مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّؤۡتِیَہُ اللّٰہُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوۡلَ لِلنَّاسِ کُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّیۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ کُوۡنُوۡا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡکِتٰبَ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۷۹﴾
کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو اور لیکن رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔
En
کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو
En
کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب وحکمت اور نبوت دے، یہ ﻻئق نہیں کہ پھر بھی وه لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وه تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ، تمہارے کتاب سکھانے کے باعﺚ اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 79) ➊ { مَا كَانَ لِبَشَرٍ …: } تورات و انجیل میں اہل کتاب کی تحریف بیان کرنے کے بعد اشارہ فرمایا ہے کہ انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی کے دعویٰ کی خاطر بھی تحریف کی گئی ہے، ورنہ نبی تو بشر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت ایسی صفات سے مشرف ہونے کے بعد ان کی طرف سے اپنے الٰہ (خدا) ہونے کا دعویٰ محال ہے۔ (رازی)
➋ پھر جب نبی کا یہ حق نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور ائمہ اس مرتبے پر کیسے فائز ہو سکتے ہیں اور انھیں یہ حق کیسے حاصل ہو گیا کہ اپنے مریدوں کو چوبیس گھنٹے اپنی صورت آنکھوں اور ذہن کے سامنے رکھنے کا حکم دیں اور ان سے یہ عہد لیں کہ میری ہر بات تمھیں ماننا ہو گی، صحیح معلوم ہو یا غلط اور جب مصیبت پیش آئے تو ہمیں یاد کرو گے۔ بتائیے خدائی اور کیا ہوتی ہے؟ نبی ہونے کی حیثیت سے انبیاء کی پیروی اور ان کا ہر حکم ماننا واجب ہوتا ہے، مشائخ اور ائمہ تو واجب الاتباع بھی نہیں ہوتے۔
➌ {كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ: } اس سے معلوم ہوا کہ عبد المسیح یا عبد الرسول یا عبد المصطفٰی نام رکھنا جائز نہیں۔
➍ { ”اَلرَّبَّانِيُّ“ } لفظ ”رب“ پر الف نون بڑھا کر یاء نسبت کی لگا دی گئی ہے اور اس کے معنی عالم باعمل کے ہیں۔ مبرّد فرماتے ہیں کہ یہ {”رَبَّهُ يَرُبُّهُ فَهُوَ رَبَّانُ “} ہے، یعنی صیغہ صفت۔ {”رَبَّانُ “ } کے ساتھ ”یاء “ ملائی گئی ہے۔(فتح البیان) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، آیت: «كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ» کا معنی ہے حکماء، فقہاء بنو اور کہا: ”کہا جاتا ہے ”الربانی“ وہ ہے جو علم کی بڑی باتوں سے پہلے اس کی چھوٹی باتوں کے ساتھ لوگوں کی تربیت کرے۔“ [بخاری، العلم، باب العلم قبل القول والعمل …، بعد ح: ۶۷]
➎ { بِمَا كُنْتُمْ:} اس میں ”باء“ برائے سببیت ہے، چونکہ تم تعلیم و دراست کا مشغلہ رکھتے ہو، اس لیے تمھیں عالم باعمل اور اللہ کے عبادت گزار بندے بننا چاہیے۔ (بیضاوی)
➏ { كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ہاں، تم کو (اے اہل کتاب!) یہ کہنا ہے کہ تم میں جو آگے دین داری تھی، یعنی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا، وہ اب نہیں رہی اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔“ (موضح) اور یہ بات اب قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
➐ کسی شخص میں اگر علم اور کتب الٰہیہ کے پڑھنے پڑھانے سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی خصلت پیدا نہیں ہوتی تو یہ مشغلہ وقت ضائع کرنا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے، آپ دعا کیا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ] [مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الأدعیۃ: ۲۷۲۲] ”اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔“ (فتح البیان)
➋ پھر جب نبی کا یہ حق نہیں کہ لوگ اس کی عبادت کریں تو دوسرے مشائخ اور ائمہ اس مرتبے پر کیسے فائز ہو سکتے ہیں اور انھیں یہ حق کیسے حاصل ہو گیا کہ اپنے مریدوں کو چوبیس گھنٹے اپنی صورت آنکھوں اور ذہن کے سامنے رکھنے کا حکم دیں اور ان سے یہ عہد لیں کہ میری ہر بات تمھیں ماننا ہو گی، صحیح معلوم ہو یا غلط اور جب مصیبت پیش آئے تو ہمیں یاد کرو گے۔ بتائیے خدائی اور کیا ہوتی ہے؟ نبی ہونے کی حیثیت سے انبیاء کی پیروی اور ان کا ہر حکم ماننا واجب ہوتا ہے، مشائخ اور ائمہ تو واجب الاتباع بھی نہیں ہوتے۔
➌ {كُوْنُوْا عِبَادًا لِّيْ: } اس سے معلوم ہوا کہ عبد المسیح یا عبد الرسول یا عبد المصطفٰی نام رکھنا جائز نہیں۔
