ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 25

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ بِاَمۡرِہٖ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمۡ دَعۡوَۃً ٭ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ ٭ۖ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ ﴿۲۵﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وہ تمھیں زمین سے ایک ہی دفعہ پکارے گا تو اچانک تم نکل آؤ گے۔ En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین میں سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے
En
اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب وه تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ:} اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، اب فرماتے ہیں کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ اتنے عظیم آسمان و زمین اور ان میں موجود سورج، چاند اور ستارے کسی ستون یا تھامنے والی چیز کے بغیر محض اس کے امر کے ساتھ اپنی اپنی جگہ قائم ہیں اور اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ [الأنبیاء: ۳۳] سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔ اس نے ہر ایک میں اپنی کمال حکمت کے ساتھ نہایت باریک اور درست حساب کے ساتھ جذب و دفع کی ایسی قوت رکھ دی ہے کہ کوئی دو جسم آپس میں نہیں ٹکراتے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نظام میں کبھی باہمی تصادم نہیں ہوتا۔ اگر اس کا حکم نہ ہو تو نہ آسمان اپنی جگہ قائم رہ سکے اور نہ زمین۔ دیکھیے سورۂ حج (۶۵) اور سورۂ فاطر (۴۱)۔
➋ { ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً…:} پھر یہ نہ سمجھو کہ یہ نظام دائمی یا ابدی ہے اور جو مر گیا ہمیشہ مردہ ہی رہے گا۔ نہیں، پھر ({ثُمَّ}) ایک وقت آرہا ہے جب وہ تمھارے زمین میں دفن ہونے کی حالت میں تمھیں ایک ہی آواز دے گا تو تم یک لخت زمین سے باہر نکل آؤ گے۔ مراد اس سے دوسرا نفخہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ [الزمر: ۶۸] پھر اس (صور) میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (۵۲)، یٰس(۵۳) اور نازعات (۱۳، ۱۴)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25-1یعنی جب قیامت برپا ہوگی تو آسمان و زمین کا یہ سارا نظام، جو اس وقت اس کے حکم سے قائم ہے، درہم برہم ہوجائے گا اور تمام انسان قبروں سے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور (اس کی نشانیوں میں سے) ایک یہ کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے (بلا ستون) قائم [23] ہیں۔ پھر جب وہ تمہیں ایک ہی دفعہ زمین میں سے [24] پکارے گا تو تم زمین سے نکل کھڑے ہو گے۔
[23] ستاروں کی گردش پر کنٹرول کرنے والی ہستی کا وجوب:۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں آسمان اور زمین کا ذکر کیا تو اس سے مراد کائنات کا نظام ہوتا ہے۔ جس میں لاتعداد اجرام فلکی محو گردش ہیں۔ اور موجودہ نظریہ کے مطابق ہماری زمین اور چاند اور کئی دیگر سیارے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ عموماً سمجھا یہ جاتا ہے کہ ہر سیارے کی کشش ثقل اسے ایک مخصوص مقام پر جکڑے ہوئے ہے۔ مگر بات صرف اتنی نہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں سورج ہی سب سے بڑا ستارہ اور سیارہ ہے۔ لہٰذا اس کی کشش ثقل یا قوت جاذبہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ ہر سیارہ کو اپنی طرف کھینچ لے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی ایسی مقتدر اور قادر مطلق ایسی ہستی موجود ہو جو باوجود قوت جاذبہ کی کشش کے ان سیاروں کو اپنے اپنے مدارات پر قائم رکھ سکے کوئی سبب طبیعی ایسا نہیں بتلایا جا سکتا جس نے تمام کواکب کو کھلی فضا میں جکڑ بند کر دیا ہے کہ وہ سب سورج کے گرد چکر لگانے میں ہمیشہ معین مدارات پر ایک خاص حیثیت میں بھی حرکت کریں جس میں کبھی تخلف نہ ہو۔ پھر کواکب کی حرکات اور درجات سرعت میں ان کی اور سورج کی درمیانی مسافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو دقیق تناسب اور عمیق توازن قائم رکھا گیا ہے کوئی سبب طبیعی نہیں جن سے ان منظم و مربوط سیاروں کو وابستہ کر سکیں۔ ناچار اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ سارا نظام کسی ایسے زبردست حکیم و علیم کے تحت ہے جو ان تمام اجرام سماویہ کے مواد اور ان کی ماہیت سے پورا واقف ہے وہ جانتا ہے کہ کسی مادہ کی کس قدر مقدار سے کتنی قوت جاذبہ صادر ہو گی اس نے اپنے زبردست اندازہ سے کواکب اور سورج کے درمیان مختلف مسافتیں اور حرکت کے مختلف مدارج مقرر کئے ہیں تاکہ ایک دوسرے سے تصادم اور تزاحم نہ ہو اور سارا عالم ٹکرا کر تباہ نہ ہو جائے۔
[24] اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسرافیل کے صور پھونکنے کو اپنی پکار سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی جتنے انسان مر چکے یا قیام قیامت تک مریں گے۔ سب اللہ کی ایک پکار پر اپنی اپنی قبروں سے زندہ ہو کر میدان محشر کی طرف چل کھڑے ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیام ارض و سما ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت پر دلالت کرنے والی ایک اور نشانی بیان کی جا رہی ہے کہ ’ آسمانوں پر اس کے حکم سے بجلی کوندتی ہے جسے دیکھ کر کبھی تمہیں دہشت لگنے لگتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کڑک کسی کو ہلاک کر دے ‘ کہیں بجلی گرے وغیرہ ’ اور کبھی تمہیں امید بندھتی ہے کہ اچھا ہوا اب بارش برسے گی پانی کی ریل پیل ہو گی ترسالی ہو جائے گی ‘ وغیرہ۔
وہی ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اس زمین کو جو خشک پڑی ہوئی تھی جس پر نام نشان کی کوئی ہریاول نہ تھی مثل مردے کے بے کار تھی اس بارش سے وہ زندہ کر دیتا ہے لہلانے لگتی ہے ہری بھری ہوجاتی ہے اور طرح طرح کی پیدوار اگادیتی ہے۔ عقل مندوں کے لئے عظمت اللہ کی یہ ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ وہ اس نشان کو دیکھ کر یقین کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو زندہ کرنے والا ہماری موت کے بعد ہمیں بھی از سر نو زندہ کر دینے پر قادر ہے۔
اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ زمین و آسمان اسی کے حکم سے قائم ہیں وہ آسمان کو زمین پر گرنے نہیں دیتا اور آسمان و زمین کو تھامے ہوئے ہے اور انہیں زوال سے بچائے ہوئے ہے۔
سید ناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی تاکیدی قسم کھانا چاہتے تو فرماتے اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے زمین و آسمان ٹھہرے ہوئے ہیں۔‏‏‏‏ پھر قیامت کے دن وہ زمین و آسمان کو بدل دے گا مردے اپنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائنگے۔ خود اللہ انہیں آواز دے گا اور یہ صرف ایک آواز پر زندہ ہو کر اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہونگے۔
جیسے اور آیت میں ہے کہ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52]‏‏‏‏ ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی حمد کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی کم رہے ‘۔
اور آیت میں ہے «‏‏‏‏فَاِنَّمَا ھِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [79-النازعات:-14-13]‏‏‏‏ ’ صرف ایک ہی آواز سے ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہو جائے گی اور آیت میں ہے ‘ «اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِيْعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ» ۱؎ [36-يس:53]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تو صرف ایک آواز ہو گی جسے سنتے ہی سب کے سب ہمارے سامنے حاضر ہو جائیں گے ‘۔