ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 9

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوۡمٍ لَّا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُخۡلِفُ الۡمِیۡعَادَ ٪﴿۹﴾
اے ہمارے رب! بے شک تو سب لوگوں کو اس دن کے لیے جمع کرنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں، بے شک اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ En
اے پروردگار! تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ بھی شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا بے شک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا
En
اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کوایک دن جمع کرنے واﻻ ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ وعده خلافی نہیں کرتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اے ہمارے پروردگار! بلا شبہ تو ہی سب لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے [11] جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ تو کبھی اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا
[11] یعنی عقل صحیح رکھنے والے بھی اور ٹیڑھی سوچ رکھنے والے، متشابہات کے پیچھے پڑنے والے، خود گمراہ ہونے والے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والے مومن و مشرک سب کو اکٹھا کر کے اور ان پر حجت قائم کر کے ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ایمان بالآخرت، ایمان بالغیب کا ایسا اہم جزو ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدلنے میں موثر کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا یاددہانی کے طور پر اس نظریہ آخرت کو:
﴿ رَاسِخُوْنَ فِيْ الْعِلْمِ
اور مومنوں کی دعا کا حصہ بنا دیا گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