➍ { ”اَلرَّبَّانِيُّ“ } لفظ ”رب“ پر الف نون بڑھا کر یاء نسبت کی لگا دی گئی ہے اور اس کے معنی عالم باعمل کے ہیں۔ مبرّد فرماتے ہیں کہ یہ {”رَبَّهُ يَرُبُّهُ فَهُوَ رَبَّانُ “} ہے، یعنی صیغہ صفت۔ {”رَبَّانُ “ } کے ساتھ ”یاء “ ملائی گئی ہے۔(فتح البیان) صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، آیت: «كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ» کا معنی ہے حکماء، فقہاء بنو اور کہا: ”کہا جاتا ہے ”الربانی“ وہ ہے جو علم کی بڑی باتوں سے پہلے اس کی چھوٹی باتوں کے ساتھ لوگوں کی تربیت کرے۔“ [بخاری، العلم، باب العلم قبل القول والعمل …، بعد ح: ۶۷]
➎ { بِمَا كُنْتُمْ:} اس میں ”باء“ برائے سببیت ہے، چونکہ تم تعلیم و دراست کا مشغلہ رکھتے ہو، اس لیے تمھیں عالم باعمل اور اللہ کے عبادت گزار بندے بننا چاہیے۔ (بیضاوی)
➏ { كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ:} شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ہاں، تم کو (اے اہل کتاب!) یہ کہنا ہے کہ تم میں جو آگے دین داری تھی، یعنی کتاب کا پڑھنا اور سکھانا، وہ اب نہیں رہی اب میری صحبت میں پھر وہی کمال حاصل کرو۔“ (موضح) اور یہ بات اب قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
➐ کسی شخص میں اگر علم اور کتب الٰہیہ کے پڑھنے پڑھانے سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی خصلت پیدا نہیں ہوتی تو یہ مشغلہ وقت ضائع کرنا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے، آپ دعا کیا کرتے تھے: [اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَّا يَنْفَعُ] [مسلم، الذکر والدعاء، باب فی الأدعیۃ: ۲۷۲۲] ”اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔“ (فتح البیان)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79۔ 1 یہ عیسائیوں کے ضمن میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا بنایا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک انسان تھے جنہیں کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔ ایسا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے پجاری اور بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ رب والے بن جاؤ رَبَّانِیُّ رب کی طرف منسوب ہے، الف اور نون کا اضافہ مبالغہ کے لئے ہے۔ (فتح القدیر) 79۔ 2 یعنی کتاب اللہ کی تعلیم و تدریس کے نتیجے میں رب کی شناخت اور رب سے خصوصی ربط وتعلق قائم ہونا چاہئے، اسی طرح کتاب اللہ کا علم رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو بھی قرآن کی تعلیم دے۔ اس آیت سے واضح ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دیں، تو کسی اور کو یہ کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ کسی شخص کا یہ حق نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت عطا کرے پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے [69] بندے بن جاؤ، بلکہ (وہ تو یہ کہے گا کہ) تم اللہ والے [70] بن جاؤ کیونکہ جو کتاب تم لوگوں کو سکھلاتے ہو اور خود بھی پڑھتے ہو (اس کی تعلیم کا یہی تقاضا ہے)
[69] کسی مخلوق کو خدائی کے مقام تک لے جانے والا کام کبھی پیغمبر کا نہیں ہو سکتا:۔
اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کئی اقوال ہیں اور وہ سب ہی درست معلوم ہوتے ہیں مثلاً ان میں سے ایک یہ ہے، جب نجران کے عیسائی آپ سے بحث و مناظرہ کرنے آئے تو یہود ان کے ساتھ مل گئے اور طنزاً آپ سے کہنے لگے کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی پرستش کیا کریں۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور تیسرا یہ قول ہے کہ کسی صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ رومی اور ایرانی اپنے اپنے بادشاہوں کو سجدہ کیا کرتے ہیں کیا ہم بھی آپ کو سلام کے بجائے سجدہ نہ کریں؟ تو آپ نے اس بات سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اللہ کے سوا اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا بیوی پر بہت حق ہے۔
[ترمذی، ابواب الرضاع والطلاق، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ]
تب یہ آیت نازل ہوئی۔ جو کچھ بھی ہو اس آیت میں ایسی تمام باتوں کی جامع تردید ہے جو مختلف قوموں نے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کر دی ہیں۔ جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کر دیا گیا ہے کہ کوئی ایسی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھاتی اور بندے کو خدا کے مقام تک لے جاتی ہو، وہ ہرگز کسی پیغمبر کی تعلیم نہیں ہو سکتی اور جہاں کسی مذہبی کتاب میں کوئی ایسی بات پائی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ گمراہ کن عقیدہ لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔
[ترمذی، ابواب الرضاع والطلاق، باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ]
تب یہ آیت نازل ہوئی۔ جو کچھ بھی ہو اس آیت میں ایسی تمام باتوں کی جامع تردید ہے جو مختلف قوموں نے پیغمبروں کی طرف منسوب کر کے اپنی مذہبی کتابوں میں شامل کر دی ہیں۔ جن کی رو سے کوئی پیغمبر یا فرشتہ معبود قرار پاتا ہے۔ ان آیات میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کر دیا گیا ہے کہ کوئی ایسی تعلیم جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی سکھاتی اور بندے کو خدا کے مقام تک لے جاتی ہو، وہ ہرگز کسی پیغمبر کی تعلیم نہیں ہو سکتی اور جہاں کسی مذہبی کتاب میں کوئی ایسی بات پائی جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ گمراہ کن عقیدہ لوگوں کی تحریفات کا نتیجہ ہے۔
[70] نبی کا اپنی پرستش کے لیے کہنا نا ممکن ہے:۔
یہودیوں کے وہ علماء جو مذہبی عہدہ دار ہوتے تھے۔ ربانی کہلاتے تھے۔ ان کا کام مذہبی امور میں لوگوں کی رہنمائی کرنا اور عبادات کا قیام اور احکام دین کا اجرا کرنا ہوتا تھا۔ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ نبی کا کام یہ نہیں ہوتا کہ پہلے لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دے۔ پھر جب وہ اس کی اطاعت کرنے لگیں تو ان سے اپنی پرستش کرانا شروع کر دے بلکہ اس کا کام ربانی قسم کے لوگ تیار کرنا ہوتا ہے اور جو کتاب اسے دی جاتی ہے اور جسے تم لوگ پڑھتے پڑھاتے ہو اس کا بھی یہی تقاضا ہوتا ہے۔ کیونکہ انبیاء کا کام کفر و شرک کو مٹانا ہوتا ہے۔ پھیلانا نہیں ہوتا اور انبیاء یا کسی دوسرے کو رب بنا لینے سے بڑھ کر کفر و شرک کی اور کیا بات ہو سکتی ہے؟
علماء کو رب بنانے کا مطلب:۔
واضح رہے کہ اپنے علماء و مشائخ کی باتوں کے سامنے بلا تحقیق سر تسلیم کر دینا بھی انہیں اپنا رب قرار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب یہ آیت:
﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾
نازل ہوئی تو حضرت عدی بن حاتمؓ (جو پہلے عیسائی تھے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم نے اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں بنا رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ بات نہ تھی کہ جس چیز کو وہ حلال کہتے تم اسے حلال اور جسے وہ حرام کہتے تم اسے حرام تسلیم کرتے تھے؟ عدی بن حاتمؓ کہنے لگے ہاں یہ بات تو تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی رب بنانا ہوتا ہے۔“
[ترمذی ابواب التفسیر، زیر تفسیر آیت مذکورہ]
﴿ اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ﴾
نازل ہوئی تو حضرت عدی بن حاتمؓ (جو پہلے عیسائی تھے) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم نے اپنے علماء و مشائخ کو رب تو نہیں بنا رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا: کیا یہ بات نہ تھی کہ جس چیز کو وہ حلال کہتے تم اسے حلال اور جسے وہ حرام کہتے تم اسے حرام تسلیم کرتے تھے؟ عدی بن حاتمؓ کہنے لگے ہاں یہ بات تو تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی رب بنانا ہوتا ہے۔“
[ترمذی ابواب التفسیر، زیر تفسیر آیت مذکورہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مقصد نبوت ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب یہودیوں اور نجرانی نصرانیوں کے علماء جمع ہوئے اور آپ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی تو ابو رافع قرظی کہنے لگا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح نصرانیوں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی ہم بھی آپ کی عبادت کریں؟ تو نجران کے ایک نصرانی نے بھی جسے“آئیس“ کہا جاتا تھا یہی کہا کہ کیا آپ کی یہی خواہش ہے؟ اور یہی دعوت ہے؟ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا معاذاللہ نہ ہم خود اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دوسرے کی پوجا نہ کریں نہ کسی اور کو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی تعلیم دیں نہ میری پیغمبری کا یہ مقصد نہ مجھے اللہ حاکم اعلیٰ کا یہ حکم، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں،[تفسیر ابن جریر الطبری:7694:ضعیف] ۱؎
کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پا لینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لیے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے
کہ کسی انسان کو کتاب و حکمت اور نبوت و رسالت پا لینے کے بعد یہ لائق ہی نہیں کہ اپنی پرستش کی طرف لوگوں کو بلائے، جب انبیائے کرام کا جو اتنی بڑی بزرگی فضیلت اور مرتبے والے ہیں یہ منصب نہیں تو کسی اور کو کب لائق ہے کہ اپنی پوجا پاٹ کرائے، اور اپنی بندگی کی تلقین لوگوں کو کرے، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ادنی مومن سے بھی یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنی بندگی کی دعوت دے، یہاں یہ اس لیے فرمایا یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ہی ایک دوسرے کو پوجتے تھے
قرآن شاہد ہے جو فرماتا ہے «اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ» [9-التوبة:31] یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ اپنے عالموں اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا ہے۔ مسند ترمذی کی وہ حدیث بھی آ رہی ہے کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کیوں نہیں؟ وہ ان پر حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دیتے تھے اور یہ ان کی مانتے چلے جاتے تھے یہی ان کی عبادت تھی [سنن ترمذي:3095،قال الشيخ الألباني:حسن] ۱؎
پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لیے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیرخواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمٰن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں «تَعلَمُونَ» اور «تُعَلِّمُونَ» دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، «تَدْرُسُونَ» کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔
پس جاہل درویش اور بےسمجھ علماء اور مشائخ اس مذمت اور ڈانٹ ڈپٹ میں داخل ہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اتباع کرنے والے علماء کرام اس سے یکسو ہیں اس لیے کہ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فرمان اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کاموں سے روکتے ہیں جن سے انبیاء کرام روک گئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء تو خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کی امانت احتیاط کے ساتھ بندگان رب عالم کو پہنچا دیتے ہیں نہایت بیداری، مکمل ہوشیاری، کمال نگرانی اور پوری حفاظت کے ساتھ وہ ساری مخلوق کے خیرخواہ ہوتے ہیں وہ احکام رب رحمٰن کے پہچاننے والے ہوتے ہیں۔ رسولوں کی ہدایت تو لوگوں کو ربانی بننے کی ہوتی ہے کہ وہ حکمتوں والے علم والے اور حلم والے بن جائیں سمجھدار، عابد و زاہد، متقی اور پارسا ہیں۔
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن سیکھنے والوں پر حق ہے کہ وہ با سمجھ ہوں «تَعلَمُونَ» اور «تُعَلِّمُونَ» دونوں قرأت ہیں پہلے کے معنی ہیں معنی سمجھنے کے دوسرے کے معنی ہیں تعلیم حاصل کرنے کے، «تَدْرُسُونَ» کے معنی ہیں الفاظ یاد کرنے کے۔
پھر ارشاد ہے کہ وہ یہ حکم نہیں کرتے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو خواہ وہ نبی ہو بھیجا ہوا خواہ فرشتہ ہو قرب الہ والا، یہ تو وہی کر سکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت کی دعوت دے اور جو ایسا کرے وہ کافر ہو اور کفر نبیوں کا کام نہیں ان کا کام تو ایمان لانا ہے اور ایمان نام ہے اللہ واحد کی عبادت اور پرستش کا، اور یہی نبیوں کی دعوت ہے، جیسے خود قرآن فرماتا ہے «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں تم سب میری عبادت کرتے رہو
اور فرمایا «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:43] تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لیے کسی اور کو مقرر کیا تھا؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ «وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔
اور فرمایا «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] یعنی ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا ہر کسی کی عبادت سے بچو، ارشاد ہے «وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ» [43-الزخرف:43] تجھ سے پہلے تمام رسولوں سے پوچھ لو کیا ہم نے اپنی ذات رحمان کے سوا ان کی عبادت کے لیے کسی اور کو مقرر کیا تھا؟ فرشتوں کی طرف سے خبر دیتا ہے کہ «وَمَن يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَـٰهٌ مِّن دُونِهِ فَذَٰلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ» [21-الأنبياء:29] ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ میں معبود ہوں بجز اللہ تو اسے بھی جہنم کی سزا دیں اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