(آیت 51) {وَلَىِٕنْاَرْسَلْنَارِيْحًا …:} یعنی اگر ہم کوئی سخت سرد یا گرم ہوا بھیج دیں، جس سے ان کے کھیت زرد پڑجائیں تو وہ ناشکری کرنے لگ جائیں گے اور پہلی نعمت سے بھی مکر جائیں گے۔ اس میں کافر اور دنیا دار مسلمان کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس وقت وہ خوش تو بہت ہوتا ہے مگر اللہ کا شکر پھر بھی ادا نہیں کرتا اور جب کوئی نعمت چھنتی ہے تو اس وقت اسے اللہ یاد تو آتا ہے مگر صبر و شکر کے لیے نہیں، بلکہ کفر اور ناشکری کے کلمات کا ہدف بنانے کے لیے۔ نعمت ملنے پر اللہ کا احسان ماننے کے لیے تو قطعاً تیار نہ تھا، زوالِ نعمت پر اور بھی برگشتہ ہو گیا اور اللہ کو کوسنے لگ گیا کہ اس نے ہم پر یہ کیسی مصیبت ڈال دی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51-1یعنی ان ہی کھیتوں کو جن کو ہم نے بارش کے ذریعے سے شاداب کیا تھا، اگر سخت (گرم یا ٹھنڈی) ہوائیں چلا کر ان کی ہریالی کو زردی میں بدل دیں، یعنی تیار فصل کو تباہ کردیں تو یہی بارش سے خوش ہونے والے اللہ کی ناشکری پر اتر آئیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کو نہ ماننے والے صبر اور حوصلے سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ذرا سی بات پر مارے خوشی کے پھولے نہیں سماتے اور ذراسی ابتلا پر فوراً ناامید اور گریہ کنا ہوجاتے ہیں۔ اہل ایمان کا معاملہ دونوں حالتوں میں ان سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ تفصیل گزر چکی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اور اگر ہم ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پڑتا دیکھیں تو اس کے بعد [57] وہ کفر بکنے لگ جاتے ہیں۔
[57] نعمت اور زوال نعمت پر ایک دنیا دار کا کردار:۔
پھر اس کے بعد جب خزاں کا موسم آتا ہے۔ اور نباتات سرد پڑنے لگتی ہے تو انسان پھر سے مایوس ہو جاتا ہے اور اللہ کے حق میں کفریہ کلمات بکنے اور شکوے شکایات کرنے لگ جاتا ہے۔ ان آیات میں دراصل ایک دنیادار اور خدا فراموش انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی دنیا دار پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس وقت خوش تو ہوتا ہے مگر اللہ کا شکر پھر بھی ادا نہیں کرتا اور جب نعمت کے زوال کا وقت آتا ہے تو اس وقت اسے اللہ یاد تو آتا ہے مگر شکر گزاری کے لئے نہیں بلکہ اسے کفریہ اور نا شکری کے کلمات کا ہدف بنانے کے لئے۔ نعمت ملنے پر اللہ کا احسان ماننے کے لئے تو قطعاً تیار نہ تھا۔ زوال نعمت پر اور بھی برگشتہ ہو گیا اور اللہ کو کو سنے لگ گیا کہ اس نے ہم پر کیسی یہ مصیبت ڈال دی ہے۔ ان آیات میں ایک لطیف اشارہ بھی پایا جاتا ہے۔ یعنی جب اللہ کے رسول اس کی طرف سے پیام رحمت لاتے ہیں تو لوگ اس کی بات نہیں مانتے اور اس نعمت کو ٹھکرا دیتے ہیں پھر جب ان کے کفر کی پاداش میں اللہ تعالیٰ ان پر ظالموں اور جباروں کو مسلط کر دیتا ہے اور وہ جو ظلم و ستم ڈھاتے ہیں تو وہی لوگ اللہ کو گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں اور اس پر الزام یہ دیتے ہیں کہ اس نے کسی ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا بنا ڈالی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