اَفَغَیۡرَ دِیۡنِ اللّٰہِ یَبۡغُوۡنَ وَ لَہٗۤ اَسۡلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّ کَرۡہًا وَّ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
تو کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کچھ اور تلاش کرتے ہیں، حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے خوشی اور نا خوشی سے اسی کا فرماں بردار ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
En
کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں حالانکہ سب اہلِ آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرماں بردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
En
کیا وه اللہ تعالیٰ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حاﻻنکہ تمام آسمانوں والے اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے، سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 83) ➊ {طَوْعًا وَّ كَرْهًا:} اگر کوئی کہے کہ بہت سے انسان اللہ کے فرماں بردار ہیں ہی نہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ بھی فرماں بردار ہونے میں بے بس ہیں، ورنہ اپنا سانس یا دل کی دھڑکن یا بھوک و پیاس یا پیشاب و پاخانہ روک کر دکھائیں، ہاں اعمال سے متعلق انسان کو ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اور اسی سے متعلق باز پرس ہو گی۔
➋ { اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ:} یعنی جب آسمان و زمین کی ہر چیز، فرشتے، جن و انس وغیرہ اللہ کے قانون فطرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اختیاری و غیر اختیاری طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت {”دِيْنِ اللّٰهِ“} کو چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اگر آخرت میں نجات چاہتے ہیں تو اللہ کا دین جو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں اسے اختیار کر لیں۔ نیز دیکھیے سورۂ آل عمران (۸۵)۔
➋ { اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللّٰهِ يَبْغُوْنَ:} یعنی جب آسمان و زمین کی ہر چیز، فرشتے، جن و انس وغیرہ اللہ کے قانون فطرت کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اختیاری و غیر اختیاری طور پر اس کے حکم کے تابع ہیں تو یہ لوگ اس کے قانون شریعت {”دِيْنِ اللّٰهِ“} کو چھوڑ کر دوسرا راستہ کیوں اختیار کرتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اگر آخرت میں نجات چاہتے ہیں تو اللہ کا دین جو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں اسے اختیار کر لیں۔ نیز دیکھیے سورۂ آل عمران (۸۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
83۔ 1 جب آسمان اور زمین کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے باہر نہیں چاہے خوشی سے چاہے ناخوشی سے۔ تو پھر تم اس کے سامنے قبول اسلام سے کیوں گریز کرتے ہو؟ اگلی آیت میں ایمان لانے کا طریقہ بتلا کر (کہ ہر نبی اور ہر مُنَزل کتاب پر بغیر تفریق کے ایمان لانا ضروری ہے) پھر کہا جا رہا ہے کہ اسلام کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہوگا کسی اور دین کے پیروکاروں کے حصے میں سوائے کھانے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
83۔ کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی موجود ہے سب چار و ناچار اسی کے تابع فرمان (مسلم) ہیں اور سب [73] کو اسی کی طرف پلٹنا ہے
[73] اللہ کا دین کیا ہے؟
اللہ کا دین کیا ہے؟ اللہ کا دین صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینے کا نام ہے۔ کائنات کی ہر چیز زمین و آسمان، شمس و قمر، ستارے اور سیارے، فرشتے اور ہوائیں غرض جو چیز بھی موجود ہے خواہ یہ اطاعت اضطراری ہو یا اختیاری، بہرحال وہ اللہ کی مطیع فرماں ہے اور اس کے حکم سے سر مو تجاوز نہیں کر سکتی۔ انسانوں اور جنوں کو کسی حد تک فرمانبرداری اور نافرمانی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے مطالبہ صرف یہ ہے کہ جن کاموں میں انہیں تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے ان میں بھی وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں۔ یہی وہ دین ہے جو تمام انبیاء پر نازل ہوا اور اسی کی وہ تبلیغ و اشاعت کرتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسلامی اصول اور روز جزا ٭٭
اللہ تعالیٰ کے سچے دین کے سوا جو اس نے اپنی کتابوں میں اپنے رسولوں کی معرفت نازل فرمایا ہے یعنی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کی عبادت کرنا کوئی شخص کسی اور دین کی تلاش کرے اور اسے مانے اس کی تردید یہاں بیان ہو رہی ہے پھر فرمایا کہ آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی مطیع ہیں خواہ خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [13-الرعد:15] یعنی زمین و آسمان کی تمام تر مخلوق اللہ کے سامنے سجدے کرتی ہے اپنی خوشی سے یا جبراً
اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩» [16-النحل:48] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں
، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں۔
