کوئی مستقل نبی نہیں نہ ہی کوئی صاحب شریعت رسول ہوں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی کی وجہ سے نبی ہوا ہوں اور آپ ہی کا ظل اور بروز (یعنی سایہ یا عکس) ہوں آپ کی اسی ظلی اور بروزی کی اصطلاح پر مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر روزنامہ ”زمیندار“ نے ایک بار یوں تبصرہ کیا تھا: بروزی ہے نبوت قادیان کی برازی ہے خلافت قادیان کی گویا آپ بتدریج نبی بنے تھے، پہلے مجددیت کے مدعی تھے پھر مثیل مسیح کے، پھر مسیح موعود کے پھر جب کچھ کام چلتا دیکھا تو نبوت کا دعویٰ کر دیا اور قادیان کی سرزمین کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: زمین قادیان ارض حرم ہے ہجوم خلق سے اب محترم ہے اگر غور کیا جائے تو آپ کی تدریجی نبوت ہی آپ کے نبوت کے دعویٰ کے ابطال کے لئے بہت کافی ہے کیونکہ تمام تر سلسلہ انبیاء میں سے کوئی نبی اس طرح بتدریج نبی نہیں بنایا گیا تاہم آپ کی پیش کردہ توجیہات کا بھی ہم جائزہ لینا چاہتے ہیں۔
(3)
ظلی اور بروزی نبی کی اصطلاح :۔
آپ کی پہلی توجیہ یہ ہے کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے کرتے یہ درجہ ظلی نبوت حاصل ہوا۔ گویا آپ کے نظریہ کے مطابق نبوت وہبی نہیں بلکہ کسبی چیز ہے اس نظریہ کی قرآن نے: ﴿وَاللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَه کہہ کر بھرپور تردید کی ہے۔ علاوہ ازیں اگر نبوت کسبی چیز ہوتی اور آپ کی اتباع کامل کی وجہ سے حاصل ہو سکتی ہے تو اس کے سب سے زیادہ حقدار صحابہ کرام تھے۔ بالخصوص سیدنا عمرؓ جن کے متعلق صراحت سے احادیث مبارکہ میں آیا ہے ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓہوتے۔ اور ظل اور بروز کا نظریہ تو کئی لحاظ سے آپ کی نبوت کا ابطال کرتا ہے۔
(4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شاعری آپ کے شایان شان بھی نہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ یسین کی آیت نمبر 69 اور اس کا حاشیہ) جبکہ مرزا صاحب شاعر تھے۔ آپ نے اردو، عربی، فارسی میں بہت سے اشعار اور قصیدے لکھے حتیٰ کہ ایک بہت بڑی کتاب بطور کلیات مرزا صاحب مسمی بہ ''درثمین'' تصنیف اور شائع کی ہے۔ اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کا ظل اور بروز ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو شاعر نہیں تھے۔ یہ عکس میں شاعری کہاں سے آگئی؟ مطلب واضح ہے کہ مرزا صاحب رسول اللہ کا عکس نہیں۔
(5) آپ کی تضاد بیانی کا یہ حال ہے کہ ایک وقت آپ دعویٰ نبوت کو کفر سمجھتے تھے پھر مثیل مسیح بنے، پھر مسیح موعود بنے، پھر نبوت کا دعویٰ کیا پھر یہ بھی دعویٰ کر دیا کہ تمام انبیاء کی خوبیاں مجھ میں جمع اور موجود ہیں۔ چنانچہ اس درثمین میں اردو زبان میں کہا کہ: میں کبھی عیسیٰ کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں۔۔ نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار فارسی میں کہا: انبیاء کرچہ بودہ اند بسے من بعرفان نہ کمترم زکسے۔ آنچہ داد ست ہر نبی را جام داد آں جام را مرابہ تمام ترجمہ: اگرچہ انبیاء بہت گزرے ہیں تاہم میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔ ان میں جس کسی کو کوئی جام معرفت دیا گیا وہ سب کے سب جام مجھے دیئے گئے ہیں۔ اپنی ذات سے متعلق ایسی تضاد بیانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس کہا جا سکتا ہے؟ یا سابقہ انبیاء میں سے کسی کو تدریجاً کبھی نبی بنایا گیا ہے؟
(6) چھٹی بات آپ کے مخالفوں کے حق میں آپ کی بدزبانی ہے جنہیں آپ ولدالزنا اور ولد الحرام کہہ کر پکارا کرتے ہیں اور آئینہ کمالات اسلام میں فرمایا کہ: «ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا» (یعنی کنجریوں کی اولاد) کے علاوہ ہر مسلمان نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی بالفاظ دیگر جن مسلمانوں نے میری نبوت کی تصدیق نہیں کی وہ سب کنجریوں کی اولاد ہیں اور ایک بار اپنے مخالف پرلعنت بھیجنے کو جی چاہا تو ہزار بار لعنت کہنے یا لکھنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ فی الواقع ہزار بار لعنت کا لفظ لکھ کر کتاب کے تین چار صفحے سیاہ کر ڈالے۔ کیا یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا نمونہ اور ان کا عکس ہے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مخالفوں کے حق میں ایسی غلیظ گالیاں ثابت کی جا سکتی ہیں؟
