وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظۡہِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور اسی کے لیے سب تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور پچھلے پہر اور جب تم ظہر کے وقت میں داخل ہوتے ہو۔
En
اور آسمانوں اور زمین میں اُسی کی تعریف ہے۔ اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اُس وقت بھی نماز پڑھا کرو)
En
تمام تعریفوں کے ﻻئق آسمان وزمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ﻇہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو)
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) ➊ {وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} اس آیت میں {” وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ “} کا تعلق {” فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ “} کے ساتھ ہے۔ مسلسل عبارت یوں ہے: {” فَسُبْحَانَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَ عَشِيًّا وَّ حِيْنَ تُظْهِرُوْنَ۔“ ” وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “} کا جملہ درمیان میں معترضہ ہے، یعنی صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر خوبی کا مالک بھی وہی ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جہاں بھی خوبی کی کوئی بات ہے اس خوبی کا مالک اور اس پر حمد کا حق دار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سو تسبیح کے ساتھ تحمید کا فریضہ بھی ادا کرو۔
➋ نمازوں کے یہ پانچوں اوقات نظام عالم میں روزانہ برپا ہونے والی پانچ تبدیلیوں کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ شام کو آفتاب عالم تاب غروب ہوتا ہے، دن کی حکومت ختم ہوتی ہے، اس وقت نماز مغرب کا حکم ہے، پھر عشاء تک شفق کا راج ہوتا ہے۔ شفق غروب ہونے کے ساتھ سورج کا بقیہ اثر بھی ختم ہو کر رات کا اندھیرا مکمل ہو جاتا ہے، جس پر عشاء کی نماز کا حکم ہے۔ طلوع فجر کے ساتھ رات اپنا دامن سمیٹتی ہے، اس وقت فجر کی نماز کا حکم ہے۔ پھر سورج کی روشنی اور گرمی جب اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو ظہر کا حکم ہے اور آفتاب کی حرارت اور روشنی کمال کے بعد زردی میں بدلنا شروع ہوتی ہے تو عصر کی نماز کا حکم ہے۔ گویا ہر انقلاب عالم پر انقلاب لانے والے کے حضور سجدہ ریز ہونے کا حکم ہے۔
➋ نمازوں کے یہ پانچوں اوقات نظام عالم میں روزانہ برپا ہونے والی پانچ تبدیلیوں کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ شام کو آفتاب عالم تاب غروب ہوتا ہے، دن کی حکومت ختم ہوتی ہے، اس وقت نماز مغرب کا حکم ہے، پھر عشاء تک شفق کا راج ہوتا ہے۔ شفق غروب ہونے کے ساتھ سورج کا بقیہ اثر بھی ختم ہو کر رات کا اندھیرا مکمل ہو جاتا ہے، جس پر عشاء کی نماز کا حکم ہے۔ طلوع فجر کے ساتھ رات اپنا دامن سمیٹتی ہے، اس وقت فجر کی نماز کا حکم ہے۔ پھر سورج کی روشنی اور گرمی جب اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو ظہر کا حکم ہے اور آفتاب کی حرارت اور روشنی کمال کے بعد زردی میں بدلنا شروع ہوتی ہے تو عصر کی نماز کا حکم ہے۔ گویا ہر انقلاب عالم پر انقلاب لانے والے کے حضور سجدہ ریز ہونے کا حکم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18-1یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ذات مقدسہ کے لئے تسبیح وتحمید ہے، جس سے مقصد اپنے بندوں کی رہنمائی ہے کہ ان اوقات میں، جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور جو اس کے کمال قدرت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں، اس کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ شام کا وقت رات کی تاریکی کا پیش خیمہ اور سپیدہ سحر دن کی روشنی کا پیامبر ہوتا ہے۔ عشاء شدت تاریکی کا اور ظہر خوب روشن ہوجانے کا وقت ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جو ان سب کی خالق اور جس نے ان تمام اوقات میں الگ الگ فوائد رکھے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ تسبیح سے مراد، نماز ہے اور دونوں آیات میں مذکور اوقات پانچ نمازوں کے اوقت ہیں۔ تمسون میں مغرب و عشاء، تصبحون میں نماز فجر، عشیا (سہ پہر) میں عصر اور تظہرون میں نماز ظہر آجاتی ہے۔ ایک ضعیف حدیث میں ان دونوں آیات کو صبح وشام پڑھنے کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اس سے شب و روز کی کوتاہیوں کا ازالہ ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ آسمانوں اور زمین میں حمد اسی کو سزاوار ہے۔ نیز پچھلے پہر اور ظہر کے وقت بھی (اس کی تسبیح کرو)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خالق کل مقتدر کل ہے ٭٭
