وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا اور تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا الگ الگ ہونا ہے۔ بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا۔ اہلِ دانش کے لیے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے، دانش مندوں کے لئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ {وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: } یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور تمھیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی جو بہت سی نشانیوں پر مشتمل ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے، جس کے مقابلے میں تمھیں پہلی یا دوسری دفعہ پیدا کرنا بالکل ہی معمولی بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آنے والا زمین اور آسمانوں کا نظام اور ان میں موجود سورج چاند اور بے شمار وسیع و عریض سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کا سلسلہ جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے (دیکھیے ذاریات: ۴۷) رب تعالیٰ کی بے پایاں قدرتوں کی واضح نشانی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ }» [المؤمن: ۵۷] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہے، یا کسی اور کا اس میں کوئی حصہ ہے، یا کم از کم اسے پیدا کرنے کا کوئی دعوے دار ہی ہے تو سامنے لاؤ۔
➋ { وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی کائنات میں پایا جانے والا تنوع ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ دوسری چیز سے الگ پیدا کی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس تنوع میں سے صرف دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں، ایک انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا، دوسرا ان کے رنگوں کا مختلف ہونا۔ ایک مٹی اور ایک پانی سے پیدا ہونے والے انسانوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، جاپانی، ترکی، حبشی، چینی، روسی، فرانسیسی، جرمنی، سپینی، غرض ہر قوم کی الگ زبان ہے، پھر ہر زبان کی بے شمار ذیلی زبانیں ہیں۔ ان ذیلی زبانوں کے لہجے اور بعض الفاظ ہر چند میل کے فاصلے پر مختلف ہو جاتے ہیں۔ پھر بولتے وقت ایک ہی زبان مثلاً عربی یا انگلش میں بات کرتے ہوئے کسی ایک شخص کا لہجہ، آواز، ادائیگی، تیزی یا آہستگی، نرمی یا سختی، شیرینی یا تلخی دوسرے شخص سے نہیں ملتی، حتیٰ کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان تک ہر شخص جب بولتا ہے تو اس کا تکلم صرف اسی کو عطا ہوا ہے، جس سے وہ پوری بنی نوع انسان میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ اسے جاننے والا شخص پردے کے پیچھے اس کی بات سن کر پہچان لے گا کہ فلاں شخص بول رہا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ عجیب نشانی مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ اسے کسی شخص کا تکلم دے دیا جائے، تو وہ کروڑوں اربوں انسانوں میں سے جدا کر دے گا۔
اسی طرح انسانوں کے رنگوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ ایک ہی اصل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں کوئی سفید ہے، کوئی گندمی، کوئی سیاہ، کوئی سرخ، کوئی زرد اور کوئی ان کے درمیان۔ پھر کمال یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی رنگ، مثلاً سیاہ رنگ والے ایک انسان کا رنگ دوسرے سیاہ فام انسان کے رنگ سے نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے رنگ میں اتنی قسمیں رکھ دی ہیں کہ ہر سیاہ کا رنگ دوسرے سیاہ کے رنگ سے اور ہر سفید کا رنگ دوسرے سفید کے رنگ سے مختلف ہے۔ کسی شخص کی آنکھوں کی پتلی کی رنگت اور ساخت دوسرے شخص کی آنکھ کی رنگت اور ساخت سے نہیں ملتی۔ کسی ایک شخص کے بالوں کا سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ دوسرے کے سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ سے نہیں ملتا۔ کسی شخص کی جسمانی ساخت اور اس کے ہاتھ پاؤں کی لکیریں دوسرے شخص سے نہیں ملتیں، جب کہ دیکھنے میں سب انسان ہیں۔ تخلیق کا یہ باریک ترین اور عظیم ترین سلسلہ کیا اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رب قدیر کی قدرت کا شاہکار ہے؟ جس نے جو چاہا پیدا کر دیا، جو پیدا کیا خوب صورت پیدا کیا اور بے مثال اور لاجواب پیدا کیا۔ عقل سے کتنے خالی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا، یا کہتے ہیں کہ دو خالقوں یا مالکوں کی موجودگی میں یہ نظام چل رہا ہے، یا کہتے ہیں کہ اتنی عظیم قدرتوں کا مالک مٹی ہو جانے کے بعد انسانوں کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا!؟
پھر تنوع کے اس سلسلے کو ذرا پھیلا کر دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ }» [الرعد: ۴] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ زمین سے پیدا ہونے والی ہر جنس، حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، ان کی ہر قسم دوسری قسم سے جدا ہے، مثلاً گائے بکری سے جدا ہے، آم کا درخت جامن سے جدا ہے، گندم جو سے الگ ہے، لوہا تانبے سے الگ ہے۔ پھر لامحدود تنوع دیکھیے کہ ہر درخت کا ہر پتا اسی درخت کے دوسرے پتے سے الگ ہے۔ ذرا اس کی لکیروں پر غور کرو، ہر ایک کی لکیریں دوسرے کی لکیروں سے الگ ہیں۔ دیکھنے میں تمام درخت اور تمام پودے سبز ہیں، مگر ہر ایک کو دوسرے سے الگ سبز رنگ عطا ہوا ہے۔ صرف درخت ہی نہیں چرندوں، پرندوں، درندوں اور آبی جانوروں میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ رنگوں کا یہ اختلاف ہی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی قدرت کی کافی دلیل ہے۔
➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ:} یعنی آسمان و زمین کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرتوں کی پہچان ہر ایرے غیرے کا کام نہیں، ان نشانیوں کی پہچان علم والوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ }» [العنکبوت: ۴۳] ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور اس کی خشیت صرف علماء کا حصہ ہونا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِيْبُ سُوْدٌ (47) وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ }» [فاطر: ۲۷، ۲۸] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ سب پرغالب، بے حد بخشنے والا ہے۔“
➋ { وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی کائنات میں پایا جانے والا تنوع ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ دوسری چیز سے الگ پیدا کی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس تنوع میں سے صرف دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں، ایک انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا، دوسرا ان کے رنگوں کا مختلف ہونا۔ ایک مٹی اور ایک پانی سے پیدا ہونے والے انسانوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، جاپانی، ترکی، حبشی، چینی، روسی، فرانسیسی، جرمنی، سپینی، غرض ہر قوم کی الگ زبان ہے، پھر ہر زبان کی بے شمار ذیلی زبانیں ہیں۔ ان ذیلی زبانوں کے لہجے اور بعض الفاظ ہر چند میل کے فاصلے پر مختلف ہو جاتے ہیں۔ پھر بولتے وقت ایک ہی زبان مثلاً عربی یا انگلش میں بات کرتے ہوئے کسی ایک شخص کا لہجہ، آواز، ادائیگی، تیزی یا آہستگی، نرمی یا سختی، شیرینی یا تلخی دوسرے شخص سے نہیں ملتی، حتیٰ کہ آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان تک ہر شخص جب بولتا ہے تو اس کا تکلم صرف اسی کو عطا ہوا ہے، جس سے وہ پوری بنی نوع انسان میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ اسے جاننے والا شخص پردے کے پیچھے اس کی بات سن کر پہچان لے گا کہ فلاں شخص بول رہا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ عجیب نشانی مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ اسے کسی شخص کا تکلم دے دیا جائے، تو وہ کروڑوں اربوں انسانوں میں سے جدا کر دے گا۔
اسی طرح انسانوں کے رنگوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ ایک ہی اصل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں کوئی سفید ہے، کوئی گندمی، کوئی سیاہ، کوئی سرخ، کوئی زرد اور کوئی ان کے درمیان۔ پھر کمال یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی رنگ، مثلاً سیاہ رنگ والے ایک انسان کا رنگ دوسرے سیاہ فام انسان کے رنگ سے نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے رنگ میں اتنی قسمیں رکھ دی ہیں کہ ہر سیاہ کا رنگ دوسرے سیاہ کے رنگ سے اور ہر سفید کا رنگ دوسرے سفید کے رنگ سے مختلف ہے۔ کسی شخص کی آنکھوں کی پتلی کی رنگت اور ساخت دوسرے شخص کی آنکھ کی رنگت اور ساخت سے نہیں ملتی۔ کسی ایک شخص کے بالوں کا سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ دوسرے کے سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ سے نہیں ملتا۔ کسی شخص کی جسمانی ساخت اور اس کے ہاتھ پاؤں کی لکیریں دوسرے شخص سے نہیں ملتیں، جب کہ دیکھنے میں سب انسان ہیں۔ تخلیق کا یہ باریک ترین اور عظیم ترین سلسلہ کیا اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رب قدیر کی قدرت کا شاہکار ہے؟ جس نے جو چاہا پیدا کر دیا، جو پیدا کیا خوب صورت پیدا کیا اور بے مثال اور لاجواب پیدا کیا۔ عقل سے کتنے خالی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خود بخود ہو گیا، یا کہتے ہیں کہ دو خالقوں یا مالکوں کی موجودگی میں یہ نظام چل رہا ہے، یا کہتے ہیں کہ اتنی عظیم قدرتوں کا مالک مٹی ہو جانے کے بعد انسانوں کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا!؟
پھر تنوع کے اس سلسلے کو ذرا پھیلا کر دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ }» [الرعد: ۴] ”اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔“ زمین سے پیدا ہونے والی ہر جنس، حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، ان کی ہر قسم دوسری قسم سے جدا ہے، مثلاً گائے بکری سے جدا ہے، آم کا درخت جامن سے جدا ہے، گندم جو سے الگ ہے، لوہا تانبے سے الگ ہے۔ پھر لامحدود تنوع دیکھیے کہ ہر درخت کا ہر پتا اسی درخت کے دوسرے پتے سے الگ ہے۔ ذرا اس کی لکیروں پر غور کرو، ہر ایک کی لکیریں دوسرے کی لکیروں سے الگ ہیں۔ دیکھنے میں تمام درخت اور تمام پودے سبز ہیں، مگر ہر ایک کو دوسرے سے الگ سبز رنگ عطا ہوا ہے۔ صرف درخت ہی نہیں چرندوں، پرندوں، درندوں اور آبی جانوروں میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ رنگوں کا یہ اختلاف ہی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی قدرت کی کافی دلیل ہے۔
➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ:} یعنی آسمان و زمین کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرتوں کی پہچان ہر ایرے غیرے کا کام نہیں، ان نشانیوں کی پہچان علم والوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ }» [العنکبوت: ۴۳] ”اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔“ رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور اس کی خشیت صرف علماء کا حصہ ہونا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِيْبُ سُوْدٌ (47) وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ }» [فاطر: ۲۷، ۲۸] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ سب پرغالب، بے حد بخشنے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22-1دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کردینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں کوئی کالا، کوئی گورا اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف بولنے کے لہجے جدا جدا اور حتیّٰ کہ آواز بھی ایک دوسرے سے الگ الگ، ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ اور ایک یہ کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہاری زبانیں اور تمہارے رنگ مختلف [19] بنا دیئے۔ اہل علم کے لئے اس میں بھی کئی نشانیاں ہیں۔
[19] اختلاف اور یکسانیت کا امتزاج اللہ کی انفرادی توجہ پر دلالت کرتا ہے؟
سب سے پہلے تو انسان ایک ہی جیسے عناصر کا مرکب ہے پھر ایک کا منہ، زبان، گلا اور لب سب کچھ ایک جیسے ہیں لیکن آواز اور لب و لہجہ ہر شخص کا دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی آواز سریلی اور شیریں ہوتی ہے کسی دوسرے کی بھاری اور ناگوار۔ حالانکہ قوائے نطقیہ سب انسانوں کے ایک جیسے ہیں۔ پھر ہر ایک علاقہ اور ملک کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے کہیں عرب زبان بولی جاتی ہے، کہیں فارسی، کہیں انگریزی، کہیں پشتو، کہیں اردو غرض کہ سینکڑوں قسم کی زبانیں ہیں اور یہ انواع ہیں۔ پھر ایک ہی علاقہ میں چند میلوں کے فاصلہ پر ہی زبان میں ذیلی قسم کی تبدیلیاں اور محاورات میں اختلاف ہوتے ہیں جن میں فرق صرف اس علاقہ کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ پھر ہر علاقہ کی زبان کے ساتھ اس کے حروف تہجی میں ان کے مخارج میں اور لب و لہجہ میں اختلاف واقعہ ہوتا ہے یہی حال رنگوں کا ہے۔ کسی علاقہ کے لوگ سفید رنگ کے ہوتے ہیں کسی کے کالے، کسی کے سرخ، اور کسی کے گندمی رنگ کے، کہا جاتا کہ انسان کی جلد کے رنگ پر اس علاقہ کی مخصوص آب و ہوا کا اثر ہوتا ہے جس سے رنگت میں تبدیلی آجاتی ہے۔ یہ بات بھی صرف جزوی طور پر ہی تسلیم کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی ماں باپ اور ایک علاقہ ہوتا ہے۔ مگر اولاد کی رنگت میں فرق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس آیت میں صرف دو چیزوں لسان اور رنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر اور بھی بہت سے پہلو ہیں جن کے اختلافات واقع ہوتے ہیں مثلاً کسی علاقے کے لوگ بلند قدو قامت رکھتے ہیں، کہیں پست قامت ہوتے ہیں اور کہیں درمیانہ قد والے۔ اسی طرح کہیں لوگ چپٹی ناک والے ہوتے ہیں اور کہیں لمبوتری اور اونچی ناک والے مثلاً ایک ہی والدین کے اولاد کی شکلوں میں جو فرق ہوتا ہے اسے والدین اور قریبی رشتہ دار تو محسوس کر سکتے ہیں لیکن اجنبی لوگ ان میں یکسانیت ہی محسوس کرتے ہیں اور بعض دفعہ امتیاز بھی نہیں کر سکتے۔ ان سب باتوں سے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ رحم مادر میں پرورش پانے والا ہر جاندار اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ بے شمار ایسی باتیں ہیں جو رحم مادر میں ہی انسان کے حصہ میں آتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات ٭٭
رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایکجا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان، کر دوں، رومیوں، فرنگیوں، تکرونیوں، بربر، حبشیوں، ہندیوں، ایرانیوں، حقابلہ، آرمینوں، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں۔
انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔
کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔
نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔
طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» } میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]
انسانی زبانوں کے اختلاف کے ساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہو جائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے۔
کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہو گی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہو جائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آ جائے گا۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے۔
نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہو جاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لیے قدرت نے رات بنادی۔ کام کاج کے لیے دنیا حاصل کرنے کے لیے کمائی دھندے کے لیے تلاش معاش کے لیے اللہ نے دن کو پیدا کر دیا جو رات کے بالکل خلاف ہے۔ یقیناً سننے سمجھنے والوں کے لیے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں۔
طبرانی میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایا کرتی تھی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ دعا پڑھا کرو «اللَّهُمَّ غَارَتِ النُّجُومُ، وَهَدَأَتِ الْعُيُونُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَنِمْ عَيْنِي وَ أَهْدِئْ لَيْلِي» } میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1328،]