(7)
آپ کی نبوت کی تردید پر دلائل :۔
اور جب اپنی کسر نفسی پر آتے ہیں تو بھی غلیظ زبان استعمال کرتے اور حقائق کا منہ چڑاتے ہیں۔ درثمین ہی میں فرماتے ہیں: کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں۔۔ ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یعنی اے میرے پیارے میں نہ تو مٹی کا کیڑا ہوں اور نہ آدم کی نسل سے ہوں۔ بلکہ میں بشر کی ''جائے نفرت'' ہوں جس سے سب لوگوں کو شرم آئے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ فرما لیجئے کہ وہ بشر کی جائے نفرت کیا چیز ہو سکتی ہے۔ بس وہی چیز مرزا صاحب تھے۔ بایں ہمہ آپ کا دعویٰ یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہیں۔ نیز آپ نہ مٹی سے پیدا ہوئے تھے نہ آدم کی نسل سے تھے۔ تو پھر کیا تھے؟ سابقہ انبیاء تو سب آدم زاد ہی تھے۔
(8) قرآن اور احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ اور بالخصوص قتال فی سبیل اللہ پر جس قدر زور دیا گیا ہے اور جتنے فضائل کتاب و سنت میں مذکور ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سترہ غزوات میں حصہ لیا۔ اور ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ یہ جہاد تاقیامت جاری رہے گا۔ لیکن مرزا صاحب نے اس جہاد کی ممانعت کا یوں فتوی دیا کہ: اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال۔۔ دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد۔ منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد [درثمين ص: 53] آخری مصرع میں نبی سے مراد غالباً مرزا صاحب خود ہیں۔ غور فرمائیے کہ ایسا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہو سکتا ہے؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا کہ: ”میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، پھر زندہ ہوں پھر مارا جاؤں، پھر زندہ ہوں پھر مارا جاؤں“ [بخاري۔ كتاب التمني۔ باب من تمني الشهادة]
پھر یہ بھی غور فرمایئے مرزا صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس ہیں یا ان کی آرزو اور تعلیم کو ملیا میٹ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور ان کی ضد ہیں۔
(9)
جہاد بالسیف کی بھرپور مخالفت :۔
کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے حکومت وقت کا ساتھ دیا ہو بلکہ نبی کا تو کام ہی یہ ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کرے اور سرکاری درباری حضرات، آسودہ حال طبقہ اور چودھری لوگ ہمیشہ انبیاء کے مخالف رہے ہیں۔ مگر یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب اور ان کی نبوت انگریز بہادر کے سایہ عاطفت میں پروان چڑھتی ہے۔ اور آپ بھی ہر وقت گورنمنٹ عالیہ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے ہیں نیز وہ اپنی زبان سے اپنے آپ کو گورنمنٹ کا ”خود کا شتہ پودا“ ہونے کا اقرار فرماتے ہیں۔ اب دو ہی باتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ انگریز کی حکومت کو صحیح اسلامی حکومت تسلیم کر لیا جائے۔ اس صورت میں مرزاصاحب کی نبوت کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ نبی ہمیشہ بگاڑ کی اصلاح کے لئے آتا ہے اور دوسری صورت یہی باقی رہ جاتی ہے کہ نبی اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہو۔ اور یہی صورت حال مرزا صاحب کی نبوت پر صادق آتی ہے۔ آپ کا اپنے بارے میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہونے کا اعتراف: ہوا یہ تھا کہ جب ہندوستان میں انگریز بہادر کی حکومت قائم ہو گئی تو ساتھ ہی زیر زمین جہاد کی تحریک شروع ہو گئی جس سے انگریز کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا تھا۔ اس نے اس کا حل یہ سوچا کہ مسلمانوں کی آپس میں پھوٹ ڈال دی جائے اور دوسرے جہاد کی روح کو حتی الامکان مسلمانوں کے اذہان سے خارج کر دیا جائے۔ ان کاموں کے لئے اس کی نظر انتخاب مرزا غلام احمد قادیانی پر پڑی۔ مرزا صاحب نے انگریز بہادر کے دونوں کام سرانجام دیئے۔ جہاد بالسیف کی جی بھر کر مخالفت کی اور اپنے پیروکاروں کے علاوہ باقی سب مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ بھی لگا دیا۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مرزائی مسلمانوں کا جنازہ تک نہیں پڑھتے۔ قائداعظم کی نماز جنازہ کے وقت سرظفر اللہ خاں پرے ہی کھڑے رہے مگر نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے۔ اور انگریز نے مرزا صاحب کے ان ”احسانات“ کا بدلہ یہ دیا کہ ان کی نبوت اور ان کی امت کو پورا پورا تحفظ دیا اور انھیں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دے کر انھیں حکومت میں آگے لے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔ علاوہ ازیں ان حضرات کو ہر طرح مراعات بھی دی جاتی ہیں۔
(10)
محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی کا حشر :۔
آپ کی نبوت کے ابطال پر دسویں دلیل آپ کی جھوٹی پیشین گوئیاں ہیں۔ آپ محمدی بیگم سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔ تو آپ نے مشہور کر دیا کہ مجھے بذریعہ وحی معلوم ہوا ہے کہ میرا محمدی بیگم سے آسمانوں پر نکاح ہوا ہے۔ محمدی بیگم کے اولیاء سے جو مرزا صاحب کی اپنی برادری کے لوگ تھے، مرزا صاحب نے درخواست کی تو انہوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر آپ اپنی وحی کی بنا پر کئی طرح کی دھمکیاں اور وعیدیں محمدی بیگم کے اولیاء کو سناتے رہے۔ لیکن ان لوگوں پر مرزا صاحب کی دھمکیوں کا خاک بھی اثر نہ ہوا۔ اور نہ ہی ان دھمکیوں کے مطابق انھیں کچھ نقصان پہنچا۔ انہوں نے محمدی بیگم کو کسی دوسری جگہ بیاہ دیا۔ جہاں اس کے ہاں اولاد بھی ہوئی اور سکھ چین سے زندگی بسر کرتی رہی اور مرزا صاحب اس سے شادی کی حسرت دل میں لئے اگلے جہاں کو سدھار گئے۔ اور آسمانوں کا نکاح آسمانوں پر ہی رہ گیا زمین پر نہ ہو سکا۔ بعد میں آپ کے متبعین نے مرزا صاحب کے الہامات اور وحیوں کی یہ تاویل فرمائی کہ کسی دور میں مرزا صاحب کی اولاد در اولاد میں سے کسی لڑکے کا محمدی بیگم کی اولاد در اولاد میں سے کسی لڑکی سے نکاح ضرور ہو گا۔ ایسی اندھی عقیدت بھی قابل ملاحظہ ہے۔
(11)
مولانا ثناء اللہ امرتسری سے مباہلہ اور مرزا صاحب کی وفات :۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری کے مرزا صاحب سخت دشمن تھے۔ کیونکہ وہ بھی ہاتھ دھو کر مرزا صاحب کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ آخر مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ کو 15۔ اپریل 1907 ء کو ایک طویل خط لکھا جس کا ماحصل یہ تھا کہ ”اے اللہ! اگر میں جھوٹا اور مفتری ہوں تو میں ثناء اللہ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کذاب اور مفتری کی لمبی عمر نہیں ہوتی۔ اور اگر ثناء اللہ جھوٹا ہے تو اسے میری زندگی میں نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے“ اور ساتھ ہی مرزا صاحب نے یہ استدعا بھی کی کہ میرے اس خط کو من و عن اپنے اخبار میں شائع کر دیا جائے۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے مرزا صاحب کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اس طویل خط کو اپنے ہفت روزہ ”اہلحدیث“ کی 25 مئی 1907 ء کی اشاعت میں شائع کر دیا۔ اس خط کا انداز بیان اگرچہ دعائیہ تھا تاہم مرزا صاحب نے بذریعہ الہام اس بات کی توثیق فرما دی کہ ان کی دعا قبول ہو گئی اور یہ الہام البدر قادیان 25 اپریل 1907 ء میں شائع ہوا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا صاحب اس سے تیرہ ماہ بعد 26 مئی 1908 ء کو بعارضہ ہیضہ بمقام لاہور انتقال کر گئے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری صاحب اللہ کے فضل سے مارچ 1948 ء تک یعنی مرزا صاحب کی وفات سے چالیس سال بعد تک زندہ رہے۔ مرزا صاحب کے انتقال کے بعد جب یہ شور اٹھا کہ مرزا صاحب اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹے ثابت ہوئے تو اتباع مرزا نے اس شرط کو بدل دینا چاہا کہ شرط دراصل یہ تھی کہ جو جھوٹا ہو گا وہ زندہ رہے گا اور مباحثہ کرنا چاہا اور خود ہی یہ صورت پیش کی کہ فیصلہ کے لئے ایک غیر مسلم ثالث ہو گا اور ہم اگر ہار جائیں تو مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب کو تین سو روپے (یعنی آج کے لحاظ سے کم از کم تیس ہزار روپے) دیں گے۔ ورنہ مولوی ثناء اللہ ہمیں اتنی ہی رقم دے۔ اس اعلان کے مطابق اپریل 1912 ء میں بمقام لودھیانہ مباحثہ ہوا جس میں ثالت سردار بچن سنگھ جی پلیڈر لودھیانہ مقرر ہوئے۔ اس مباحثہ میں ثالث نے مولانا ثناء اللہ کے حق میں فیصلہ دیا اور انعام یا شرط کی مجوزہ رقم آپ کو مل گئی۔ یہ تھی مرزا صاحب کی ذات گرامی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل اور بروز ہونے کی مدعی تھی۔ اور جو حکومت پاکستان نے 1974 ء میں قومی اسمبلی میں کثرت رائے کی بنا پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا تو اس کی وجہ ان صریح احادیث کا انکار ہے جو ہم ابتدا میں درج کر آئے ہیں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان بھی لائے پھر ان کی بات بھی نہ مانے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے علی الرغم نہ صرف ان احادیث کا انکار کرے بلکہ اپنی نبوت و رسالت کا بھی دعویٰ کرے۔
حکومت پاکستان کا مرزائیوں کو کافر قرار دینا :۔
مرزائی حضرات مرزا صاحب کی نبوت کی صداقت پر عموما سورۃ الحاقہ کی آیات نمبر 44 تا 46 پیش کیا کرتے ہیں کہ ”اگر یہ رسول (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پاس سے کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمہ لگا دے تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ جان کاٹ دیں“ اور وجہ استدلال یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت 23 سال ہے اور مرزا صاحب تو اس مدت سے زیادہ زندہ رہے اگر انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا تو اللہ کی طرف سے ایسی کوئی سزا ضرور ملنا چاہئے تھی اور جب ایسی سزا نہیں ملی تو معلوم ہوا کہ آپ اپنے دعویٰ نبوت میں سچے تھے۔ اس کا تفصیلی جواب تو ہم سورۃ الحاقہ میں ہی دیں گے۔ مختصراً یہ کہ اگر ایسا افترا کوئی نبی لگائے تو اسے تو یقیناً ایسی سزا بھی ملے گی۔ لیکن کوئی عام شخص اللہ پر جھوٹ باندھے تو یہ سزا نہیں ملتی جیسے ایک گورنر اپنی طرف سے کوئی فرمان جاری کر کے اسے صدر مملکت کے ذمہ لگائے تو اس سے ضرور مواخذہ ہو گا۔ لیکن ایک خاکروب یا کوئی عام آدمی صدر کے خلاف جو جی چاہے بکتا رہے۔ اسے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ مرزا صاحب کو ایسی سزا نہ ملنے سے تو الٹا آپ کی نبوت کی تردید ہو جاتی ہے۔
قادیانیوں کی طرف سے آپ کی نبوت پر دلائل اور ان کا جواب :۔
مرزائی حضرات نبوت کے اجراء کے لئے ایک عقلی دلیل بھی دیا کرتے ہیں کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جس کے لوگ ہر وقت محتاج ہیں۔ بالخصوص آج کے دور انحطاط میں تو ایسی رحمت کی اشد ضرورت ہے۔ لہٰذا خاتم کے معنی مہر تصدیق ہونا چاہئیں۔ یعنی اس نبی کی نبوت درست ہو گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہو اور آپ کی شریعت کا متبع ہو۔ اس دلیل کے جوابات درج ذیل ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ اور ساتھ ہی فرما دیا کہ: ﴿وَكَان اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا یعنی اللہ تعالیٰ اس بات کو بھی خوب جانتا ہے کہ آئندہ تاقیامت کسی نبی کو بھیجنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
2۔ یہ دلیل جو کچھ بھی ہے بہرحال ایک عقلی دلیل ہے۔ اور نص کے مقابلہ میں قیاس یا عقل کے گھوڑے دوڑانا حرام ہے۔
3۔ ان حضرات کا دعوائے ضرورت اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واشگاف الفاظ میں بتادیا کہ ”میری امت میں سے ایک فرقہ تاقیامت حق پر قائم رہے گا“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سا گروہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ [ترمذي۔ كتاب الايمان۔ باب الافتراق هذه الامة]