اس رب تعالیٰ کی کمال قدرت اور عظمت سلطنت پر دلالت اس کی تسبیح اور اس کی حمد سے ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی رہبری کرتا ہے اور اپنا پاک ہونا اور قابل حمد ہونا بھی بیان فرما رہا ہے۔ شام کے وقت جبکہ رات اپنے اندھیروں کو لے آتی ہے اور صبح کے وقت جبکہ دن اپنی روشنیوں کو لے آتا ہے۔ اتنا بیان فرما کر اس کے بعد کاجملہ بیان فرمانے سے پہلے ہی یہ بھی ظاہر کر دیا کہ زمین و آسمان میں قابل حمد و ثناء وہی ہے ان کی پیدائش خود اس کی بزرگی پر دلیل ہے۔
پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔
اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف]۔
پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔
خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34]۔
ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔
اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔
پھر صبح شام کے وقتوں کی تسبیح کا بیان جو پہلے گزرا تھا اس کے ساتھ عشاء اور ظہر کا وقت ملالیا۔ جو پور ے اندھیرے اور کامل اجالے کا وقت ہوتا ہے۔ بیشک تمام تر پاکیزگی اسی کو سزاوار ہے جو رات کے اندھیروں کو اور دن کے اجالوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا» ۱؎ [6-الأنعام:96] ’ صبح کا ظاہر کرنے والا رات کو سکون والی بنانے والا وہی ہے ‘۔
اس جیسی آیتیں اور بھی بہت سی ہیں۔ آیت «النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:-4-3] اور «ووَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ» ۱؎ [92-الليل:-2-1] ٰ اور «وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى» ۱؎ [93-الضحى:2-1] وغیرہ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا نام خلیل (وفادار) کیوں رکھا؟ اس لیے کہ وہ صبح شام ان کلمات کو پڑھاکرتے تھے }۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] سے «وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:18] تک کی دونوں آیتیں تلاوت فرمائیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:439/3:ضعیف]
طبرانی کی حدیث میں ان دونوں آیتوں کی نسبت ہے کہ { جس نے صبح و شام یہ پڑھ لیں اس نے دن رات میں جو چیز چھوٹ گئی اسے پا لیا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:5076،قال الشيخ الألباني:ضعیف]۔
پھر بیان فرمایا کہ ’ موت وزیست کا خالق مردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مردوں کو نکالنے والا وہی ہے ‘۔ ہر شئے پر اور اس کی ضد پر وہ قادر ہے دانے سے درخت، درخت سے دانے، مرغی سے انڈہ، انڈے سے مرغی، نطفے سے انسان، انسان سے نطفہ، مومن سے کافر، کافر سے مومن غرض ہرچیز اور اس کے مقابلہ کی چیز پر اسے قدرت حاصل ہے۔
خشک زمین کو وہی تر کردیتا ہے بنجر زمین سے وہی زراعت پیدا کرتا ہے جیسے سورۃ یاسین میں فرمایا کہ «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ» ’ خشک زمین کا تروتازہ ہو کرطرح طرح کے اناج وپھل پیدا کرنا بھی میری قدرت کا ایک کامل نشان ہے ‘ ۱؎ [36-يس:33-34]۔
ایک اور آیت میں ہے «وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ» [22-الحج:5-7] ’ تمہارے دیکھتے ہوئے اس زمین کو جس میں سے دھواں اٹھتا ہو دو بوند سے تر کر کے میں لہلہا دیتا ہوں اور ہر قسم کی پیداوار سے اسے سرسبز کر دیتا ہوں ‘۔
اور بھی بہت سی آیتوں میں اس مضمون کو کہیں مفصل کہیں مجمل بیان فرمایا۔ یہاں فرمایا ’ اسی طرح تم سب بھی مرنے کے بعد قبروں میں سے زندہ کر کے کھڑے کر دئیے جاؤ گے ‘۔