ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 18

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ ﴿ۚ۱۸﴾
اور لوگوں کے لیے اپنا رخسار نہ پھلا اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔ En
اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا۔ کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا
En
لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ: صَعَرٌ} اونٹ کو لگنے والی ایک بیماری، جس سے وہ اپنی گردن ایک طرف پھیرے رکھتا ہے۔ اس سے باب تفعیل تکلف کے لیے ہے۔ یعنی تکلف سے ایک طرف منہ پھیرے رکھنا۔ یہ انداز حقارت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عمرو بن حُنَیّ تغلبی نے اپنے بعض بادشاہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
{وَ كُنَّا إِذَا الْجَبَّارُ صَعَّرَ خَدَّهُ
أَقَمْنَا لَهُ مِنْ مَيْلِهِ فَتَقَوَّمَا}
اور ہم ایسے تھے کہ جب کسی جبار نے اپنا رخسار ٹیڑھا کیا، تو ہم نے اس کی ٹیڑھ سیدھی کر دی، سو تو بھی سیدھا ہو جا۔ ({فَتَقَوَّمَا} امر كا صيغہ ہے (ابو عبید) اور آخر ميں الف اشباع كے ليے ہے)
➋ احکام کی وصیت کے بعد لقمان علیہ السلام نے چند آداب و اخلاق کی وصیت فرمائی، فرمایا لوگوں کے لیے اپنا رخسار ٹیڑھا نہ رکھ، یعنی انھیں حقیر سمجھ کر ایسا نہ کر جیسے متکبر اور مغرور لوگ کرتے ہیں، بلکہ تواضع اور نرمی اختیار کر، جیسا کہ عقل مند لوگوں کا شیوہ ہے۔ تحقیر کے اس انداز سے منع کرنے میں زبان یا ہاتھ کے ساتھ کسی کی تحقیر سے منع کرنا بالاولیٰ شامل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا: «‏‏‏‏{فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۲۳] ماں باپ کو اُف نہ کہو۔ مراد کسی بھی طرح تکلیف پہنچانے سے منع کرنا ہے۔
➌ {وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا:} یہاں ایک سوال ہے کہ چلا زمین ہی پر جاتا ہے، پھر خاص طور پر اس کا ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ تمام لوگوں کی طرح اس زمین سے تمھاری پیدائش ہے، اسی میں تم نے دفن ہونا ہے اور دوسرے تمام لوگ بھی اسی زمین پر چل رہے ہیں، پھر تمھارا دوسروں کو حقیر اور اپنے آپ کو ان سے برتر سمجھنا اور اکڑ کر چلنا تمھیں کس طرح زیب دیتا ہے؟ (واللہ اعلم) سورۂ بنی اسرائیل (۳۷) میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
➍ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۳۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18-1یعنی تکبر نہ کر کہ لوگوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے ہم کلام ہوں تو ان سے منہ پھیر لے۔ یا گفتگو کے وقت اپنا منہ پھیرے رکھے؛ صعر ایک بیماری ہے جو اونٹ کے سر یا گردن میں ہوتی ہے، جس سے اس کی گردن مڑ جاتی ہے، یہاں بطور تکبر منہ پھیر لینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے (ابن کثیر) 18-2یعنی ایسی چال یا رویہ جس سے مال ودولت یا جاہ و منصب یا قوت و طاقت کی وجہ سے فخر و غرور کا اظہار ہوتا ہو، یہ اللہ کو ناپسند ہے، اس لیے کہ انسان ایک بندہ عاجز وحقیر ہے، اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عاجزی وانکساری ہی اختیار کیے رکھے اس سے تجاوز کر کے بڑائی کا اظہار نہ کرے کہ بڑائی صرف اللہ ہی کے لیے زیبا ہے جو تمام اختیارات کا مالک اور تمام خوبیوں کا منبع ہے۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔ جو تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے چلے اللہ اس کی طرف قیامت والے دن نہیں دیکھے گا۔ تاہم تکبر کا اظہار کیے بغیر اللہ کے انعامات کا ذکر یا اچھا لباس اور خوراک وغیرہ کا استعمال جائز ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور (از راہ تکبر) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا، نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلنا (کیونکہ) اللہ کسی خود پسند [24] اور شیخی خور کو پسند نہیں کرتا
[24] متکبرانہ حرکات:۔
گال پھلا پھلا کر باتیں کرنا اور اکڑ اکڑ چلنا یہ سب خود پسندوں اور متکبروں کی ادائیں ہیں۔ متکبر لوگوں کی گفتگو سے، وضع قطع سے، چال ڈھال سے غرضیکہ ان کی ایک ایک ادا سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو دوسروں کے مقابلہ میں بہت کچھ سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ایک ایک حرکت سخت ناگوار ہے [مزيد تشريح كے لئے ديكهئے سورة بني اسرائيل كي آيت نمبر 37 كا حاشيه نمبر 47 اور سورة الفرقان كي آيت نمبر 63 كا حاشيه نمبر 80]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