گویا آج صرف دیکھنے کا کام یہ ہے کہ وہ کون سا فرقہ یا گروہ ہے جو صرف کتاب و سنت سے رہنمائی لیتا ہے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتا نہ کتاب و سنت کے مقابلہ میں کسی دوسری شخصیت کا قول یا فتویٰ قبول کرتا ہے اور نہ ہی دین میں کوئی نئی بات، خواہ عقیدہ سے تعلق رکھتی ہو یا عمل سے، شامل کرتا ہے۔ اور ایسے گروہ کی موجودگی کسی نئے نبی کی آمد کی ضرورت کو ختم کر دیتی ہے۔ اور ایسا فرقہ چونکہ تاقیامت باقی رہے گا لہٰذا تاقیامت کسی نبی کی ضرورت باقی نہ رہی۔ نئے نبی کی ضرورت کس صورت میں ہوتی ہے: علاوہ ازیں انبیاء کی بعثت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ سابقہ قومیں یا امتیں کتاب اللہ میں تحریف کر ڈالتی ہیں یا ان میں علمائے امت کے اقوال اور الحاقی مضامین شامل کر کے کتاب اللہ کو گڈ مڈ کر دیتی ہیں نبی کا کام یہ ہوتا ہے کہ جو سچی الہامی تعلیم ہوتی ہے اس کی نشاندہی کرتا اور اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ دیتا ہے۔ لیکن امت مسلمہ میں یہ صورت بھی نہیں ان کے پاس کتاب اللہ اسی صورت میں موجود اور محفوظ ہے جس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ پھر کتاب اللہ کے علاوہ اس کی تشریح و تفسیر بھی، جسے حدیث یا سنت کہا جاتا ہے، امت کے پاس موجود اور محفوظ ہے۔ تو پھر آخر کسی نئے نبی کی ضرورت بھی کیا تھی؟ کیا یہی کہ وہ کتاب اللہ پر ایمان رکھنے والوں میں انتشار ڈال دے اور باقی سب مسلمانوں پر کفر کے فتوے صادر کرنے لگے؟
[67] یعنی وہ ان لوگوں کے اعمال سے خوب واقف ہے جنہوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ اور وہ اپنے احکام کی مصلحتوں کو بھی خوب جانتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
ان کی تعریف ہو رہی ہے جو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے پیغام پہنچاتے ہیں اور امانت اللہ کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہیں کرتے، کسی کی سطوت و شان سے مرعوب ہو کر پیغام اللہ کا پہنچانے میں خوف نہیں کھاتے۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کافی ہے۔ اس منصب کی ادائیگی میں سب کے پیشوا بلکہ ہر اک امر میں سب کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
خیال فرمائیے کہ مشرق و مغرب کے ہر ایک بنی آدم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے دین کی تبلیغ کی۔ اور جب تک اللہ کا دین چار دانگ عالم میں پھیل نہ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مشقت کے ساتھ اللہ کے دین کی اشاعت میں مصروف رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم ہی کی طرف آتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی طرف اللہ کے رسول بن کر آئے تھے۔
قرآن میں فرمان الٰہی ہے کہ «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» ۱؎ [7-الأعراف:158]‏‏‏‏ ’ لوگوں میں اعلان کر دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ «سَلَامٌ عَلَیْهِ» ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منصب تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ملا۔ ان میں سب کے سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں رضوان اللہ علیہم۔ جو کچھ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا، سب کچھ بعد والوں کو سکھا دیا۔ تمام اقوال و افعال جو احوال دن اور رات کے، سفر و حضر کے، ظاہر و پوشیدہ دنیا کے سامنے رکھ دئیے۔ اللہ ان پر اپنی رضا مندی نازل فرمائے۔
پھر ان کے بعد والے ان کے وارث ہوئے اور اسی طرح پھر بعد والے اپنے سے پہلے والوں کے وارث بنے اور اللہ کا دین ان سے پھیلتا رہا۔ اور قرآن و حدیث لوگوں تک پہنچتے رہے ہدایت والے ان کی اقتداء سے منور ہوتے رہے اور توفیق خیر والے ان کے مسلک پر چلتے رہے۔ اللہ کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان میں سے کر دے۔
مسند احمد میں ہے { تم میں سے کوئی اپنا آپ ذلیل نہ کرے۔ لوگوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے! فرمایا: { خلاف شرع کام دیکھ کر، لوگوں کے خوف کے مارے خاموش ہو رہے۔ قیامت کے دن اس سے بازپرس ہوگی کہ تو کیوں خاموش رہا؟ یہ کہے گا کہ لوگوں کے ڈر سے۔‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ سب سے زیادہ خوف رکھنے کے قابل تو میری ذات تھی ‘ } }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4008، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پھر اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ ’ کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ کہا جائے ‘۔ لوگ جو زید بن محمد کہتے تھے جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زید کے والد نہیں ‘۔
