(آیت 16){ وَاَمَّاالَّذِيْنَكَفَرُوْاوَكَذَّبُوْابِاٰيٰتِنَا …:} عذاب میں حاضر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے بھاگنے کی کوشش کریں گے، مگر فرشتے انھیں مارتے پیٹتے، باندھتے گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لا حاضر کریں گے اور پھر وہ ہمیشہ اس میں حاضر رکھے جائیں گے، کبھی نکل نہیں سکیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16-1یعنی ہمیشہ اللہ کے عذاب کی گرفت میں رہیں گے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ایسے لوگوں کو عذاب [13] میں رکھا جائے گا۔
[13] اس دنیا میں گروہوں اور جماعتوں کی بنیاد یا قوم ہوتی ہے یا وطن یا رنگ یا زبان یا برادری یا مخصوص سیاسی عقائد وغیرہ لیکن قیامت میں ان کی گروہ بندی ان اصولوں کے مطابق ہو گی جو دین کے تقاضے ہیں۔ مثلاً اللہ کے نیک اور فرمانبردار بندوں کی ایک ہی جماعت ہو گی خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بستے ہوں البتہ یہ ممکن ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کا الگ الگ گروہ ہو۔ قیامت کے منکروں کی الگ جماعت ہو گی، مشرکوں کی الگ، منافقوں کی الگ۔ نیز یہ گروہ بندی بعض جرائم کے لحاظ سے بھی ہو گی۔ جیسے زانیوں کی الگ، ڈاکوؤں کی الگ، متکبروں کی الگ و غیر ذلک۔ ان میں سے صرف پہلا گروہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور وہاں ان کی عزت و تکریم اور تواضع بھی خوب ہو گی۔ باقی سب گروہ جہنم میں داخل ہوں گے گویا لوگوں کی اکثریت تو جہنم کا لقمہ بنے گی اور تھوڑے ہی لوگ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