اور جگہ ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّـهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ وَلِلَّـهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِن دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۩» [16-النحل:48] کیا وہ نہیں دیکھتے کہ تمام مخلوق کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتی ہیں آسمانوں کی سب چیزیں اور زمینوں کے کل جاندار اور سب فرشتے کوئی بھی تکبر نہیں کرتا سب کے سب اپنے اوپر والے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور جو حکم دے جائیں بجا لاتے ہیں
، پس مومنوں کا تو ظاہر باطن قلب و جسم دونوں اللہ تعالیٰ کے مطیع اور اس کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور کافر بھی اللہ کے قبضے میں ہے اور جبراً اللہ کی جانب جھکا ہوا ہے اس کے تمام فرمان اس پر جاری رہیں اور وہ ہر طرح قدرت و مشیت اللہ کے ماتحت ہے کوئی چیز بھی اس کے غلبے اور قدرت سے باہر نہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں ایک غریب حدیث یہ بھی وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمانوں والے تو فرشتے ہیں جو بخوشی اللہ کے فرمان گزار ہیں اور زمین والے وہ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے ہیں یہ بھی بہ شوق تمام اللہ کے زیر فرمان ہیں، اور ناخوشی سے فرماں بردار وہ ہیں جو لوگ مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں میدان جنگ میں قید ہوتے ہیں اور طوق و زنجیر میں جکڑے ہوئے لائے جاتے ہیں یہ لوگ جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے،[طبرانی کبیر:11473:موضوع و باطل] ۱؎
ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔[صحیح بخاری:3010] ۱؎
اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے «وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» [31-لقمان:25] اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
ایک صحیح حدیث میں ہے تیرے رب کو ان لوگوں سے تعجب ہوتا ہے جو زنجیروں اور رسیوں سے باندھ کر جنت کی طرف کھینچے جاتے ہیں۔[صحیح بخاری:3010] ۱؎
اس حدیث کی اور سند بھی ہے، لیکن اس آیت کے معنی تو وہی زیادہ قوی ہیں جو پہلے بیان ہوئے، سیدنا مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت اس آیت جیسی ہے «وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» [31-لقمان:25] اگر تو ان سے پوچھ کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد وہ وقت ہے جب روز ازل ان سب سے میثاق اور عہد لیا تھا اور آخر کار سب اسی کی طرف لوٹ جائیں گے یعنی قیامت والے دن اور ہر ایک کو وہ اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
پھر فرماتا ہے تو کہہ ہم اللہ اور قرآن پر ایمان لائے اور ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب علیہم السلہم پر جو صحیفے اور وحی اتری ہم اس پر بھی ایمان لائے اور ان کی اولاد پر جو اترا اس پر بھی ہمارا ایمان ہے، اسباط سے مراد بنو اسرائیل کے قبائل ہیں جو سیدنا یعقوب علیہ السلام کی نسل میں سے تھے یہ سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد تھے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو توراۃ دی گئی تھی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل اور بھی جتنے انبیاء کرام علیہم السلہم اللہ کی طرف سے جو کچھ لائے ہمارا ان سب پر ایمان ہے ہم ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں کرتے یعنی کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں بلکہ ہمارا سب پر ایمان ہے اور ہم اللہ کے فرمان بردار ہیں پس اس امت کے مومن تمام انبیاء علیہم السلہم اور کل اللہ تعالیٰ کی کتابوں کو مانتے ہیں کسی کے ساتھ کفر نہیں کرتے، ہر کتاب اور ہر نبی کے سچا ماننے والے ہیں۔
پھر فرمایا کہ دین اللہ کے سوا جو شخص کسی اور راہ چلے وہ قبول نہیں ہو گا اور آخرت میں وہ نقصان میں رہے گا جیسے صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے [صحیح مسلم:1718] ۱؎
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آ کر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آ کر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے[مسند احمد:362/2:ضعیف] ۱؎ اور اس کے راوی حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن اعمال حاضر ہوں گے نماز آ کر کہے گی کہ اے اللہ میں نماز ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اچھی چیز ہے صدقہ آئے گا اور کہے گا پروردگار میں صدقہ ہوں جواب ملے گا تو بھی خیر پر ہے، روزہ آ کر کہے گا میں روزہ ہوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو بھی بہتری پر ہے پھر اسی طرح اور اعمال بھی آتے جائیں گے اور سب کو یہی جواب ملتا رہے گا پھر اسلام حاضر ہو گا اور کہے گا اے اللہ تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا تو خیر پر ہے آج تیرے ہی اصولوں پر سب کو جانچوں گا۔ پھر سزا یا انعام دوں گا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ» [3-آل عمران:85] یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہے[مسند احمد:362/2:ضعیف] ۱؎ اور اس کے راوی حسن کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سننا ثابت نہیں۔