یہی ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد بلوغت کو پہنچی ہی نہیں۔ قاسم، طیب اور طاہر تین بچے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے، ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک بچہ ہوا جس کا نام ابراہیم لیکن یہ بھی دودھ پلانے کے زمانے میں ہی انتقال کر گئے۔ آپ کی لڑکیاں خدیجہ سے چار تھیں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین ان میں سے تین تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی رحلت فرما گئیں صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ ماہ بعد ہوا۔
پھر فرماتا ہے ’ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں ‘۔ جیسے فرمایا «اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» ۱؎ [6-الأنعام:124]‏‏‏‏ ’ اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھتا ہے ‘۔ یہ آیت نص ہے اس امر پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جب نبی ہی نہیں تو رسول کہاں؟ کوئی نبی، رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آئے گا۔ رسالت تو نبوت سے بھی خاص چیز ہے۔ ہر رسول نبی ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں۔
متواتر احادیث سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ختم الانبیاء ہونا ثابت ہے۔ بہت سے صحابہ سے یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا اور پورا مکان بنایا لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چاروں طرف سے دیکھتے بھالتے اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے لیکن کہتے کیا اچھا ہو تاکہ اس اینٹ کی جگہ پُر کر لی جاتی۔ پس میں نبیوں میں اسی اینٹ کی جگہ ہوں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3613، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ امام ترمذی بھی اس حدیث کو لائے ہیں اور اسے حسن صحیح کہا ہے۔
مسند احمد میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { رسالت اور نبوت ختم ہوگئی، میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ نبی }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم پر یہ بات گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { لیکن خوش خبریاں دینے والے }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا خوشخبریاں دینے والے کیا ہیں۔ فرمایا: { مسلمانوں کے خواب جو نبوت کے اجزأ میں سے ایک جز ہیں } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2272، قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث بھی ترمذی شریف میں ہے اور امام ترمذی اسے صحیح غریب کہتے ہیں۔
محل کی مثال والی حدیث ابوداؤد طیالسی میں بھی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ { میں اس اینٹ کی جگہ ہوں مجھ سے انبیاء علیہم الصلوۃ السلام ختم کئے گئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3534]‏‏‏‏ اسے بخاری، مسلم اور ترمذی بھی لائے ہیں۔
مسند کی اس حدیث کی ایک سند میں ہے کہ { میں آیا اور میں نے اس خالی اینٹ کی جگہ پر کر دی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2286]‏‏‏‏
مسند میں ہے { { میرے بعد نبوت نہیں مگر خوشخبری والے }۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہیں؟ فرمایا: { اچھے خواب } یا فرمایا: { نیک خواب } }۔ ۱؎ [مسند احمد:454/5:صحیح]‏‏‏‏
عبدالرزاق وغیرہ میں محل کی اینٹ کی مثال والی حدیث میں ہے کہ { لوگ اسے دیکھ کر محل والے سے کہتے ہیں کہ تو نے اس اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی؟ پس میں وہ اینٹ ہوں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3535]‏‏‏‏
صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے تمام انبیاء پر چھ فضیلتیں دی گئی ہیں، مجھے جامع کلمات عطا فرمائے گئے ہیں۔ صرف رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا۔ میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو بنائی گئی، میں ساری مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور میرے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا گیا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:523]‏‏‏‏ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
صحیح مسلم وغیرہ میں محل مثال والی روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ { میں آیا اور میں نے اس اینٹ کی جگہ پوری کر دی }۔
مسند میں ہے { میں اللہ کے نزدیک نبیوں کا علم کرنے والا تھا اس وقت جبکہ آدم علیہ السلام پوری طور پر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے }۔ ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح]‏‏‏‏
اور حدیث میں ہے { میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں اللہ تعالیٰ میری وجہ سے کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں تمام لوگوں کا حشر میرے قدموں تلے ہو گا اور میں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی نبی نہیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3532]‏‏‏‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں { ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کر رہے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا: { میں امی نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میں فاتح کلمات دیا گیا ہوں جو نہایت جامع اور پورے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جہنم کے داروغے کتنے ہیں اور عرش کے اٹھانے والے کتنے ہیں۔ میرا اپنی امت سے تعارف کرایا گیا ہے۔ جب تک میں تم میں ہوں میری سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ۔ جب میں رخصت ہو جاؤں تو کتاب اللہ کو مضبوط تھام لو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھو } }۔ ۱؎ [مسند احمد:172/2:ضعیف]‏‏‏‏
اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس وسیع رحمت پر اس کا شکر کرنا چاہیئے کہ اس نے اپنے رحم و کرم سے ایسے عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا اور انہیں ختم المرسلین اور خاتم الانبیاء بنایا اور یکسوئی والا، آسان، سچا اور سہل دین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کمال کو پہنچایا۔
رب العالمین نے اپنی کتاب میں اور رحمتہ للعالمین نے اپنی متواتر احادیث میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، مفتری، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ گو وہ شعبدے دکھائے اور جادوگری کرے اور بڑے کمالات اور عقل کو حیران کر دینے والی چیزیں پیش کرے اور طرح طرح کی بے رنگ یاں دکھائے لیکن عقلمند جانتے ہیں کہ یہ سب فریب دھوکہ اور مکاری ہے۔
یمن کے مدعی نبوت عنسی اور یمانہ کے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کو دیکھ لو کہ دنیا نے انہیں جیسے یہ تھے سمجھ لیا اور ان کی اصلیت سب پر ظاہر ہو گئ۔ یہی حال ہو گا ہر اس شخص کا جو قیامت تک اس دعوے سے مخلوق کے سامنے آئے گا کہ اس کا جھوٹ اور اس کی گمراہی سب پر کھل جائے گی۔ یہاں تک کہ سب سے آخری دجال مسیح آئے گا۔ اس کی علامتوں سے بھی ہر عالم اور ہر مومن اس کا کذاب ہونا جان لے گا پس یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے کہ ایسے جھوٹے دعوے داروں کو یہ نصیب ہی نہیں ہوتا کہ وہ نیکی کے احکام دیں اور برائی سے روکیں۔ ہاں جن احکام میں ان کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے ان پر بہت زورر دیتے ہیں۔ ان کے اقوال، افعال افترا اور فجور والے ہوتے۔
جیسے فرمان باری ہے۔ «هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ» ۱؎ [26-الشعراء:222-221]‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطن کن کے پاس آتے ہیں؟ ہر ایک بہتان باز گنہگار کے پاس ‘۔
سچے نبیوں کا حال اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے وہ نہایت نیکی والے، بہت سچے ہدایت والے، استقامت والے، قول و فعل کے اچھے، نیکیوں کا حکم دینے والے، برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اللہ کی طرف سے ان کی تائید ہوتی ہے۔ معجزوں سے اور خارق عادت چیزوں سے ان کی سچائی اور زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ اور اس قدر ظاہر واضح اور صاف دلیلیں ان کی نبوت پر ہوتی ہیں کہ ہر قلب سلیم ان کے ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے تمام سچے نبیوں پر قیامت تک درود سلام نازل فرماتا رہے۔