ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 99

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ تَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا وَّ اَنۡتُمۡ شُہَدَآءُ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۹﴾
کہہ دے اے اہل کتاب! تم اللہ کے راستے سے اس شخص کو کیوں روکتے ہو جو ایمان لے آیا، تم اس (راستے) میں کوئی نہ کوئی کجی تلاش کرتے ہو، حالانکہ تم گواہ ہو اور اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں جو تم کر رہے ہو۔ En
کہو کہ اہلِ کتاب تم مومنوں کو خدا کے رستے سے کیوں روکتے ہو اور باوجود یہ کہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمھارے کاموں سے بےخبر نہیں
En
ان اہل کتاب سے کہو کہ تم اللہ تعالیٰ کی راه سے لوگوں کو کیوں روکتے ہو؟ اور اس میں عیب ٹٹولتے ہو، حاﻻنکہ تم خود شاہد ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 98 میں تا آیت 100 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

99۔ 1 یعنی تم جانتے ہو کہ یہ دین اسلام حق ہے، اس کے داعی اللہ کے سچے پیغمبر ہیں کیونکہ یہ باتیں ان کتابوں میں درج ہیں جو تمہارے انبیاء پر اتریں اور جنہیں تم پڑھتے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ کہو: اے اہل کتاب! جو شخص ایمان لاتا ہے تم اسے اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو؟ [88] تم یہ چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست پر ہونے کے) گواہ ہو اور جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ ان سے بے خبر نہیں
[88] یہود کی اسلام دشمنی کا ایک طریقہ یہ تھا کہ جو شخص مسلمان ہونے لگتا اسے طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتے تھے۔ پہلی بات جو اسے ذہن نشین کرائی جاتی وہ یہ تھی کہ جس نبی آخر الزمان کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی ہے وہ یہ نبی نہیں۔ اگر یہ وہی نبی ہوتا تو قبلہ کو کیوں تبدیل کرتا۔ جو سب انبیاء کا قبلہ رہا ہے یا جو چیزیں حرام ہیں انہیں حلال کیوں بنا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے غلط قسم کے مسائل کو اصل بنیاد قرار دے کر مسلمان ہونے والوں کو برگشتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی ہی حرکات پر گرفت فرمائی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کافروں کا انجام ٭٭
اہل کتاب کے کافروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے جو حق سے دشمنی کرتے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے دوسرے لوگوں کو بھی پورے زور سے اسلام سے روکتے تھے باوجود یہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا انہیں یقینی علم تھا اگلے انبیاء اور رسولوں کی پیش گوئیاں اور ان کی بشارتیں ان کے پاس موجود تھیں نبی امی ہاشمی عربی مکی مدنی سید الولد آدم خاتم الانبیاء رسول رب ارض و سماء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ان کتابوں میں موجود تھا پھر بھی اپنی بےایمانی پر بضد تھے اس لیے ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں خوب دیکھ رہا ہوں تم کس طرح میرے نبیوں کی تکذیب کرتے ہو اور کس طرح خاتم الانبیاء کو ستاتے ہو اور کس طرح میرے مخلص بندوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہو میں تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہوں تمام برائیوں کا بدلہ دوں گا اس دن پکڑوں گا جس دن تمہیں کوئی سفارشی اور مددگار نہ ملے۔